BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 25 July, 2008, 11:23 GMT 16:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان، بینک کی شرح سود سب سے زیادہ

بینک سروے
مرکزی بینک کی شرح سود پر نظر نہ رکھنے کی وجہ سے بینکوں نے کارٹیل کی شکل اختیار کر لی ہے
ایک تازہ سروے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے بینکنگ شعبے میں شرح سود دنیا بھر میں بلند ترین ہے جس سے اس شعبے میں مقابلے کا رجحان بہت کم یا سرے سے ہے ہی نہیں۔

صارفین کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی ایک غیرسرکاری تنظیم’ کنزیومر رائٹس کمیشن‘ کی ملک میں بینکنگ کے شعبے سے متعلق جمعہ کو جاری کی گئی ایک رپورٹ میں یہ مشاہدہ سامنے آیا ہے۔

ایک مقامی ہوٹل میں جاری کی گئی اس رپورٹ میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ جس انداز سے کنزیومر فنانس خدمات مہیا کی جا رہی ہیں یہ معیشت میں مقابلے کے رجحان کو بری طرح متاثر کر رہی ہیں۔

سروے رپورٹ کے نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے کمیشن کے ریسرچ فیلو مظہر سراج کا کہنا تھا کہ مرکزی بینک کی شرح سود پر نظر نہ رکھنے کی وجہ سے بینکوں نے آپس میں ایک گروہ (کارٹیل) کی شکل اختیار کر لی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کھاتہ داروں کے پیسے پر بھاری منافع کے پس منظر میں پاکستان میں ان بینکوں کے اخراجات کوئی زیادہ نہیں ہیں۔ ان کا مطالبہ تھا کہ سٹیٹ بینک اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے بینکوں اور کھاتہ داروں کے لیے جائز منافع کی شرح کا تعین کرے۔

 پاکستان میں گزشتہ سات برسوں میں بینکوں نے کنزیومر فنانس کے ذریعے گاڑیوں، مکانات اور ذاتی قرضے متعارف کیے ہیں۔ اس شعبے میں ترقی کی بڑی وجوہات میں آزاد معاشی پالیسیاں اور گیارہ سمتبر کے بعد بینکوں کے پاس جمع رقوم میں بےتہاشہ اضافہ شامل ہیں۔

رپورٹ میں نوٹ کیا گیا کہ کنزیومر فنانس سے افراط زر میں اضافے سے معیشت پر دباؤ بڑھا ہے۔ اس سے کئی ضروری اور پرتعیش اشیاء کی مانگ میں بھی اضافہ ہوا ہے اور اس سے صارف کی زندگی کا معیار زندگی بڑھانے میں بھی مدد ملی ہے۔

پاکستان میں گزشتہ سات برسوں میں بینکوں نے کنزیومر فنانس کے ذریعے گاڑیوں، مکانات اور ذاتی قرضے متعارف کیے ہیں۔ اس شعبے میں ترقی کی بڑی وجوہات میں آزاد معاشی پالیسیاں اور گیارہ سمتبر کے بعد بینکوں کے پاس جمع رقوم میں بےتہاشہ اضافہ شامل ہیں۔

رپورٹ میں سال دو ہزار چھ میں بینکنگ محتسب کی رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ عوامی شکایات سرکاری نیشنل بینک آف پاکستان کے خلاف موصول ہوئیں۔ اس کے بعد یونائٹیڈ بینک دوسرے اور حبیب بینک تیسرے نمبر پر رہے۔ غیرملکی بینکوں میں سٹی بینک پہلے جبکہ سٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک دوسرے نمبر پر رہا۔

عام صارف کی سطح پر ایک بڑا مسئلہ تقریباً اسی فیصد کھاتہ داروں کے بینکوں کی اے ٹی ایم سروس پر عدم اطمیان کا اظہار تھا۔ کنزیومر رائٹس کمیشن نے اس تناظر میں مطالبہ کیا ہے کہ اے ٹی ایم مشین کے ذریعے بینک سے رقم نہ ملنے پر بینک کو جرمانہ ادا کرنا چاہیے۔

عوامی شکایات
 سال دو ہزار چھ میں بینکنگ محتسب کی رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ عوامی شکایات سرکاری نیشنل بینک آف پاکستان کے خلاف موصول ہوئیں۔ اس کے بعد یونائٹیڈ بینک دوسرے اور حبیب بینک تیسرے نمبر پر رہے۔ غیرملکی بینکوں میں سٹی بینک پہلے جبکہ سٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک دوسرے نمبر پر رہا۔

کنزیومر فنانس سے متعلق اس قسم کی اس پہلی رپورٹ میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ چاہے وجہ تکنیکی ہو یا کوئی اور اے ٹی ایم مشین سے رقم نہ ملنے پر بینک ایک طرح سے ڈیفالٹ کرتا ہے لہٰذا اسے اس صارف کو جرمانہ ادا کرنا چاہیے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بعض بینک اپنی اے ٹی ایم میشنوں کو قومی نیٹ ورک سے الگ کر لیتے ہیں جس سے صرف ان کے بینک کے کارڈ ہولڈز ہی اسے استعمال کرسکتے ہیں جو غلط ہے۔ رپورٹ میں سٹیٹ بینک سے بینکوں کا یہ اختیار واپس لینے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق کریڈٹ کارڈ سے متعلق عوامی شکایت قدرے کم یعنی صرف تیرا فیصد ہے تاہم اکاون فیصد صارف یہ فیصلہ نہیں کر پائے تھے کہ وہ اس سہولت سے خوش ہیں یا نہیں۔ پاکستان میں اے ٹی ایم اور کریڈٹ کارڈز کے استعمال میں گزشتہ چند برسوں میں کافی اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹ نے اپنی سفارشات میں کھاتہ داروں کی شکایت پر جلد کارروائی کے نظام کو مضبوط کرنے، ان کی آگہی بڑھانے اور سٹیٹ بینک کے زیادہ متحرک کردار پر زور دیا ہے۔

اس سروے کے لیے مالی ماونت ایشیا فاونڈیشن نے کی تھی۔ ایشیا فاونڈیشن کے شاہنواز محمود نے کہا کہ افراط زر میں اضافے سے بینکوں کے منافع میں اضافہ ہو رہا ہے جوکہ درست نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دیگر ممالک میں بینک غیرسودی منافع پر زیادہ انحصار کرتے ہیں۔

ان کی تجویز تھی کہ اگر بینک مونوپولی قائم کرنے کی کوشش کریں تو اس کا مقابلہ کھاتہ داروں کے شعور میں اضافے اور عوامی مفاد کی قانون چارہ جوئی سے کیا جا سکتا ہے۔

قائد اعظم یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد اشفاق نے اس سروے کو ایک تنقیدی جائزہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پہلا سروے ہےجو بینکوں کی جانب سے دیئے جانے والی تمام مصنوعات کا جائزہ لیتا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد