BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 14 August, 2006, 08:03 GMT 13:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سٹیل کہانی: اربوں روپے کی زمین

سٹیل ملز
’سٹیل ملز کے خسارے میں رہنے کی ایک بڑی وجہ بدعنوانی ہے‘
پاکستان سٹیل ملز کی متنازعہ نجکاری کے دوران ملز کی اربوں روپے کی مالیت کی زمین کا بھی خاصا چرچا رہا اور اس بارے میں جب ملز کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل ( ر) عبدالقیوم سے دریافت کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ ملز کی کل زمین انیس ہزار ایکڑ ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ سندھ حکومت سے انیس سو تہتر میں یہ زمین لیز پر حاصل کی گئی جس میں سے ساڑھے چار ہزار ایکڑ کے رقبے پر پلانٹ پھیلا ہوا ہے اور دس ہزار ایکڑ رہائشی مقصد کے لیئے مختص ہے جبکہ چوبیس سو ایکڑ سٹیل ملز کی پیداوار استعمال کرنے والی صنعتوں یا ’ڈاؤن سٹریم انڈسٹری‘ کے لیئے ہے۔

اس سوال پر کہ اس کے باوجود بھی سٹیل ملز کے پاس اکیس سو ایکڑ زمین فالتو ہے، انہوں نے کہا کہ فالتو زمین نہیں ہے کیونکہ خام مال کے گودام وغیرہ کے لیئے بقایا زمین استعمال ہوتی ہے۔

چیئرمین نے بتایا کہ سٹیل ملز پاک سوزوکی موٹرز، ہنڈا موٹرز، التوارقی سٹیل ملز اور دیگر تینتیس ’ڈاؤن سٹریم انڈسٹریز‘ کو زمین دے چکی ہے جبکہ چھیاسٹھ مختلف صنعتیں لگانے کے لیئے درخواستیں ان کے پاس موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ قانون کے مطابق انہیں حق حاصل ہے کہ وہ اپنی زمین ’سب لیز‘ کر سکتے ہیں۔

اس سوال پر کہ سٹیل ملز کی پیداوار استعمال کرنے والی صنعتوں کو زمین دینے کا قانون کے طور پر ملز انتظامیہ کو حق حاصل ہے لیکن کیا سٹیل ملز کی پیداوار اتنی زیادہ ہے کہ مزید صنعتیں لگانے کے لیے انہیں زمین دی جائے، چیئرمین نے بتایا کہ پاکستان کی سالانہ سٹیل کی مانگ پچاس لاکھ ٹن ہے جبکہ سٹیل ملز کی پیداوار محض دس لاکھ ٹن ہے اور باقی مانگ پوری کرنے کے لیئے فولاد باہر سے منگوایا جاتا ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ جب کہ سٹیل ملز ڈاؤن سٹریم انڈسٹری کی مانگ پوری ہی نہیں کر سکتا تو انہیں زمین کیوں دی جا رہی ہے تو چیئرمین نے کہا کہ یہ حکومت کی پالیسی ہے۔

اس بارے میں مزدور ایکشن کمیٹی کے رہنما عبدالستار بٹ الزام لگاتے ہیں کہ یہ کھانے پینے کا معاملہ ہے اور جس بھی چیئرمین نے کروڑوں کی زمین کوڑیوں کے بھاؤ نجی صنعتوں کو الاٹ کی ہے اس نے کروڑوں کمائے ہیں۔ چیئرمین سٹیل ایسے الزامات کو مسترد کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ قانون کے خلاف زمین الاٹ نہیں کی جا سکتی۔

جب سٹیل ملز کی نجکاری ہوئی تو سندھ حکومت نے مطالبہ کیا کہ جو ملز کے استعمال میں زمین نہیں ہے وہ انہیں واپس کی جائے۔ اس بارے میں چیئرمین سٹیل کہتے ہیں کہ سندھ حکومت کا وفاقی حکومت سے معاملہ چل رہا ہے اور ویسے بھی اب نجکاری رک گئی ہے اور اس بارے میں وہ زیادہ نہیں بولنا چاہتے۔

’بے دخل ہونے والے متاثرین کو ملز انتظامیہ نے کچھ نہیں دیا‘

سٹیل ملز کے احاطے میں ’ڈاؤن سٹریم انڈسٹریز‘ کے نام پر جن صنعتوں کو زمین دی گئی ہے ان میں سعودی عرب کا التوارقی گروپ اور عائشہ سٹیل نامی کمپنی بھی شامل ہیں۔ جب اس بارے میں چیئرمین سٹیل سے پوچھا گیا کہ قانون کے مطابق آپ ان صنعتوں کو سب لیز پر زمین دے سکتے ہیں کہ جو سٹیل ملز کی پیداواری اشیاء استعمال کریں لیکن نجی سٹیل ملز لگانے کے لیئے کیسے زمین دی گئی ہے تو انہوں نے کہا کہ ایسا کرنے کی بھی قانون میں گنجائش موجود ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل ( ر) عبدالقیوم نے بتایا کہ انہوں نے التوارقی گروپ کو دو سو انیس ایکڑ زمین نجی سٹیل ملز لگانے کے لیئے ڈھائی سو سے تین سو روپے فی گز الاٹ کی ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ انہوں نے مارکیٹ ریٹ سے کم قیمت پر کیوں زمین فراہم کی تو انہوں نے کہا کہ بنیادی طور پر سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے طے شدہ پالیسی کے تحت ایسا کیا جاتا ہے۔

سٹیل ملز کے قریب واقع ایک آبادی گلشن حدید میں ایک پراپرٹی ڈیلر محمد افتخار کے مطابق صنعتی پلاٹ بہت مہنگے ہیں اور سٹیل ملز سے ملحقہ پورٹ قاسم کے پاس ایک چھ سوگز کا پلاٹ تین کروڑ روپے میں نیلام ہوا ہے۔

اس بارے میں سٹیل ملز کے ایک ڈیلر ممریز خان کا دعویٰ ہے کہ سٹیل ملز کی زمین سونا ہے اور مختلف کاروباری حضرات وفاقی وزراء کے ساتھ مل کر قیمتی زمین کوڑیوں کے بھاؤ لیتے ہیں اور بینک کے پاس اس کی مالیت اربوں روپے ظاہر کر کے قرضہ لیتے ہیں۔ ان کے مطابق ان میں سے کچھ تو ایسے بھی ہیں کہ وہ قرضہ لے کر ملز لگاتے ہی نہیں ہیں۔

متاثرین کی جانب سے لکھے جانے والے خط کی نقل

سٹیل ملز نے اپنے ملازمین کی رہائش کے لیے سٹیل ٹاؤن نامی شہر تعمیر کیا اور بعد میں سینکڑوں ایکڑ زمین ملازمین اور نجی افراد کو پلاٹوں کی صورت میں بیچ دی۔ چھ ہزار پلاٹ پر مشتمل دو فیز بن چکے ہیں اور اب تیسرے اور چوتھے فیز کی الاٹمنٹ جاری ہے۔

مقامی افراد جو سٹیل ملز بننے کی وجہ سے بے دخل ہوئے وہ کہتے ہیں کہ انہیں سٹیل ملز کے رہائشی منصوبوں میں پلاٹ نہیں ملتا۔ خدا ڈنو شاہ نامی شخص نے الزام لگایا کہ ملز انتظامیہ پلاٹوں سے کروڑوں روپے کما رہی ہے اور بے دخل ہونے والے متاثرین کو کچھ نہیں دیا۔

اس بارے میں سٹیل ملز کے چیئرمین نے کہا کہ وہ ملازمین کی سہولت کے لیے انہیں پلاٹ دیتے ہیں تاکہ وہ اپنا مکان بنا سکیں اور ملز کو آمدن بھی ہو۔ جب ان سے پوچھا کہ دو فیز پہلے ہی بن چکے ہیں اور ملز انتطامیہ ’رئیل سٹیٹ‘، کے کاروبار میں نہیں پڑگئی؟ تو چیئرمین نے کہا کہ ایسا ہرگز نہیں ہے کیونکہ ملازمین کو پلاٹ دینے کی پالیسی پرانی ہے اور اس کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ ملازمین کو بہتر رہائش کی سہولت ملز کے قریب ہی ملے۔

جس جگہ سٹیل ملز واقع ہے وہ مقامی افراد سے خریدی گئی تھی اور وہاں سے پندرہ دیہات کے رہائشی سات سو حاندانوں کو بے دخل کیا گیا تھا۔ ان بے دخل افراد میں سے خدا ڈنو شاہ کا کہنا ہے کہ ریونیو ایکٹ کے تحت جو زمین جس مقصد کے لیے حاصل کی جاتی ہے اگر اس کے لیے پچیس برس تک استعمال میں نہیں لائی جائے تو متعلقہ افراد جن سے زمین حاصل کی گئی ہے انہیں واپس کرنا لازم ہے۔ ان کے مطابق اب سٹیل ملز اپنی فالتو زمین بیچنے کے بجائے کھاتہ داروں کو واپس کرے۔

(آئندہ قسط میں آپ پڑھ سکیں گے ان بے دخل خاندانوں کے بارے میں جن مکان اور زرعی زمین تو سٹیل ملم کو مل گئی لیکن تینتیس برس گزرنے کے باوجود بھی انہیں زمینوں کا معاوضہ نہیں ملا اور معاملا اب بھی کورٹ کچہریوں میں ہیں۔)

چیئرمین سٹیل ملزسٹیل کہانی 2
’خسارے کی وجہ مزدور نہیں بلکہ اعلیٰ انتظامیہ‘
 سٹیل ملزسٹیل کہانی
سٹیل ملز کی نجکاری اور تنازعہ: خصوصی رپورٹ
سٹیل ملز کی نجکاری
پہنچی وہیں پہ خاک، جہاں کا ۔ ۔۔۔
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد