پاکستان میں سوئس ویزا آفس بند | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سوئٹزرلینڈ نے پاکستان میں اپنے سفارتخانے کے بعض افسران کے مبینہ طور پر انسانی سمگلنگ میں ملوث ہونے کے خدشات کی بنا پر ویزا آفس بند کردیا ہے اور پاکستانی حکام کے ساتھ تحقیقات میں مکمل تعاون کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان سنیچر کے روز سوئیزرلینڈ کی وزیر خارجہ مچلین کلمیری نے پاکستانی ہم منصب خورشید محمود قصوری کے ساتھ باضابطہ بات چیت کے بعد مشترکہ نیوز کانفرنس میں کیا۔ سوئس وزیر نے کہا کہ ویزہ کے طریقہ کار کے غلط استعمال کے نتیجے میں ایسا ہوا ہے اور انہوں نے مجبور ہوکر تاحکم ثانی ویزہ آفس بند کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اِن مجرمانہ سرگرمیوں کی وجہ سے ان کے مفادات اور ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔ سوئیزرلینڈ کی وزیر خارجہ جوکہ اپنی وفاقی حکومت کی نائب صدر بھی ہیں اور آئندہ برس صدر بننے والی ہیں، کہا کہ انہیں کچھ خدشات ہیں کہ بعض انسانی سمگلنگ میں ملوث گروہوں نے ان کے سفارتخانے کو استعمال کرنے کے لیئے نشانہ بنایا ہے اور وہ اس معاملے کی مکمل چھان بین چاہتی ہیں۔ اس موقع پر پاکستان کے وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے کہا کہ اسلام آباد میں قائم سوئس سفارتخانے کے کچھ اہلکاروں کی جانب سے ویزہ کے خواہشمند پاکستانیوں کو تنگ کرنے کی شکایات پر بات چیت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سوئس سفارتخانے کے کچھ اہلکار مبینہ طور پر انسانی سمگلنگ میں ملوث ہیں اور اس بارے میں پاکستانی حکام تحقیقات کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق سوئس وزیر سے انہوں نے کہا ہے کہ وہ حقائق جاننے کے لیئے جاری تحقیقات میں مدد کریں اور انہیں خوشی ہے کہ تاحال سوئس حکومت نے اس بارے میں مدد کی ہے اور مزید تعاون کا یقین دلایا ہے۔ واضح رہے کہ کچھ پاکستانی شہریوں کی جانب سے سوئس سفارتخانے کے اہلکاروں پر پاسپورٹ ’ٹیمپر‘ کرنے اور ویزے منسوخ کرنے کے الزامات لگائے گئے تھے۔ جس کے بعد سوئس سفارتخانے کے ایک پاکستانی ملازم اشعر فرینسس کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ سوئس شہریوں سے بھی پوچھ گچھ ہورہی ہے۔ خورشید محمود قصوری نے بتایا کہ انہوں نے اپنی سوئس ہم منصب کے ساتھ امریکہ اور بھارت کے درمیاں شہری جوہری پروگرام میں تعاون کا معاملہ اٹھایا اور کہا کہ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے عالمی برادری میں جوہری ٹیکنالوجی کے حصول کے لیئے اہلیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک میں تعلیم، سائنس اور ٹیکنالوجی، تجارت اور اقتصادی شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بات کی ہے اور پاکستان نے ان سے کہا ہے کہ وہ ’سوئس امپورٹ پروموشن پروگرام‘ میں شامل کریں۔ انہوں نے بتایا کہ مہمان وزیر کو پاک بھارت جامع مذاکرات میں پیش رفت کے بارے میں مطلع کیا گیا ہے جبکہ ایران کا جوہری تنازعہ بات چیت کے ذریعے حل کرنے اور طاقت کے استعمال سے گریز کرنے پر بھی بات ہوئی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان افغانستان میں امن اور ترقی چاہتا ہے کیونکہ یہ ہی پاکستان کے مفاد میں ہے۔ ’نیوکلیئر سپلائرز گروپ‘ یا ’این ایس سی‘ کے رکن ملک کی وزیر خارجہ نے بتایا کہ اس گروپ کے حالیہ اجلاس میں انہوں نے سوال اٹھایا تھا کہ شہری جوہری ٹیکنالوجی کے حصول میں کسی ملک سے امتیاز نہیں برتنا چاہیے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کسی ایسے ملک سے تعاون نہیں کرنا چاہیے جو جوہری ہتھیار بنانے کا خواہاں ہو۔ انہوں نے بتایا کہ ابھی وہ اس بات پر سوچ رہے ہیں کہ کیا بھارت کے ساتھ شہری جوہری پروگرام میں تعاون کے لیے مدد فراہم کرنی چاہیے جبکہ اس نے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر دستخط نہیں کیئے ہیں اور کیا ان کے لیئے خصوصی رعایت کی روایت ڈالنی چاہیے۔ سوئس وزیر نے بتایا کہ ان کا ملک پاکستان میں براہ راست سرمایہ کاری کرنے والا ساتواں بڑا ملک ہے اور ان کی پاکستان میں قائم صنعتوں سے سات ہزار مقامی افراد کو روزگار حاصل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستانی وزیر خارجہ سے انہوں نے انسانی حقوق کی صورتحال بہتر بنانے کے بارے میں تعاون پر تفصیلی بات چیت ہوئی ہے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ کچھ پاکستانی شہریوں کے بینک اکاؤنٹ منجمند کیئے ہیں اور عدالتی کارروائی ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوئٹزر لینڈ دنیا کا ایک بڑا مالیاتی مرکز ضرور ہے لیکن چوری شدہ یا لوٹی ہوئی دولت کے تحفظ میں یقین نہیں رکھتا۔ خورشید محمود قصوری نے گزشتہ سال آٹھ اکتوبر کے زلزلے سے بحالی اور تعمیر نو کے لیئے سوئس حکومت کی جانب سے چار کروڑ ڈالر دینے پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ | اسی بارے میں اسلام آباد: برطانوی سفارتخانہ بند05 July, 2004 | پاکستان امریکی سفارتخانہ کھولنے کا اعلان06 July, 2004 | پاکستان امریکی اور برطانوی سفارتخانے بند05 July, 2004 | پاکستان اسلام آباد: ڈنمارک کا سفارتخانہ بند17 February, 2006 | پاکستان گرفتار پاکستانی کی ہلاکت کی مذمت05 May, 2006 | پاکستان شریف خاندان کو پاسپورٹ مل گئے07 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||