روپے کی قدر میں’ریکارڈ کمی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی اوپن مارکیٹ میں ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں مسلسل تین روز سے کمی کے رجحان کے باعث ڈالر کی قیمت 73 روپے سے تجاوز کرگئی ہے جو ماہرین کے مطابق تاریخ میں پاکستانی روپے کے مقابلے میں ڈالر کی بلند ترین سطح ہے۔ گزشتہ روز اوپن مارکیٹ میں ڈالر بہتّر روپے میں فروخت ہوا تھا جبکہ آج مارکیٹ بند ہونے تک ڈالر کی قیمت 70ء73 روپے تک پہنچ گئی۔ اس بارے میں ایک نجی منی ایکسچنج کمپنی کے اہلکار نبیل اقبال کا کہنا ہے کہ’ہم نے مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں اتنا اضافہ کبھی نہیں دیکھا‘۔انہوں نے بتایا کہ پچھلے تقریباً ایک ہفتے سے ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر گررہی ہے اور یہ کمی اب تک تقریباً دو سے تین فیصد تک رہی ہے جو بہت غیر معمولی ہے۔ ان کے مطابق ڈالر کی قیمت میں اچانک اتنے اضافے کی بنیادی وجہ ملک میں ڈالر کی مانگ میں اضافہ ہے۔’پچھلے دو ہفتوں سے مارکیٹ میں ڈالر کی کافی زیادہ ڈیمانڈ ہے اور کارپوریٹ کسٹمرز ہیں خصوصاً آئل کمپنیز اور امپورٹرز اس وقت مارکیٹ میں کافی زیادہ خریداری کر رہے ہیں۔ اس وجہ سے انٹر بینک مارکیٹ میں کافی پریشر ہے اور اوپن مارکیٹ میں بھی ڈالر کی قدر مسلسل بڑھ رہی ہے‘۔ نبیل اقبال کے مطابق ڈالر کی قیمت میں اضافے سے مہنگائی بڑھتی ہے اس لیے اس سے عام لوگوں کی زندگی پر منفی اثرات پڑ سکتے ہیں۔’وہ اشیائے ضرورت جو باہر سے درآمد ہوتی ہیں یا جن کا خام مال باہر سے آتا ہے ان کی قیمتوں پر فرق پڑتا ہے اور وہ بڑھنا شروع ہوجاتی ہیں مثلاً تیل، بجلی اور گیس وغیرہ‘۔ انہوں نے بتایا کہ روپے کی قیمت کو مستحکم رکھنے کے لیے مارکیٹ میں طلب کے حساب سے ڈالر کی رسد میں اضافے کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے لیے حکومت اور سٹیٹ بینک کا کردار بڑا اہم ہے۔’اس وقت سب سے ضروری بات یہ ہے کہ سٹیٹ بینک مارکیٹ میں ڈالر کی سپلائی پر توجہ دے، زیادہ سے زیادہ ڈالر مارکیٹ میں دستیاب ہوں تاکہ اس طلب کو پورا کیا جا سکے‘۔ فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے صدر ملک بوستان کا کہنا ہے کہ ڈالر کی قیمت میں اضافے کی بنیادی وجوہات بڑھتا ہوا تجارتی عدم توازن، خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ، ملک کی غیریقینی سیاسی صورتحال اور بم دھماکے ہیں جن کی وجہ سے ملک میں غیرملکی سرمایہ کاری سکڑ گئی ہے۔ ان کے مطابق ہمارا ٹریڈ گیپ (درآمدات اور برآمدات کا فرق) بیس ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے اور غیر ملکی سرمایہ کاری بھی امن و امان کی خراب صورتحال اور بے یقینی کی وجہ سے چالیس فیصد کم ہوگئی ہے‘۔ ملک بوستان نے روپے کی گرتی ہوئی ساکھ کا ذمہ دار حکومت اور سٹیٹ بینک کو قرار دیا اور کہا کہ اسے سنبھالنے کے لیے سٹیٹ بینک کو آگے آنا چاہیے ورنہ ڈالر کی قیمت میں اضافے سے مہنگائی بڑھے گی۔’ابھی تو انہیں یہ اتنا محسوس نہیں ہو رہا لیکن میرے خیال میں جب ڈالر اسّی روپے کراس کرے گا تو مہنگائی کا ایسا طوفان آئے گا کہ لوگ سڑکوں پر آجائیں گے اور لوگ بجائے کوئی اور کاروبار کرنے کے ڈالر خریدنا شروع کردیں گے جس طرح 1998 میں ہوا تھا‘۔ انہوں نے کہا کہ ’سٹیٹ بینک کو روپے کو بے یارومددگار نہیں چھوڑنا چاہیے بلکہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے منی ایکسچینجرز سمیت تمام فریقین کا ہنگامی اجلاس بلانا چاہیے‘۔ اس بارے میں سٹیٹ بینک کا مؤقف جاننے کے لیے جب بینک کے ترجمان سید وسیم الدین سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ بینک کا کوئی بھی اہلکار فی الوقت اس بارے میں کوئی بات نہیں کر سکتا۔ | اسی بارے میں شرح سود میں ڈیڑھ فیصد اضافہ22 May, 2008 | پاکستان ’معیشت کیلیے اچھا سال نہیں تھا‘10 June, 2008 | پاکستان کراچی سٹاک مارکیٹ میں مندی23 June, 2008 | پاکستان تیل کی قیمتوں میں پھر اضافہ29 June, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||