’انسائڈر ٹریڈنگ‘سکینڈل: باقی کردار کون ہیں؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی اور امریکی اخبارات میں شائع ہونے والی خبریں بتا رہی ہیں کہ ایک اور بڑا مالی سکینڈل پاکستان کے دروازے پر دستک دے رہا ہے جس میں حسب روایت ملک کے کرتا دھرتاؤں کے ملوث ہونے کے اشارے مل رہے ہیں۔ تاہم پاکستانی اور امریکی حکام امریکہ کے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف۔بی۔آئی) کی مالیاتی جرائم کے شعبے سے منسلک تحقیقاتی ٹیم کی پاکستان آمد کی تصدیق سےگریز کر رہے ہیں۔ اتوار کے روز بیشتر پاکستانی اخبارات نے خبریں شائع کیں کہ ایف بی آئی کی ایک ٹیم امریکہ میں رونما ہونے والے ایک مالیاتی سکینڈل کی تحقیقات کے لئے پاکستان پہنچ چکی ہے۔ تاہم پاکستانی سٹیٹ بنک، مالیاتی شعبے کی نگرانی کے ادارے سیکیورٹی ایکسچینج کمیشن اور وزارت داخلہ نے ان خبروں کی تصدیق یا تردید کرنے سے انکار کیاہے۔ اسی طرح اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کے ایک اعلی عہدیدار نے بھی ایف بی آئی کی ٹیم کی پاکستان آمد سے متعلق مکمل لا علمی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کی تحقیقات کے لئے ایف بی آئی مختلف ممالک میں جاتی رہتی ہے اور اسکی پاکستان آمد قطعی غیر معمولی واقعہ نہ ہوتا تاہم اس موقعے پر وہ اور امریکی سفیر کسی ایسی ٹیم کی پاکستان آمد سے آگاہ نہیں ہیں۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا سفارتخانے کو اطلاع دیے بغیر ایف بی آئی کے تحقیق کار پاکستان آسکتے ہیں تو افسر کا کہنا تھا کہ ایسا ممکن نہیں ہے کیونکہ ایف بی آئی کے افسران کو کسی بھی ملک میں داخلے سے قبل اس ملک میں موجود امریکی سفارتخانے سے کلئیرنس لینا ہوتی ہے۔ اس بات سے قطع نظر کہ ایف بی آئی کی کوئی ٹیم پاکستان آئی ہے کہ نہیں، یہ بات طے ہے کہ امریکی تحقیقاتی ادارے متعدد پاکستانی اہم سرکاری عہدیداروں، ایک سرکاری بنک کے سربراہ، سٹاک مارکیٹ میں کام کرنے والے دو با رسوخ بروکرز اور مشرق وسطی سے تعلق رکھنے والے ایک بنک کے افسران سے سوالات پوچھنا چاہتے ہیں جو انہیں امریکہ میں ایک مالی سکینڈل کے دو پاکستانی کرداروں سے جڑے نظر آتے ہیں۔ اور یہ کردار ہیں حافظ محمد زبیر نسیم اور اعجاز رحیم۔ حافظ زبیر امریکی سرمایہ کار کمپنی کریڈیٹ سوئیس کے سابق ملازم ہیں اور ایک ماہ امریکہ میں قید میں رہنے کے بعد آج کل ضمانت پر ہیں۔ اعجاز رحیم فیصل بنک کراچی میں ایک اعلی عہدے سے اپریل مہینے برخواست ہونے کے بعد اس وقت کینیڈا میں رہائش پزیر ہیں۔ ان دو افراد پر امریکہ کی ایک عدالت میں مقدمہ نو مارچ سے زیر سماعت ہے جس کے ڈانڈے براہ راست پاکستان کے مالیاتی شعبے سے ملتے ہیں۔ مقدمے کی تفصیلات کے مطابق حافظ زبیر ایسے مالیاتی سودوں کی تفصیل غیر قانونی طور پر اعجاز رحیم کو دیتے رہے جن کی پیشگی اطلاع ان کو اپنی کمپنی کے ان سودوں میں مشیر ہونے کے باعث قبل از وقت مل جاتی تھی۔ اعجاز رحیم مستقبل میں ہونے والے ان سودوں کی پیشگی اطلاع کی بنیاد پر ان میں شریک کمپنیوں کے حصص امریکی سٹاک مارکیٹ میں خرید لیتے اور جوں ہی یہ سودے پایہ تکمیل تک پہنچتے تو وہ ان کے حصص فورخت کر کے بھاری نفع کماتے۔ مالیاتی اصطلاح میں اس غیر قانونی کاروبار کو ’انسائڈر ٹریڈنگ’ کہا جاتا ہے اور پاکستان سمیت کئی ملکوں میں یہ جرم تصور کیا جاتا ہے۔ ایف بی آئی کے مطابق حافظ زبیر اور اعجاز رحیم گزشتہ چھ ماہ سے اس غیر قانونی کاروبار میں ملوث تھے اور اس دوران انہوں نے نو سودوں میں کروڑوں ڈالر کمائے۔ ایف بی آئی کے بقول صرف ایک سودے میں ان حضرات نے پچاس لاکھ ڈالر بنائے۔ حافظ زبیر کی امریکہ میں گرفتاری کے بعد ایف بی آئی نے حکومت پاکستان سے رابطہ کیا اور اس مقدمے کی تفصیل وزارت خزانہ کے توسط سے سٹیٹ بنک کو فراہم کی گئیں جس نے ان شواہد کی بنیاد پر نو مئی کو اعجاز رحیم کے پاکستانی بنک سے برخاستگی کے لئے حکمنامہ جاری کر دیا۔ اس چارج شیٹ میں اعجاز رحیم اور حافظ زبیر کے علاوہ لندن میں مقیم پاکستانی نژاد جوڑے سنیل اور سیما سہگل اور ایک یورپی باشندے فرانسسکو گارشیا پر ’انسائڈر ٹریڈنگ’ میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کرتے ہوئے انکے خلاف کاروائی کا عندیہ دیا ہے۔ اعجاز رحیم کا پاکستان میں ایک بنک اکاؤنٹ منجمد کیا جا چکا ہے اور دیگر کئی ممالک میں ایف بی آئی کے توسط سے اس بارے میں کاروائی کی جا رہی ہے۔
اعجاز رحیم ایف بی آئی کی تحقیقات کی تصدیق کر چکے ہیں اور انکا کہنا ہے کہ وہ بے گناہ ہیں اور اسی بنا پر ان تحقیقات میں امریکیوں کے ساتھ مکمل تعاون کر رہے ہیں۔ یہاں تک تو یہ ایک جرم اور اسکی تحقیقات کی کہانی ہے۔ جو امر پاکستان کے لئے باعث تشویش ہے وہ یہ ہے کہ ایف بی آئی کا خیال ہے کہ اپنے اس فعل میں اعجاز رحیم تنہا نہیں تھے۔ اور اسی نکتے کی تحقیقات کے لئے ایف بی آئی پاکستان آنے یا کم از کم اس سکینڈل کے دیگر ممکنہ کرداروں سے سوالات پوچھنے میں ضرور دلچسپی رکھتی ہے۔ یہ دیگر کردار کون ہیں؟ اس بارے میں سرکاری زرائع کوئی بھی بات کہنے سے گریزاں ہیں تاہم پاکستانی اخبارات سیاسی اور مالی شعبہ کی اہم شخصیات کے نام اس ضمن میں لے رہے ہیں۔ قومی بنک کے ایک سربراہ اور ملک کے دو نامور سٹاک بروکرز کے نام بھی اس فہرست میں شامل کئے جا رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کے مالیاتی شعبے کے اہم افراد کے اس سکینڈل میں ملوث ہونےکے بارے میں ایف بی آئی کے پاس کچھ مواد موجود ہے جو وہ پاکستانی تحقیقاتی اداروں کے سامنے لانا چاہتے ہیں۔ اسکے علاوہ کچھ واقعاتی شہادتیں بھی ہیں جو اس مقدمے میں اہم شخصیات کے ملوث ہونے کی نشاندہی کرتی ہیں۔ ان میں شکایات موصول ہونے کے باوجود اعجاز رحیم کو بیرون ملک جانے کی اجازت دینا، ان کے بنک کھاتوں سے سرف نظر کرنا وغیرہ شامل ہیں۔ پاکستان کی سٹاک مارکیٹ اور مالیاتی شعبے سے منسلک ماہرین اس سارے عمل کو بہت تشویش کی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ پاکستان کامالیاتی شعبہ باالخصوص اور معیشت باالعموم اتنی مستحکم نہیں کہ اس نوعیت کے سکینڈل میں کسی اہم بروکر ہی کی شمولیت کا جھٹکا برداشت کر سکیں ، حکومت عہدیدار کا نام سامنے آنا تو درو کی بات ہے۔ ان ماہرین نے امید ظاہر کی ہے کہ شاید اسی بنا پرحکومت ایف بی آئی کو پاکستان آ کر براہ راست پوچھ گچھ کی اجازت نہ دے۔ |
اسی بارے میں مشرف حکومت کی ’لوٹ سیل‘20 April, 2007 | پاکستان گوجرانوالہ: متبادل بینکنگ اور دھوکہ13 April, 2007 | پاکستان غریبوں کے پلاٹ افسران کے نام19 August, 2006 | پاکستان ویزا سکینڈل: تمام سفارتی عملہ واپس18 May, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||