پاکستان نژاد بینکر کو 10 سال قید | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیویارک کی ایک عدالت نے ایک پاکستانی نژاد انویسٹمنٹ بینکر کو دس سال قید کی سزا سنائی ہے۔ کریڈٹ سوئس بینک نیویارک سے منسلک سابق بینکر انویسٹمنٹ حافظ محمد زبیر نسیم کو فروری میں سکیورٹیز فراڈ اور انسائڈر ٹریڈنگ کی اٹھائیس دفعات کے تحت قصور وار قرار دیا گیا تھا۔ حافظ محمد زبیر نسیم پر الزام ہے کہ انہوں نے کریڈٹ سوئس بینک کے مین ہیٹن آفس میں تعیناتی کے دوران توانائی کے ادارے ’ٹی ایکس یو‘ گروپ کی فروخت کے حوالے سے ملنے والی’اندرونی معلومات‘ کراچی میں موجود ایک اپنے سابق رفیقِ کار اعجاز رحیم کو پہنچائیں جنہوں نے ان معلومات کی بنیاد پر ’ٹی ایکس یو‘ کے حصص خریدے اور ساڑھے سات ملین ڈالر کمائے۔ اس کیس کے دوسرے ملزم اور کراچی میں فیصل بینک کے شعبۂ انویسٹمنٹ بینکنگ کے سابق سربراہ اعجاز رحیم ابھی تک مفرور ہیں۔ استغاثہ کے وکلاء کا کہنا ہے کہ حافظ زبیر نسیم اور اعجاز رحیم پاکستان میں اکٹھے کام کرتے ہیں اور بعد میں بھی دونوں کے درمیان قریبی رابطہ رہا۔ استغاثہ کے وکلاء کا کہنا ہے کہ حافظ زبیر نسیم کو اس کاروبار سے دو لاکھ ڈالر حاصل ہوئے جو انہیں آن لائن ٹرانسفر کیے گئے جبکہ حافظ زبیر نسیم کا اصرار ہے کہ انہیں وہ رقم ان کے والد نے بھجوائی تھی۔ | اسی بارے میں ’انسائڈر ٹریڈنگ‘سکینڈل: باقی کردار کون ہیں؟20 May, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||