سٹیل کہانی: خسارہ اور کرپشن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان سٹیل ملز کی نجکاری کی ایک بڑی وجہ اس کے خسارے میں رہنا بتائی جاتی ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تین کروڑ روپے روزانہ کی پیداوار دینے والی یہ ملز آخر کار کیوں خسارے میں رہی؟ اس بارے میں موجودہ چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل ( ر) عبدالقیوم کا کہنا ہے کہ سٹیل ملز انیس سو پچاسی سے پچانوے تک انیس ارب روپوں کے خسارے میں چلی گئی لیکن صدر جنرل پرویز مشرف کے اقتدار سنبھالنے کے بعد رفتہ رفتہ ملز کی انتظامیہ نے مزدوروں کو اعتماد میں لے کر پیداوار بڑھائی اور تیرہ ارب روپے کا قرضہ ادا کردیا اور یہ ملز اب منافع میں چل رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اب صرف سود کے مد میں سات ارب روپے باقی ہیں جس پر سود در سود کی رقم وفاقی حکومت ادا کرتی ہے اور سود کی اصل سات ارب روپے کی رقم سٹیل ملز کو سن دو ہزار تیرہ تک ادا کرنی ہے۔ تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ سٹیل ملز کے خسارے کی وجہ مزدور نہیں بلکہ اعلیٰ انتظامیہ ہے۔ ان کے مطابق مرکزی حکومت کی سطح پر کبھی اضافی ملازموں کی بھرتیوں سمیت مختلف نوعیت کی سیاسی مداخلت ہوئی تو کبھی حکمرانوں کے کاروباری مفادات کی وجہ سے اس ملز کو خسارہ اٹھانا پڑا۔ انہوں نے سٹیل ملز کے خسارے میں رہنے کی ایک بڑی وجہ بدعنوانی کو قرار دیا اور کہا کہ ماضی میں بدانتظامی، خام مال کی خریداری اور تیار مال کی بِکری میں گھپلوں کے علاوہ ڈیلرز اور ملز انتظامیہ کی ملی بھگت سے بھی ملز کو خاصا نقصان پہنچا۔ عبدالقیوم نے بالواسطہ اپنی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اب وہ ہی مزدور ہیں اور بیشتر افسر بھی وہ ہی ہیں اور صرف ٹاپ مینجمنٹ تبدیل ہوئی اور ملز منافع دے رہی ہے۔
موجودہ چیئرمین نے کہا کہ سٹیل ملز کو منافع میں لانے میں ان سے پہلے رہنے والے چیئرمین کرنل ریٹائرڈ محمد افضل کا بڑا اہم کردار ہے۔ ان کے مطابق اصل میں اداروں کو کامیابی سے چلانے کے لیے اہل قیادت، قوت اِرادی اور نیک نیتی کا ہونا لازمی ہے۔ چیئرمین کا موقف اپنی جگہ لیکن اس بارے میں ایک ڈیلرز ایسو سی ایشن کے نمائندے ممریز خان نے بتایا کہ تیس برس میں سٹیل ملز جوکہ میٹلرجیکل پلانٹ ہے اس کا صرف ایک میٹلرجیکل انجنیئر چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل ( ر) شجاعت علی بخاری اور ایک الیکٹریکل انجنیئر سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ( ر) صبیح الدین رہے جبکہ باقی سب غیر فنی افراد کو وفاقی حکومت نے چیئرمین نامزد کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سٹیل ملز میں تاحال بارہ ارب روپے کی کرپشن ہوئی ہے جس میں چیئرمین اور ڈیلر سب شامل ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ ان پر بھی بدعنوانی کے الزامات ہیں اور مقدمہ بھی بنا تو ممریز خان نے کہا کہ وہ تو چاہتے ہیں کہ احتساب بیورو تمام بدعنوان افراد کو گرفتار کرے تو دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوجائے گا۔ ان کے مطابق بدعنوان افراد کے خلاف صرف ملک معراج خالد کے دور میں مقدمات بنے جس میں سے صرف چند گنے چنے مقدمات میں سے قومی احتساب بیورو نے چھپن کروڑ روپے کی وصولی کی اور باقی مقدمات جوں کے توں پڑے ہیں۔ اس بارے میں ایک سوال پر موجودہ چیئرمین نے کہا کہ ماضی میں بیشتر چیئرمینز کے خلاف سیاسی بنیادوں پر مقدمات بنے اور کچھ پر بدعنوانی کے حقیقی مقدمات بھی قائم ہوئے۔ ان کے مطابق حکمرانوں، ملز کی اعلیٰ انتظامیہ اور ڈیلرز میں سے جسے بھی موقع ملا اس نے ملز کو لوٹنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ڈیلرز اخبار نویسوں کو پیسے دے کر اخبارات میں خبریں شائع کراتے ہیں۔
جب ان سے پوچھا کہ انہوں نے بلیک میلر ڈیلرز میں سے کسی کو ’بلیک لسٹ‘ کیوں نہیں کیا گیا اور ملز کو نقصان پہنچانے والے دیگر افراد کے خلاف کارروائی کیوں نہیں ہوئی تو چیئرمین کا کہنا تھا کہ بعض افراد کے خلاف کارروائی کی ہے۔ تاہم اس کی تفصیل انہوں نے نہیں بتائی۔ اس بارے میں سٹیل ملز میں مزدور تنظیموں کی ایکشن کمیٹی کے سرکردہ رہنما عبدالستار بٹ کا کہنا ہے کہ ملز میں اربوں روپے کی کرپشن کے ذمہ دار سابق اور موجودہ چیئرمین ہی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ موجودہ چیئرمین ’چور مین‘ ہیں اور جب سے ملز کی نجکاری کی بات چلی ہے وہ بغیر ٹینڈر دیئے سڑکوں اور دیگر غیر ضروری منصوبوں پر اور اپنے آپ کو ’پروموٹ‘ کرنے کے لیئے تقریبات پر رقم خرچ کر رہے ہیں۔ ( آئندہ قسط میں آپ پڑھ سکیں گے کہ سٹیل ملز کے لیے انیس ہزار ایکڑ اراضی جو حاصل کی گئی وہ کس کس مقصد کے لیے استعمال ہوئی اور زمین کے مالکان کو تینتیس برس گزرنے کے بعد بھی معاوضہ کیوں نہیں مل پایا)۔ |
اسی بارے میں سٹیل ملز کیس: اپوزیشن کا ہنگامہ10 August, 2006 | پاکستان ’نجکاری میں قابلِ اعتراض عجلت‘08 August, 2006 | پاکستان سٹیل مل: ازسرِنو نجکاری منظور02 August, 2006 | پاکستان ’میگا کرپشن آف مشرف گورنمنٹ‘ 26 July, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||