ویزہ ملا نہیں لیکن ٹکٹ کے لیےدوڑ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور بھارت کے درمیان اٹھارہ فروری سے کھوکھروپار موناباؤ ریل سروس کی بحالی کے اعلان کے بعد اپنے رشتہ داروں سے ملنے کے لیے بیتاب پاکستانی ٹکٹ لینے کے لیئے ریلوے سٹیشن پر پہنچ چکے ہیں۔ کراچی کے کینٹ ریلوے سٹیشن پر تھر ایکسپریس کی ٹکٹ کے لیئے ایک خصوصی کاؤنٹر قائم کیا گیا ہے جس نے گزشتہ شام سے کام شروع کردیا ہے اورگزشتہ چوبیس گھنٹوں میں پچاس سے زائد ٹکٹ فروخت ہوچکے ہیں ۔ کراچی میں ابھی تک ویزہ سیکشن نہیں کھل سکا لیکن اس کے باوجود لوگ ٹکٹ لے رہے ہیں۔ انہیں خدشہ ہے کہ شاید بعد میں ٹکٹ نہ مِل سکیں۔ ٹھٹہ کے رہائشی غلام قادر نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ تھر ایکسپریس کے ذریعے زیارت کے لیئے اجمیر شریف جانے کے خواہشمند ہیں۔ انہیں امید ہے کہ انہیں ایک روز میں ویزہ مِل جائے گا۔ کھوکھروپار روٹ کھلنے کے اعلان کے بعد سندھ کے لوگ بھارت جانے کےلیئے اس راستے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ کراچی کے رہائشی کامل شاہ نے بتایا کہ ان کے قریبی رشتہ دار رن آف کچھ سے واہگہ بارڈر کے راستے پاکستان آئے تھے مگر یہ راستے طویل ہونے کی وجہ سے وہ تھر ایکسپریس سے واپس جانا چاہتے ہیں۔ اس لیئے وہ کوشش کر رہے ہیں کہ انہیں ٹِکٹ مل جائے۔
اسی طرح زاہد حسین نامی ایک نوجوان نے بتایا کہ ان کو ایک ماہ قبل ویزہ مل گیا تھا مگر اس پر واہگہ اٹاری روٹ لکھا ہوا ہے جبکہ وہ کھوکھرو پار روٹ سے جانا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی سے واہگہ بارڈر کے راستے بھارت جانے کا خرچہ فی کس ساڑھے تین سے چار ہزار روپے آتا ہے مگر کھوکھروپار کے راستے جانے سے ایک ہزار روپے کا بھی خرچہ نہیں ہوگا۔ کھوکھروپار کا راستہ کھلنے سے وقت اور پیسے دونوں کی بچت ہے۔ کراچی کے ایک اور رہائشی عبدالعزیز نے بتایا کہ وہ بنگلور میں اپنے رشتہ داروں کے پاس جانا چاہتے ہیں ۔ ابھی تک ویزہ تو نہیں ملا ہے مگر وہ اس کےلیئے عرضی دینگے۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں فوری ویزہ سیکشن کھولنا چاہیے کیونکہ اسلام آباد دور پڑتا ہے۔ گجرات جانے کے خواہشمند ایک شخص ولی کا کہنا تھا کہ وہ کراچی میں بھارتی قونصل خانے گئے تھے جنہوں نے انہیں یقین دہانی کروائی ہے کہ پندرہ فروری تک ویزہ سیکشن کھل جائیگا جس کے بعد وہ ٹکٹ لے رہے ہیں۔ نیو کراچی کے رہائشی غلام اسحاق نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ میوات جانا چاہتے ہیں جہاں ان کے بزرگ رہتے ہیں۔ اس سے قبل وہ کبھی بھارت نہیں گئے اب راستے کھل رہا ہے تو ان کی بھی خواہش ہے کہ وہاں جا کر رشتے داروں سے ملاقات کریں۔ قاری عبدالعزیز نابینا ہیں لیکن اپنے ’بزرگوں کی سرزمین‘ پر جانے کی آس ان کے دل میں موجود ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ چالیس سال قبل اسی راستے سے بھارت گئے تھے۔ اب خاندان کے آٹھ افراد کےساتھ جانے کی خواہش رکھتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جب وہ گئے تھے تو ان کی عمر صرف چھ سات برس تھی وہ وہاں جاکر اپنے بچھڑے ہوئے رشتیداروں سے ملنا چاہتے ہیں۔ تھر ایکسپریس میں جانے کے خواہشمندوں میں حبیب جان جونا گڑھ کے رہائشی ہیں جہاں سے وہ انیس سو اناسی میں ہجرت کرکے پاکستان آئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں انیس سو چھیاسی میں پاکستانی شہریت مل گئی تھی جس کے بعد وہ دو مرتبہ بھارت جاچکے ہیں۔ ان کے بڑے بھائی اور بہنیں وہیں رہتے ہیں۔ حبیب جان کے مطابق یہ راستہ چھوٹا ہے جبکہ واہگہ کا راستہ بہت طویل ہے۔ ایک بزرگ اقبال نے جن کے پاس گلابی رنگ کا ٹکٹ تھا کہا کہ وہ جودھپور جانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ویزہ وہ بعد میں لے لیں گے ’مگر ٹکٹ ختم ہو جانے کے ڈر سے وہ پہلے ٹکٹ لے رہے ہیں‘۔ کراچی کینٹ اسٹیشن کے کمرشل سپرانٹنڈنٹ معظم الرحمان نے بتایا کہ زیرو پوائنٹ کے لئے فی الحال وہ کرنٹ ٹکٹ جاری کر رہے ہیں جبکہ ایڈوانس بکنگ پندرہ تاریخ سے شروع ہوجائیگی۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تک کمپیوٹر میں کرایوں کا اندراج نہیں ہوسکا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ ٹکٹ کے لیئے قومی شناختی کارڈ یا پاسپورٹ دیکھا جاتا۔ معظم الرحمان نے کہا کہ انہوں نے لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ ویزہ نہ مل سکنے کی صورت میں وہ پندرہ تاریخ تک ٹکٹ ری فنڈ کروالیں نہیں تو پچاس فیصد کٹوتی ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ کھوکھرو پار کے لیئے پہلی ریل سترہ تاریخ کو رات گیارہ بجے روانہ ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ فل الوقت اس کی بوگیوں کی تعداد نہیں بتائی جا سکتی۔ | اسی بارے میں ریل رابطے، بات چیت کا پہلا دور02 December, 2004 | پاکستان کھوکھرا پار ریل چار فروری سے20 January, 2006 | پاکستان براستہ کھوکھراپار پہلا بھارتی وفد 29 January, 2006 | پاکستان پاک بھارت تعلقات میں پیشرفت کا سال26 December, 2005 | پاکستان کھوکھراپار ریل، سال کے آخر تک04 March, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||