سٹیل ملز: قومی اسمبلی کو تسلی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی قومی اسمبلی نے حکومت کی اس یقین دہانی پر کہ عدالت کے فیصلہ کے مطابق سٹیل ملز کی نجکاری میں خامیاں دور کی جائیں گی نجکاری پر جاری بحث مکمل کرلی ہے۔ چھ روز تک جاری رہنے والی بحث سمیٹتے ہوئے نجکاری کے وزیر زاہد حامد نے کہا کہ حکومت سٹیل ملز سے متعلق عدالت اعظمیٰ کے حکم پر عمل درآمد یقینی بنائے گی اور تمام تر نشاندہی کردہ خامیاں دور کرے گی۔ سپریم کورٹ نے ملک کے سب سے بڑے صنعتی ادارے سٹیل ملز کی نجکاری کے متعلق اپنے تفصیلی حکم میں کہا تھا کہ ’سٹیل ملز کی نجکاری میں قانون کی سنگین خلاف ورزی اور بڑے پیمانے پر بےضابطگیاں کی گئی ہیں اور اس اہم قومی ادارے کو قابل اعتراض عجلت میں بیچتے وقت کروڑوں روپے کی زمین کی قیمت نہیں لگائی گئی اور خریداروں کو فائدہ دیا گیا‘۔ عدالت کی جانب سے اس حکم کے بعد حزب مخالف کی تمام جماعتوں نے پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں سخت احتجاج کرتے ہوئے وزیراعظم شوکت عزیز کو سٹیل ملز اپنے مبینہ من پسند کاروباری دوست عارف حبیب کو کوڑیوں کے مول فروخت کرنے کا الزام لگا کر ان سے مستعفٰی ہونے کا مطالبہ کیا تھا۔ حکومت نے ان کا مطالبہ مسترد کردیا ہے اور بحث کے دوران عدالت کے واضح حکم کے باوجود بیشتر سرکاری بینچوں پر بیٹھنے والے اراکین نے بحث کے دوران کہا کہ حکومت نے جو کچھ کیا ٹھیک کیا اور سب کچھ قانون کے مطابق تھا۔ قومی اسمبلی میں تو بحث مکمل ہوگئی لیکن ایوان بالا یعنی سینیٹ میں ابھی بحث جاری ہے۔ سینیٹ میں حزب مخالف کے رہنما رضا ربانی اور دیگر نے وزیراعظم اور دیگر حکام کے خلاف ایک تحریری ایف آئی آر بھی پیش کی۔ اس میں انہوں نے عدالت کے فیصلے کی بعض شقیں اور قومی احتساب بیورو آرڈیننس کی دفعات پیش کرتے ہوئے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ سٹیل ملز کی نجکاری کا فیصلہ جان بوجھ کر اپنے من پسند افراد کو فائدہ دینے کے لیئے کیا گیا جوکہ بدعنوانی ہے جس پر مقدمہ درج کیا جاسکتا ہے۔
حزب مخالف کی ’ایف آئی آر‘ میں کہا گیا ہے کہ سٹیل ملز کے ملازمین کو رضاکارانہ طور پر ملازمت چھوڑنے کی صورت میں ملز فروخت کرنے کے بعد بھی پندرہ ارب روپے حکومت کی جانب سے دینے، ملز کے ذمے ساڑھے سات ارب روپے سے زائد کا قرضہ حکومت کا اپنے ذمے لینے، بارہ ارب روپے کا خام مال، ایک ارب ٹیکس واپس کرنے، ساڑھے آٹھ ارب روپے ملز کے نقد سمیت ساٹھ ارب روپے کا خریداروں کو فائدہ دیا اور سرکاری خزانے کو نقصان پہنچایا گیا۔ ان کے مطابق پانچ ہزار ایکڑ قیمتی زمین، ستر کلومیٹر ریلوے ٹریک اور دیگر اثاثوں کی جملہ قیمت ایک سو تیرہ ارب روپے بنتی ہے جس کا ان کے مطابق خریداروں کو فائدہ دیا گیا۔ واضح رہے کہ حکومت نے سٹیل ملز میں اپنے پچہتر فیصد حصص اکیس ارب اڑسٹھ کروڑ روپوں میں فروخت کیئے تھے جوکہ پاکستان کے عارف حبیب گروپ، سعودی عرب کے التوارقی اور روس کی سٹیل کمپنی میگنیٹوگورسک پر مشتمل ایک کنسورشیم نے خریدی تھے اور ملز کا انتظام سنبھالنے سے پہلے ہی انہوں نے ماریشس میں رجسٹرڈ ایک آف شور کمپنی کو اس کے بیشتر حصص بیچ دیئے تھے۔ نجکاری کے وزیر نے قومی اسمبلی میں بحث سمیٹتے ہوئے ایک جانب یہ کہا کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل کریں گے اور جن قانونی نقائص اور خامیوں کی عدالت نے نشاندہی کی ہے ان میں تبدیلی بھی کریں گے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنے موقف پر بھی ڈٹے رہے کہ حکومت نے جو کچھ کیا وہ ملکی مفاد اور قانون کے مطابق تھا۔ | اسی بارے میں سٹیل ملز کیس: اپوزیشن کا ہنگامہ10 August, 2006 | پاکستان لوہے کو لوہا ہی کاٹتا ہے20 July, 2006 | پاکستان ’میگا کرپشن آف مشرف گورنمنٹ‘ 26 July, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||