BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’عدالت فیصلے پرنظر ثانی کرے‘

نجکاری کے عمل میں بدعنوانیوں کے الزامات لگائے گئے ہیں
پاکستان کی عدالت اعظمیٰ کی جانب سے سٹیل ملز کی نجکاری کو کالعدم قرار دیے جانے خلاف حکومت نے جمعہ کے روز عدالت میں نظر ثانی کی درخواست دائر کر دی ہے۔

سپریم کورٹ کے ایڈوکیٹ آن ریکارڈ مہر خان ملک کی جانب سے دائر کردہ درخواست میں عدالت سے تفصیلی دستاویزات دائر رکنے کے لیے مہلت بھی طلب کی گئی ہے۔

عدالت نے حکومت کی نظر ثانی کی درخواست پر اعتراضات لگا کر مہلت دے دی ہے اور مہر خان ملک کا کہنا ہے کہ وہ مقررہ مدت کے اندر عدالتی اعتراضات کا جواب بھی پیش کردیں گے۔

ادھر خریداروں کے وکیل کی ہدایت پر ایک اور ایڈوکیٹ آن ریکارڈ ایم اے زیدی کا کہنا ہے کہ وہ بھی سنیچر کے روز نظر ثانی کی درخواست دائر کریں گے۔

تاہم نجکاری کے وفاقی وزیر زاہد حامد نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نظرِ ثانی کی اس درخواست کا مقصد سپریم کورٹ کے فیصلے میں پائے جانےوالے کچھ ابہام دور کرنا ہے اور اس کے تحت حکومت کا نقطۂ نظر پیش کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت کے سامنے یہ بات پیش کرنا ضروری ہے کہ حکومت نے سٹیل مل کی نجکاری کے لیئے کو طریقۂ کار اپنایا وہ درست تھا۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت سٹیل مل کی نجکاری کا سابقہ سودا منسوخ ہو چکا ہے اور بولی دہندگان کو ایڈوانس کی رقم بھی واپس کی جا چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سٹیل مل کی نجکاری کے سلسلے میں دوبارہ اشتہار دیا جائے گا اور نجکاری میں دلچسپی رکھنے والی پارٹیوں کی پری کوالیفیکیشن سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں ہی کی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس مرتبہ سٹیل مل کی دوبارہ بولی لگنے کے عمل سے قبل دس فیصد حصص عوام کے سامنے فروخت کے لیئے پیش کیئے جائیں گے۔

زاہد حامد نے بتایا کہ نظرِ ثانی کی درحواست میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ سٹیل مل کی نجکاری کے معاملے میں کسی قسم کی جلد بازی کا مظاہرہ نہیں کیا گیا اور اس سارے عمل کا مقصد سٹیل مل کی ویلیویشن کو منظرِ عام پر آنے سے بچانا اور اس معاملے کی اہمیت کا خیال رکھنا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ نظرِ ثانی کی درخواست نو نکات کی بنیاد پر دائر کی گئی ہے جن میں معاملے کی سماعت کے سلسلے میں ہائیکورٹ کا دائرہ اختیار، مشترکہ مفادات کونسل کے تحت حکومتی اداروں کی نجکاری، مالیاتی مشیر کی تقرری سے قبل ویلیور کی تقرری، قانون کے برخلاف پاکستان سٹیل ملز کے حصص کی ویلیویشن، ممکنہ بولی دہندگان کو قوانین کے مطابق پری کوالیفائی نہ کیا جانا اور سب سے بڑے بولی دہندہ کو غیر قانونی طور پر رعایتیں مہیا کرنا جیسے معاملات شامل ہیں۔

واضح رہے کہ رواں سال اکتیس مارچ کو جب حکومت نے ملک کے ایک بڑے صنعتی ادارے سٹیل ملز کے پچہتر فیصد حصص بمع انتظامیہ ایک کنسورشیم کو اکیس ارب اڑسٹھ کروڑ روپوں میں بیچنے کی منظوری دی تھی تو پیپلز مزدور یونین اور پاکستان وطن پارٹی کے بیریسٹر ظفراللہ خان نے اُسے عدالت میں چیلینج کیا تھا۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں نو رکنی بڑے بینچ نے چار ہفتوں تک سماعت کے بعد تئیس جولائی کو مختصر حکم سناتے ہوئے سٹیل ملز کی نجکاری کو کالعدم قرار دیا تھا۔

سٹیل ملز پاکستان کے عارف حبیب گروپ، سعودی عرب کے التوارقی اور روس کی کمپنی میگنیٹوگورسک پر مشتمل کنسورشیم نے یہ ملز خریدی تھیں۔ عدالت میں ایسے ثبوت بھی مہیا کیے گئے تھے کہ خریداروں نے ماریشس میں رجسٹرڈ ایک آف شور کمپنی کو اپنے بیشتر حصص بیچ دیے تھے اور یہ سوال اٹھایا گیا کہ اصل خریدار کون ہے؟

سپریم کورٹ نے آٹھ اگست کو تفصیلی فیصلے جاری کیا تھا جس میں سٹیل ملز کی نجکاری کو قانون کی سنگین خلاف ورزی اور بڑے پیمانے پر بےضابطگیوں کا شاخسانہ قرار دیا ہے۔

عدالت نے اپنے حکم میں لکھا تھا کہ حکومت نے عجلت میں سٹیل ملز کم قیمت پر بیچی جس سے خریداروں کو اربوں روپے کا فائدہ پہنچا۔

حکومت اور خریداروں نے پاکستان کے انتہائی مہنگے چار وکیل جوکہ ملک کے وزیر قانون بھی رہ چکے ہیں ان کی حدمات حاصل کی تھی لیکن پھر بھی فیصلہ ان کی خواہشات کے برعکس آیا۔

بعض قانونی ماہرین کہتے ہیں کہ نظر ثانی کی درخواست اس صورت میں دائر کی جاتی جس معاملے میں عدالت میں کوئی بڑا ثبوت پیش نہ کیا جاسکا ہو یا عدالت نے کسی اہم پہلو یا نکتے پر غور نہ کیا ہو۔

لیکن ان کے مطابق سٹیل ملز کیس ملک کی سب سے بڑی عدالت کے نو ججوں نے تفصیل سے سنا تھا اور اس میں نظر ثانی کی درخواست دائر کیے جانے کی ان کے بقول ضرورت نہیں۔

واضح رہے کہ پہلے حکومت کہتی رہی کہ وہ صدقِ دل سے عدالت کے فیصلے کا احترام کرتی ہے اور اس پر عمل کرے گی۔

سٹیل ملز کی نجکاری
پہنچی وہیں پہ خاک، جہاں کا ۔ ۔۔۔
پاکستان سٹیلاصل خریدار کون ہے
پاکستان سٹیل دراصل کس نے خریدی ہے؟
اسی بارے میں
لوہے کو لوہا ہی کاٹتا ہے
20 July, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد