اسلام آباد: برطانوی سفارتخانہ بند | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں برطانوی ہائی کمیشن دہشت گردی کے خطرے کے باعث عارضی طور پر بند کردیا گیا ہے جبکہ امریکی سفارتخانے کا ویزہ سیکشن بند اور امریکہ کے یوم آزادی کے موقع پر ہونے والی تقریب بھی عین وقت پر منسوخ کردی گئی۔ امریکی سفارتخانے کے اہلکار مسٹر اسٹیو لیبینز نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ یوم آزادی کے موقع پر پیر کی دوپہر ہونے والی تقریب ان کے بقول دہشت گردی کے خطرے کے پیش نظر منسوخ کردی گئی ہے۔ امریکی سفارتخانے کے ایک ترجمان کے مطابق سفارتخانے کا ویزہ سیکشن بھی عارضی طور پر بند کردیا گیا ہے۔ جب ان سے خطرے کی نوعیت کے بارے میں پوچھا گیا انہوں نے کہا کہ وہ تفصیلات نہیں بتا سکتے۔ اِدھر اسلام آباد میں قائم برطانوی ہائی کمیشن کو بھی اس طرح کی دھمکیاں موصول ہوئی ہیں جس کے بعد انہوں نے بھی ہائی کمیشن بند کردیا ہے ۔ برطانوی ہائی کمیشن کے شعبہ اطلاعات کے اہلکار ٹم ہینڈلی کا کہنا تھا کہ انہیں فون پر دھمکیاں موصول ہوئی تھیں جس کے بعد سلامتی کو لاحق خطرے کے باعث ہائی کمیشن بند کیا گیا ہے۔
پولس آفیسر کا مزید کہنا تھا کہ انہیں برطانوی ہائی کمیشن نے فون نمبر بھی دیئے ہیں جس سے انہیں فون کیا گیا تھا اور پولیس اس ضمن میں تحقیقات کر رہی ہے۔ ایس پی کا دعویٰ تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ کسی بڑی دہشتگردی کا کوئی خطرہ نہیں، کیونکہ انہوں نے سیکورٹی فورسز کو الرٹ کر رکھا ہے۔ وہ یہ بھی دعویٰ کر رہے تھے کہ امریکی سفارتخانہ اور برطانوی ہائی کمیشن عارضی طور پر بند کیے گئے ہیں۔ وہ کہہ رہے تھے کہ ہوسکتا ہے کہ کسی کو ویزہ نہیں ملا ہو یا ماضی قریب میں کسی ملازم کو ملازمت سے نکالا گیا ہو اور انہوں نے فون کرکے یہ دھمکی دی ہو۔ دریں اثنا دفتر خارجہ کے ترجمان مسعود خان نے ہفتہ وار بریفنگ میں بتایا ہے کہ برطانوی ہائی کمیشن کو مخصوص دہشت گردی کا خطرہ تھا جس بنا پر انہوں نے عارضی طور پر ہائی کمیشن بند کردیا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ امریکی سفارتخانے نے بھی ایسے خطرے کے پیش نظر ایک تقریب منسوخ کردی ہے۔ وہ کہہ رہے تھے کہ سفارتی علاقہ میں حفاظتی انتظامات سخت کردیئے گئے ہیں اور برطانیہ اور امریکہ کے سفارتکاروں کا مکمل تحفظ کیا جائے گا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ سیکورٹی حکام ہر رخ سے تحقیقات کر رہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||