BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 09 May, 2006, 08:10 GMT 13:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ویزہ سکینڈل کی سوئس تفتیش

سوئس ویزا
’اِن مجرمانہ سرگرمیوں کی وجہ سے سوئٹزرلینڈ کے مفادات اور ساکھ کو نقصان پہنچا ہے‘
سوئٹزرلینڈ کی دو رکنی تحقیقاتی ٹیم نےمنگل کو پاکستان کی وفاقی تحقیقاتی ایجنسی ایف آئی اے کے عہدیداران کے ساتھ اسلام آباد میں سوئس سفارتخانے کے ویزا سیکشن کے بعض افسران کے مبینہ طور پر انسانی سمگلنگ میں ملوث ہونے کے بارے میں بات چیت کی ہے۔

پاکستانی حکام کے مطابق اب تحقیقاتی ٹیم سوئس سفارتخانے کے سوئس قومیت رکھنے والے افراد سے تحقیقات کرے گی اور تین روز میں اپنی تحقیقات مکمل کر کے اپنی معلومات کا تبادلہ پاکستانی حکام کے ساتھ بھی کرے گی۔

ایف آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل طارق کھوسہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ سوئس تحقیقاتی ٹیم کی پاکستان آمد ایک اچھا قدم ہے اور اس سے انسانی سمگلنگ میں ملوث نیٹ ورک کا پتہ چلانے میں بہت مدد ملے گی۔

ایف آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ پاکستانی حکام نے اب تک سوئس ویزا سیکشن کے ایک پاکستانی افسر اشعر فرانسس اور چار ٹریول ایجنٹوں کو انسانی سمگلنگ کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سوئس سفارتخانے کے اہلکاروں کی مدد سے جعلی اور نامکمل کاغذات پر بہت سے لوگوں کو سوئٹزرلینڈ اور یورپ بھجوایا گیا۔

طارق کھوسہ کے مطابق ایف آئی اے نے سوئس سفارتخانے سے ان پاکستانی افراد کی فہرست مانگی ہے جنہیں گزشتہ برس ویزے جاری کیئے گئے تاکہ اس با ت کا پتہ چل سکے کہ کتنے افراد غیر قانونی طور پر سوئٹزرلینڈ اور یورپ بھیجے گئے۔

سوئٹزرلینڈ نے پاکستان میں اپنے سفارتخانے کے بعض افسران کے مبینہ طور پر انسانی سمگلنگ میں ملوث ہونے کے خدشات کی بنا پر گزشتہ ہفتے اپنا ویزا آفس تا حکم ثانی بند کردیا تھا۔

واضح رہے کہ گزشہ ہفتے اپنے دورۂ پاکستان کے دوران سوئس وزیر خارجہ مچلین کلمیری نے ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ اِن مجرمانہ سرگرمیوں کی وجہ سے سوئٹزرلینڈ کے مفادات اور ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔

سوئٹزرلینڈ کی وزیرِخارجہ کا کہنا تھا کہ انہیں کچھ خدشات ہیں کہ بعض انسانی سمگلنگ میں ملوث گروہوں نے ان کے سفارتخانے کو استعمال کیا ہے اور وہ اس معاملے کی مکمل چھان بین کرنا چاہتی ہیں۔

واضح رہے کہ سوئس سفارتخانے کے ویزا افسر اشعر فرانسس کو گزشتہ ماہ ایک پاکستانی خاتون امِ سلمہ کی شکایت کے بعد گرفتار کیا تھا جس میں انہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ اشعر فرانسس نے انہیں جنسی طور پر ہراساں کیا اور ان کے غصہ ہونے پر ان کے پاسپورٹ پر لگے دوسرے ممالک کے ویزے کینسل کر کے ان کا پاسپورٹ ’ٹمپر‘ کر دیا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد