’غریب کی آمدن وہی، خرچہ دوگنا ہوگیا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی کی پنتالیس سالہ معلمہ صغرٰی جمال اس وقت افراطِ زر اور بیروزگاری جیسے مسائل سے براہ راست متاثر ہونے والے پاکستانیوں میں سے ایک ہیں۔ ان کے خاوند ایک بڑھئی ہیں تاہم دس برس قبل ہونے والی دل کی بیماری کی وجہ سے کام نہیں کر سکتے۔ صغرٰی کا ایک بیٹا دمہ کا مریض ہے اور یوں وہ بھی لگاتار کام کرنے کے قابل نہیں جبکہ دوسرا بیٹا ایک طبی مرکز میں مددگار کے طور پر کام کر کے پندرہ سو روپے ماہانہ کماتا ہے۔ یہ وہ حالات ہیں جن کا شکار ہو کر صغرٰی کو ہی اس گھر کی واحد کفیل بننا پڑا ہے۔ ان ماہانہ آمدن پانچ ہزار روپے سے کچھ زیادہ ہے اور یہ رقم وہ بچوں کو قرآن کی تعلیم دے کی کماتی ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ وہ اس محدود آمدن سے اپنے خاندان کی خوراک، صحت اور تعلیم سے متعلق ضروریات کیسے پوری کرتی ہیں؟ ’صحت کی تو بات ہی نہ کریں۔ میرے پاس ڈاکٹروں کو دینے کے لیے کوئی پیسہ نہیں‘۔ اس کے علاوہ صغٰری اپنی سات سالہ بیٹی کی فیس کے لیے جہاں قریباً پونے دو سو روپے ماہانہ ادا کرتی ہیں تو گھر گھر جا کر بچوں کو قرآن پڑھانے کے لیے درکار ذرائع آمدورفت کی مد میں ان کا ماہانہ خرچ بارہ سو روپے کے قریب ہے۔ صغرٰی کے مطابق’باقی سب کھانے پینے پر خرچ ہو جاتا ہے۔ ہم بمشکل ہی پورے ہفتے میں روزانہ دو وقت کا کھانا کھا پاتے ہیں‘۔
تاہم یہ حال صرف اکیلی صغرٰی کا ہی نہیں۔ پاکستان بھر میں ہزاروں افراد ایسے ہیں جو کہ ملک میں اشیائے خوردونوش کی تیزی سے بڑھتی قیمتوں کا مقابلہ حکومت کی سرپرستی میں چلنے والے سستے یوٹیلٹی سٹورز کے باہر لمبی قطاروں میں لگے کر رہے ہیں۔ کراچی میں ایک ایسے ہی سٹور کے باہر قطار میں موجود افراد میں سے زیادہ تر آٹے کی تلاش میں ہیں تو کچھ پکانے کا تیل خریدنے آئے ہیں جو کہ صرف ان گاہکوں کو میسر ہے جو کہ اس سٹور سے کچھ دیگر اشیاء بھی خریدیں۔یہ افراد آٹے اور گھی کی تلاش میں گھنٹوں قطاروں میں کھڑے رہتے ہیں۔ عالمی فوڈ پروگرام کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کے سولہ کروڑ عوام میں سے نصف اشیائے صرف کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے خوراک کی کمی کا شکار ہو سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ایسے افراد کی تعداد میں گزشتہ برس کی نسبت اٹھائیس فیصد اضافہ ہوا ہے اور اب یہ تعداد ساٹھ ملین سے بڑھ کر ستتر ملین تک پہنچ گئی ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ سنہ 2007 میں پاکستان میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں پینتیس فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ اسی دوران کم از کم تنخواہ میں کیا جانے والا اضافہ اٹھارہ فیصد ہے جس کی وجہ سے غرباء کی قوتِ خرید میں پچاس فیصد کمی ہوگئی ہے۔ ان اعدادوشمار کو سامنے رکھا جائے تو یہ سوال اٹھتا ہے کہ ملک میں گزشتہ پانچ برس کے دوران قریباً سات سے آٹھ فیصد سالانہ کی شرح سے ہونے والی معاشی ترقی کے ثمرات کہاں ہیں؟ ایک غیر جانبدار ماہرِ اقتصادیات اسد سعید کا کہنا ہے کہ نائن الیون کے بعد پاکستان کو پینسٹھ سے ستّر بلین ڈالر امداد، قرضوں کی ری شیڈولنگ اور غیر ملکی سرمایہ کاری کی صورت میں حاصل ہوئے۔ان کے مطابق یہ رقم بنکوں کے سرمایہ میں اضافے کا باعث بنی اور پھر سنہ 2002 سے سنہ 2006 کے دوران شرحِ سود میں کمی سے کنزیومر فائنانسنگ کا دور شروع ہوگیا۔ ان آسان قرضوں نے بڑے شہروں سمیت ملک بھر میں گھروں، کاروں اور موٹر سائیکلوں کے پچیس لاکھ نئے خریدار تو پیدا کیے لیکن اس پالیسی کے نتیجے میں بمشکل ہی کوئی نئی نوکریاں پیدا ہوئیں جس کی وجہ سے مزید افراد خطِ غربت سے نیچے چلے گئے۔ سنہ 2007 کے وسط سے جب معیشت سست روی کا شکار ہوئی تو صارفین کی جانب سے دیوالیہ ہونے کا رجحان آٹھ فیصد تک جا پہنچا جو کہ سنہ 2002 میں ایک فیصد سے بھی کم تھا۔ معیشت کی اس سست روی نے ملک کی آٹوموبیل صنعت کو بھی متاثر کیا جو کہ سنہ 2002 سے 2007 تک ہونے والی ترقی کے ثمر سے بہرہ مند ہوئی تھی۔ کراچی میں ہنڈا کاروں کے بڑے ڈیلروں میں سے ایک سید سبطین علی بھائی کا کہنا ہے کہ’ کاروں کی فروخت جو کہ سنہ 200ہ میں پینتیس ہزار سالانہ تھی سنہ 2007 میں ایک لاکھ اسّی ہزار تک پہنچ گئی۔ لیکن اب یہ پھر کم ہو کر ایک لاکھ بیس ہزار رہ گئی ہے اور اس میں مزید کمی کا اندیشہ ہے۔
معیشت کی سست روی سے صرف یہ شعبے ہی متاثر نہیں ہوئے بلکہ مقامی طور پر خوراک کی پیداوار بھی مقامی ضروریات کو پورا کرنے میں ناکام ہے۔ اور یہ واقعی غریبوں کے لیے ایک بہت بری خبر ہے۔ اس صورتحال نے جہاں اس خیال کو جنم دیا ہے کہ انتخابات میں گزشتہ پانچ برس تک حکومت کرنے والے افراد کی شکست کے پیچھے خوراک کے بحران کا بھی ہاتھ تھا وہیں یہ ملک میں بننے والی نئی حکومت کے لیے پریشان کن ہے۔ ملک کی نومنتخب حکومت کے سامنے ایک بہت بڑا مسئلہ بہت کم عرصے میں قریباً ساڑھے آٹھ بلین ڈالر کے تجارتی خسارے پر قابو پانا ہے جس کے لیے اسے ممکنہ طور ہر تیل کی قیمتیں بڑھانے کی کڑوی گولی بھی نگلنا ہوگی۔ ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ حکومت زارعتی خدمات کو فروغ دے تاکہ ملکی پیداوار میں اضافہ کیا جا سکے۔ لیکن اس کے لیے بھی توانائی اور پانی کے شعبوں میں فوری اقدامات درکار ہیں۔ اس وقت بھی ملک میں پیداوار میں کمی کی ایک بڑی وجہ لوڈشیڈنگ کو قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم پانی ہو یا بجلی اس حوالے سے کوئی بھی اہم منصوبہ پایۂ تکمیل تک پہنچانے میں کم از کم تین برس درکار ہوں گے۔ غیر جانبدار ماہر ِاقتصادیات قیصر بنگالی کا کہنا ہے کہ ’ہمیں گزشتہ حکومت کے مقابلے میں بہتر اقتصادی حکمتِ عملی اپنا ہو گی اور یہ کام جلد از جلد کرنا ضروری ہے‘۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ عوام کو فوری طور پر ریلیف فراہم کرنے سے درمیانی مدت کے لیے اقتصادی عدم توازن پیدا ہو سکتا ہے تاہم اس کے سوا حکومت کے پاس کوئی چارہ نہیں۔ قیصر بنگالی کا کہنا ہے کہ (حکومت کو) ’ آنے والے تین برس میں بہر صورت نتائج دکھانا ہوں گے اور اگر ایسا نہیں ہوا تو اس(حکومت) کا چلنا مشکل ہے‘۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||