BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 18 May, 2006, 21:20 GMT 02:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ویزا سکینڈل: تمام سفارتی عملہ واپس
سوئس حکومت پہلے ہی اسلام آباد میں اپنے ویزا سیکشن کو پہلے ہی بند کر چکی ہے
سوئٹزرلینڈ کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ اسلام آباد میں سوئس سفارتخانے کے تمام عملے کو تبدیل کیا جارہا ہے۔

سوئس وزارتِ خارجہ کے ایک اعلان کے مطابق اسلام آباد میں تعینات سوئس سفیر سمیت سفارتخانے کے تمام عملے کو اپنے عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔

سوئس حکومت نے یہ فیصلہ حال ہی میں سامنے آنے والے ویزا سکینڈل کے سلسلے میں تحقیقات کے بعد کیا ہے۔

سوئس وزارتِ خارجہ کے مطابق تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ سفارتی عملہ اپنے فرائض سے غفلت برت رہا تھا۔

برن میں بی بی سی کے نامہ نگار اِموجِن فُوکس کے مطابق ویزا سکینڈل کے بارے میں بہت کم تفصیلات سامنے آئی ہیں۔

ویزا سکینڈل کے بارے میں تحقیقات ان الزامات کے بعد شروع ہوئی تھیں جن میں کہا گیا تھا کہ سوئس سفارتخانے میں کام کرنے والا ایک پاکستانی شہری پیسوں یا جنسی تعلقات کے بدلے ویزا جاری کروایا کرتا تھا۔

نامہ نگار کے مطابق بعد میں پاکستان حکام کی طرف سے کی جانے والی تفتیش میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ سوئس ویزوں کا معاملہ کافی پھیلا ہوا ہے۔

اب سوئس تفتیش کار اپنی تحقیقات کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ سفارتخانے کو انسانی سمگلنگ میں ملوث منظم گروہوں نے نشانہ بنایا ہے۔

سوئس حکومت پہلے ہی اسلام آباد میں اپنے ویزا سیکشن کو پہلے ہی بند کر چکی ہے اور اب اسلام آباد میں قائم سفارتخانے اور کراچی قونصل خانے کے تمام عملے کو تبدیل کیا جا رہا ہے۔

سوئس تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ انہیں سفارتی عملے کی طرف سے کسی مجرمانہ سرگرمی کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔

تاہم سوئس وزارت خارجہ کے بیان میں یہ کہا گیا ہے کہ اسلام آباد میں سوئس سفیر ڈینس فیلڈ میئر اور ان کا سینئر عملہ اپنے فرائض سے غفلت کا مرتکب ہوا ہے۔

نامہ نگار کے مطابق سوئس سفیر فیلڈ میئر اور دو دیگر سفارکاروں کے خلاف انضباطی کارروائی شروع کی جارہی ہے۔

نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اگرچہ سوئس حکام اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ سفارتی عملے کا تبادلہ اس لیے ضروری ہے تاکہ ویزا سیکشن نئے سرے سے کام شروع کر سکے اور اس فیصلہ کو سزا سے تعبیر نہیں کیا جانا چاہیے۔ تاہم سوئس دارالحکومت میں اس بات پر سخت تشویش پائی جا رہی ہے کہ دفتر خارجہ میں ’سب اچھا‘ نہیں ہے۔

اس وقت سوئٹزرلینڈ کی حکومت پاکستان کے علاوہ عمان، پیرو، روس، نائجیریا، سربیا اور ایرٹریا میں ویزا فراڈ کی تحقیقات کر رہی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد