ضوابط کا اعلان، روپے میں بہتری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے امریکی ڈالر کے مقابل پاکستانی روپے کی گرتی ہوئی ساکھ کو سنبھالنے کے لئے نئے مالی ضوابط کے نفاذ کا اعلان کیا ہے جس کے بعد اوپن مارکیٹ میں روپے کی قدر میں بہتری آئی ہے۔ ان ضوابط کی وجہ سے بدھ کو مارکیٹ بند ہونے تک ڈالر کی قیمت میں دو روپے بیس پیسے کی کمی واقع ہوئی ہے اور اب ڈالر50ء71 پیسے میں فروخت ہورہا ہے۔ مرکزی بینک نے ایک سرکولر کے ذریعے منی ایکسچنج کمپنیز کے قوائد و ضوابط میں بعض ترامیم کی ہیں جن کے تحت ان کمپنیز کو پابند کیا گیا ہے کہ آئندہ وہ پچاس ہزار یا اس سے زائد امریکی ڈالر فروخت کرنے سے قبل اسٹیٹ بینک سے پیشگی منظوری حاصل کریں گی۔ تاہم یہ پابندی بینکوں یا ایکسچنج کمپنیوں کو امریکی ڈالر کی فروخت پر لاگو نہیں ہوگی۔ بینک نے ایکسچنج کمپنیوں سے کہا ہے کہ وہ پچاس ہزار یا اس سے زائد امریکی ڈالر کی فروخت کے لئے بینک سے منظوری حاصل کرنے کے لئے بھیجی جانے والی درخواستوں میں ایسے گاہکوں کے مکمل کوائف درج کریں مثلاً ان کے نام، پتہ، قومی شناختی کارڈ نمبر، رقم کی مالیت اور خریداری کا مقصد وغیرہ۔ اسی طرح ایک دوسری ترمیم کے ذریعے اسٹیٹ بینک نے اوپن منی مارکیٹ یا زرمبادلہ کی تجارت کے کاروباری اوقات کار میں بھی کمی کردی ہے۔ اس سے پہلے یہ کاروبار پیر سے جمعہ تک شام ساڑھے چار بجے تک اور سنیچر کو دوپہر ایک بجے تک کیا جاسکتا تھا تاہم اب یہ کاروبار پیر سے جمعرات تک دوپہر دو بجے تک اور جمع اور ہفتہ کو دوپہر ایک بجے تک کیا جاسکے گا۔ مرکزی بینک نے متعلقہ ضوابط میں ایک اور ترمیم کے تحت ایکسچنج کمپنیوں کے ذریعے درآمد کنندگان کو غیرملکی سودوں کے لئے فارورڈ بکنگ کے لئے امریکی ڈالر کی فروخت سے بھی روک دیا ہے۔ البتہ پہلے سے طے شدہ سودوں پر اسکا اطلاق نہیں ہوگا۔ اسی طرح غیرملکی سودوں کے لئے درآمد کنندگان کو اس سے پہلے سودے کی کل رقم کا پچاس فیصد پیشگی دینے کی اجازت تھی لیکن اب یہ حد کم کر کے پچیس فیصد کردی گئی ہے۔ سرکولر کے مطابق خام تیل کی درآمد پر خرچ ہونے والا زرمبادلہ اب اسٹیٹ بینک فراہم کرے گا۔ اس سے پہلے یہ زرمبادلہ انٹربینک مارکیٹ سے حاصل کیا جاتا تھا۔ بینک نے خبردار کیا ہے کہ اس ضابطے کی پابندی نہ کرنے والی کمپنیوں کے خلاف سخت انضباطی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ واضح رہے کہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے یہ اقدامات ایسے وقت میں کئے گئے ہیں جب ڈالر کے مقابلے میں روپے کی ساکھ غیرمستحکم ہے اور ماہرین کے مطابق اس کی وجہ اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی طلب کے مقابلے میں رسد میں کمی ہے۔ پچھلے چند دنوں میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ کی قدر میں تین روپے ستر پیسے کی ریکارڈ کمی ہوئی تھی اور ڈالر 70ء73 روپے تک پہنچ گیا تھا۔ | اسی بارے میں روپے کی قدر میں’ریکارڈ کمی‘08 July, 2008 | پاکستان تیل کی قیمتوں میں پھر اضافہ29 June, 2008 | پاکستان کراچی سٹاک مارکیٹ میں مندی23 June, 2008 | پاکستان ’معیشت کیلیے اچھا سال نہیں تھا‘10 June, 2008 | پاکستان پاکستانی معیشت دباؤ میں: رپورٹ31 May, 2008 | پاکستان شرح سود میں ڈیڑھ فیصد اضافہ22 May, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||