BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’تینتیس برس ہو گئے معاوضہ نہیں ملا‘

بے دخل خاندان کے سربراہ سید خدا ڈنو شاہ نے بتایا کہ تنیتیس برس تک انہیں اپنی زمینوں کا معاوضہ تک نہیں ملا
آج جس جگہ پاکستان کی سٹیل ملز کا پلانٹ اور ملازمین کی رہائشی کالونی واقع ہے وہاں سے انیس سو تہتر میں پندرہ دیہات میں سے سات سو خاندانوں کو بے دخل کیا گیا۔

یہ بات بے دخل ہونے والے ایک خاندان کے سربراہ سید خدا ڈنو شاہ نے بی بی سی کو بتائی اور کہا کہ ان کے مکان، قبرستان، کنویں، مساجد، تعلیم اور صحت کے ادارے بھی تباہ ہوگئے اور تنیتیس برس تک انہیں اپنی زمینوں کا معاوضہ تک نہیں ملا۔

سٹیل ملز کے سامنے رزاق آباد نامی بستی میں چار پائی پر بیٹھے خدا ڈنو کے ہاتھ میں دو فائلیں تھیں جس میں انیس سو تہتر سے تاحال سٹیل ملز انتظامیہ کے ساتھ خط و کتابت کے تمام خط انہوں نے اچھی طرح سنبھال کے رکھے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انیس سو تہتر میں جن پندرہ دیہات کو ختم کیا گیا وہاں تین پرائمری سکول اور ایک ڈسپینسری تھی اور سٹیل ملز والوں نے کہا کہ وہ انہیں متعلقہ سہولیات فراہم کریں گے لیکن ان کے مطابق انہیں ہر کچے گھر کا معاوضہ پانچ سو سے ایک ہزار اور پکے گھر کا پندرہ سو روپے دیا گیا اور ایک سو بیس گز کا ہر متاثرہ خاندان کو پلاٹ ملا۔

خدا ڈنو نے 1973 سے تاحال مل انتظامیہ کے ساتھ خط و کتابت کے تمام خط سنبھال کے رکھے ہیں

ان کے مطابق سٹیل مل انتظامیہ نے پلاٹ کی قیمت مکانوں کے معاوضے میں سے منہا کرکے بقایا رقم انہیں دی لیکن سکول اور ڈسپینسری وعدے کے باوجود نہیں بناکر دیے۔ انہوں نے بتایا کہ ملز انتظامیہ نے جہاں انہیں منتقل کیا وہاں پانی کا ایک غیر قانونی کنیکشن دلوایا جو چند روز بعد پانی کی فراہمی سے متعلقہ ادارے نے کاٹ دیا۔

خدا ڈنو شاہ کے مطابق انیس سو تہتر میں زرعی زمین کے پانچ سو کھاتہ دار تھے جو اب بٹوارے کے بعد بائیس سو ہوچکے ہیں۔

ان کے مطابق سٹیل ملز نے انہیں ایک روپیہ فی گز زمین کا معاوضہ دیا جس پر زمینداروں نے اعتراض کیا اور عدالت میں گئے۔

انہوں نے بتایا کہ عدالت نے یہ معاوضہ سات روپے فی گز طے کیا لیکن سٹیل ملز نے اس فیصلے کو چیلنج کیا اور تاحال معاملہ ہائی کورٹ میں لٹکا ہوا ہے اور انہیں رقم نہیں ملی۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ سٹیل ملز انتظامیہ نئے رہائشی منصوبوں میں متاثرین کو بھی پلاٹ دیں تاکہ وہ اپنا مکان بنا سکیں۔

انہوں نے کہا کہ انیس سو تہتر میں انہیں ایک سو بیس گز کا پلاٹ ملا لیکن اب ان کے پوتے بھی جوان ہوچکے ہیں اور جس گھر میں پہلے ایک خاندان تھا اب پانچ سے سات خاندان ہوچکے ہیں اور وہ ایک سو بیس گز کے مکان میں کیسے گزارا کرسکتے ہیں۔

ایک اور متاثرہ شخص ساٹھ سالہ صوبن جوکھیو نے بتایا کہ ان کا تو وکیل ہی اب مرگیا ہے اور مقدمہ لڑنے کی ان میں اب سکت ہی نہیں۔

انیس سو تہتر میں پندرہ دیہات میں سے سات سو خاندانوں کو بے دخل کیا گیا

انہوں نے بتایا کہ سٹیل ملز انتظامیہ کے ساتھ طے پایا تھا کہ بے دخل ہونے والے اور مقامی افراد کو روزگار ملے گا لیکن انتظامیہ نے تینتیس برسوں میں بائیس ہزار ملازم رکھے جس میں متاثرہ خاندانوں کے پینتیس افراد شامل تھے۔

سومار ڈوکی نامی ایک بزرگ نے بتایا کہ وہ انیس سو تہتر میں سٹیل ملز میں ڈرائیور بھرتی ہوئے اور چار برس قبل انہیں ملازمت سے فارغ کرنے کی دھمکی ملی تو انہوں نے ’گولڈن ہینڈ شیک‘ قبول کرلیا۔

ان کے مطابق اب انہیں چار ہزار روپے پینشن ملتی ہے جس سے ان کی دوائی کے اخراجات بھی بمشکل پور
ہوتے ہیں۔

عالم شیر گبول نامی متاثرہ شخص نے بتایا کہ ان کے ساتھ طے پایا تھا کہ سٹیل مل کے زیادہ تر ملازمین متاثرہ خاندانوں سے بھرتی ہوں گے اور ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد ان کے بچوں کو ملازمت ملے گی لیکن انہوں نے کہا کہ نہ تو بیشترمتاثرین اور نہ ہی ان کے بچوں کو ملازمت ملی ۔

اس بارے میں مل کی انتظامیہ کہتی ہے کہ انہوں نے متاثرین کو مکانوں کا طے شدہ معاوضہ دے دیا تھا اور سب نے بخوشی قبول کیا تھا تاہم ان کے مطابق زمینوں کے معاوضے کی رقم کا معاملہ عدالت میں ہے اور رقم بھی عدالت میں جمع ہے۔

 سٹیل کی صنعت سے وابستہ افراد کہتے ہیں کہ سٹیل ملز جب روزانہ تین کروڑ روپے کی پیداوار دے رہی ہے تو اُسے نجی شعبے کے حوالے نہ کیا جائے اور اگر نجی شعبے کو دینی ہے تو مزدوروں کو دی جائے جو حکومت کی قیمت فروخت یعنی اکیس ارب سڑسٹھ کروڑ روپے سے زیادہ قیمت پر خریدنے کے لیئے تیار ہیں

سٹیل ملز کی متنازعہ نجکاری تو سپریم کورٹ نے منسوخ کردی اب دیکھنا یہ ہے کہ عدالت کے تفصیلی فیصلے کے بعد حکومت کیا فیصلہ کرتی ہے۔

بیشتر مزدوروں اور سٹیل کی صنعت سے وابستہ افراد کہتے ہیں کہ سٹیل ملز جب روزانہ تین کروڑ روپے کی پیداوار دے رہی ہے تو اُسے نجی شعبے کے حوالے نہ کیا جائے اور اگر نجی شعبے کو دینی ہے تو مزدوروں کو دی جائے جو حکومت کی قیمت فروخت یعنی اکیس ارب سڑسٹھ کروڑ روپے سے زیادہ قیمت پر خریدنے کے لیئے تیار ہیں۔

پاکستان سٹیلاصل خریدار کون ہے
پاکستان سٹیل دراصل کس نے خریدی ہے؟
چیئرمین سٹیل ملزسٹیل کہانی 2
’خسارے کی وجہ مزدور نہیں بلکہ اعلیٰ انتظامیہ‘
سٹیل کہانیسٹیل کہانی 3
’اربوں روپے کی زمین کوڑیوں کے مول لیز پر‘
 سٹیل ملز نجکاری کی منظوری
سٹیل ملز کی نجکاری کی از سرِ نو منظوری
سٹیل ملز کی نجکاری
پہنچی وہیں پہ خاک، جہاں کا ۔ ۔۔۔
اسی بارے میں
سٹیل کہانی: اربوں روپے کی زمین
14 August, 2006 | قلم اور کالم
سٹیل کہانی: خسارہ اور کرپشن
13 August, 2006 | قلم اور کالم
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد