ویزہ سکینڈل: ملزم کا پولیس ریمانڈ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی ایک سول عدالت کے جج مزمل موسیٰ نے جمعہ کو ’سوئس ویزہ سکینڈل‘ کے مبینہ ملزم اشعر فرینکس کو ایک روزہ پولیس ریمانڈ میں دیتے ہوئے ان کا طبی معائنہ کرانے اور ان کا بیان دوبارہ ریکارڈ کرنے کا حکم دیا ہے۔ اسلام آباد میں سوئزر لینڈ کے سفارتخانے میں ’اسٹنٹ ویزہ افسر‘ کے طور پر کام کرنے والے پاکستانی شہری اشعر فرینکس پر الزام ہے کہ انہوں نے ویزہ حاصل کرنے والی بعض پاکستانی خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کیا اور ان کے لگے ہوئے ویزے منسوخ کر کے بعض درخواست گزاروں کے خلاف جعلسازی کے مقدمات بنوائے۔ لاہور کی اُمِ سلمہ نامی خاتون اور ان کے شوہر میاں سلیم رضا نے پولیس کو درخواست دی تھی جس میں انہوں نے جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزامات عائد کیے تھے۔ اُمِ سلمہ اور ان کے شوہر بھی عدالت میں موجود تھے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ لاہور میں ’پراپرٹی‘ کا کام کرتے ہیں۔ عدالت نے پولیس کو حکم دیا کہ ملزم کی مرضی کا دوبارہ بیان ریکارڈ کرکے غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائے اور انہیں سنیچر کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے۔ قبل ازیں اشعر فرینکس کے وکیل ڈاکٹر محمد علی سیف نے عدالت سے استدعا کی کہ ویزہ دینے یا منسوخ کرنے کا اختیار ویزہ افسر کا ہوتا ہے اور ان کے موکل پر الزامات بے بنیاد ہیں۔ انہوں نے اپنے موکل کو پولیس ریمانڈ میں دینے کی مخالفت کی۔ کئی ہفتوں سے اس بارے میں مقامی اخبارات میں خبریں شائع ہورہی تھیں لیکن پولیس نے ملزم اشعر کو چھ اپریل جمعرات کو ایک مقامی عدالت کے حکم پر گرفتار کرلیا تھا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ اسلام آباد میں قائم کسی سفارتخانے کے افسر کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ تھانہ سیکریٹریٹ کے تفتیشی افسر کا کہنا ہے کہ تاحال بائیس ایسے درخواست گزار سامنے آئے ہیں جن کا دعویٰ ہے کہ اشعر فرینکس نے ان کے لگے ہوئے ویزے منسوخ کر کے ان کے خلاف فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی یعنی ’ایف آئی اے‘ کو جعلسازی کے الزامات کے تحت معاملات بھیجے۔ | اسی بارے میں ویزہ نہ جاری کرنے کی مذمت09 July, 2005 | پاکستان ویزہ ملا نہیں لیکن ٹکٹ کے لیےدوڑ02 February, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||