BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 01 February, 2007, 17:08 GMT 22:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لیز پر سٹیل ملز کی اراضی دستیاب

سٹیل ملز مزدور
سپریم کورٹ نے سٹیل ملز کی نجکاری کو کارکنوں کی درخواست پر کالعدم قرار دیا تھا
حکومت پاکستان نے سٹیل ملز کا چودہ سو ایکڑ سے زائد رقبہ مختلف صنعتی مقاصد کے لیے لیز (پٹہ) پر دینے کی منظوری دے دی ہے۔

جمعرات کو کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد بریفنگ دیتے ہوئے وزیر اعظم کے مشیر برائے اقتصادی امور ڈاکٹر اشفاق حسن خان نے بتایا کہ سٹیل ملز کی ملکیتی اراضی میں سے 1423 ایکڑ لیز پر دی جائے گی۔

اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت وزیر اعظم شوکت عزیز نے کی۔

ڈاکٹر اشفاق کا کہنا تھا کہ سٹیل ملز کی دو سو اکانوے ایکڑ زمین لیز پر دے رکھی تھی جبکہ چار سو تئیس ایکڑ مزید زمین لیز پر دینے کے لیے مختص تھی اور اب ایک ہزار ایکڑ غیر ترقیاتی زمین بھی اسی طرح استعمال میں لائی جائے گی۔

وزیراعظم کے مشیر کے مطابق غیر ترقیاتی زمین کا فی ایکڑ ستر لاکھ روپے میں لیز پر دیا جائے گا اور لیز حاصل کرنے والا مجاز حکام کی پیشگی اجازت کے بغیر کسی کو بیچ نہیں سکے گا۔

واضح رہے کہ حکومت نے گزشتہ برس ملک میں فولاد بنانے والے سب سے بڑے کارخانے سٹیل ملز کی اکیس ارب روپوں کے عوض کی نجکاری کر دی تھی۔

مشکوک نجکاری
 حکومت نے سٹیل ملز سستے داموں فروخت کر کے خریداروں کو فائدہ پہنچایا ہے
عدالت

تاہم کارکنوں نے سٹیل مل کی فروخت کو سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیلنج کیا تھا اور دونوں طرف کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے سٹیل ملز کی نجکاری کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ حکومت نے سٹیل ملز سستے داموں فروخت کر کے خریداروں کو فائدہ پہنچایا ہے۔

حزب مخالف کی سیاسی جماعتوں نے بھی نجکاری پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ سٹیل ملز کی ملکیتی انیس ہزار ایکڑ اراضی کی قیمت ہی اکیس ارب روپے سے زائد ہے۔

انہوں نے پارلیمان میں حکومت پر یہ الزام بھی لگایا تھا کہ سٹیل ملز کے خریداروں میں شامل عارف حبیب وزیراعظم شوکت عزیز کے دوست ہیں، جو بعد میں سٹیل ملز کی زمین بیچیں گے۔

حکومت نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی اپیل دائر کر رکھی ہے۔ بعض قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت سٹیل ملز کی زمین عدالت کا حتمی فیصلہ آنے یا نظر ثانی کی درخواست واپس لینے تک نہیں بیچ سکتی۔

کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی میں کیے گئے دوسرے فیصلوں کے بارے میں بتایا گیا کہ گوادر پورٹ کا انتظام و انصرام سنگاپور کی ایک فرم کو ٹھیکے پر دینے کا فیصلہ پہلے ہی ہو چکا تھا، جس کی اب باضابطہ منظوری دے دی گئی ہے۔

اس معاہدے کے تحت سنگاپور کی کمپنی کو بیس برس تک کارپوریٹ انکم ٹیکس کی چھوٹ ہوگی، جبکہ متعلقہ کمپنی جو بھی آلات و مشینری درآمد کرے گی اس میں امپورٹ ڈیوٹی کی مد میں چالیس برس تک چھوٹ ہوگی۔

کہا جا رہا ہے کہ سنگاپور کی کمپنی گوادر میں پچپن کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد