پاکستانی بینکار پر فردِ جرم عائد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیویارک کی ایک عدالت نے مالی سکینڈل میں ملوث پاکستانی بینکار پر سازش اور سکیورٹیز دھوکہ دہی کے حوالے سے فردِ جرم عائد کر دی ہے۔ اعجاز رحیم کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کر دیے گئے ہیں تاہم انکے وکیل کا کہنا ہے کہ وہ تمام الزامات کے خلاف اپیل کریں گے۔ وکلائے استغاثہ نے پاکستان کے شہر کراچی میں فیصل بینک کے شعبۂ انویسٹمنٹ بینکنگ کے سابق سربراہ اعجاز رحیم پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے’انسائیڈر ٹریڈنگ‘ کے ذریعے ساڑھے سات ملین ڈالر کمائے۔ اس رقم کا زیادہ تر حصہ انہوں نے توانائی کے ادارے ’ٹی ایکس یو‘ گروپ کی فروخت کے حوالے سے ملنے والی’اندرونی معلومات‘ کی مدد سے حاصل کیا۔ استغاثہ کے مطابق اعجاز رحیم کو یہ معلومات بینک کریڈٹ سوئس نیویارک کے بینکار اور اعجاز رحیم کے سابق رفیقِ کار حافظ محمد زبیر نسیم نے فراہم کیں جن پر اس ماہ کے آغاز میں فردِ جرم عائد کی جا چکی ہے اور وہ دس لاکھ ڈالر کی ضمانت پر ہیں۔ ایف بی آئی کا بھی کہنا ہے کہ حافظ نسیم نے اپریل سنہ 2006 اور فروری 2007 کے درمیان باقاعدگی سے بارہا اعجاز رحیم کو فون کیا اور انہیں خفیہ معلومات فراہم کیں۔ واضح رہے کہ اعجاز رحیم کے موجودہ مقامِ سکونت کے بارے میں تاحال معلومات نہیں مل سکی ہیں اور یہ بھی واضح نہیں کہ آیا وہ اپنے آپ کو قانون کے حوالے کریں گے یا نہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||