BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 10 June, 2008, 14:09 GMT 19:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’معیشت کیلیے اچھا سال نہیں تھا‘

نوید قمر
’غربت کی حدود جاننے کے لیے حکومت ایک نیا سروے کروائی گی ‘
وزارت خزانہ کی جانب سے تیس جون کو ختم ہونے والے مالی سال کے بارے جاری کردہ اقتصادی سروے میں کہا گیا ہے کہ مالی سال دو ہزار سات اور آٹھ کے درمیان معیشت کے بیشتر شعبے سست روی کا شکار رہے اور اقتصادی نمو کی رفتار، افراط زر کی شرح، مالیاتی خسارے اور سرمایہ کاری سمیت اقتصادی کارکردگی سے متعلق اہداف پورے نہ ہو سکے۔

اسلام آباد میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس میں وزیر خزانہ نوید قمر نے اقتصادی سروے پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ سال پاکستانی معیشت کے لیے اچھا نہیں رہا اور ملک کے اندر اور باہر رونما ہونے والے متعدد سیاسی اور معاشی واقعات نے معیشت پر منفی اثر ڈالا۔

معیشت کے مختلف شعبوں کی کارکردگی کی تفصیل بتاتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ اس سال اقتصادی نمو کی شرح کا سات اعشاریہ دو فیصد کا ہدف پورا نہ ہو سکا اور شرحِ نمو پانچ اعشاریہ آٹھ فیصد رہی جس میں زراعت کا حصہ چار اعشاریہ آٹھ کے طے شدہ ہدف کے مقابلے میں صرف ڈیڑھ فیصد رہا۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ زراعت میں اس تنزلی کی وجہ پاکستان کی بڑی فصلوں کی خرابی ہے جن میں تین فیصد کے حساب سے کمی واقع ہوئی جبکہ طے شدہ ہدف کے مطابق انہیں آٹھ فیصد سے زائد کی شرح سے اپنی پیداوار میں اضافہ دینا تھا۔

اسی طرح توقعات کے مطابق صنعتی شعبے میں بارہ فیصد سے زائد ترقی متوقع تھی لیکن اس کی شرح پانچ فیصد سے بھی کم رہی۔وزیر خزانہ کے مطابق گزشتہ پانچ برس کے دوران ملکی معیشت سات فیصد کی اوسط سے ترقی کرتی رہی لیکن اس سال اس کی قدر میں اچانک کمی واقع ہوئی ہے جس میں بعض مقامی اور بین الاقوامی عوامل شامل ہیں۔

سروے کے مطابق اس سال افراط زر کی شرح دس فیصد سے کچھ زیادہ رہی جس میں زیادہ حصہ خوراک اور تیل کی بڑھتی عالمی قیمتوں کا ہے۔ وزیرخزانہ نے کہا کہ ان دو عوامل کے علاوہ سابق حکومت کے سٹیٹ بنک سے قرضے لینے کے رجحان نے بھی افراط زر کی شرح میں اضافہ کیا۔

غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں تین ارب سے زائد کی کمی ہوئی

بجٹ کی تیاری کے دوران حکومت کو جس ایک سب سے بڑے چیلنج کا سامنا ہے اور جو آنے والے مالی سال کے دوران بھی مشکلات کا باعث بنے گا وہ مالیاتی خسارے میں غیر معمولی اضافہ ہے جس کی شرح سات فیصد رہی جبکہ اس کے لیے چار فیصد کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ اتنے زیادہ مالیاتی خسارے کی بڑی وجہ تیل اور دیگر مدوں میں دی جانے والی سبسڈی ہے۔

سرمایہ کاری بھی معیشت کے اس عمومی منفی رجحان سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکی اور اس کی شرح بائیس اعشاریہ نو سے کم ہو کر اکیس اعشاریہ چھ فیصد رہ گئی۔

سروے کے مطابق اس سال کے دوران سٹیٹ بنک نے سخت مالیاتی پالیسی جاری رکھی جس کی وجہ سے سرمائے کے پھیلاؤ میں کچھ کمی واقع ہوئی اور نجی شعبے کو دیے جانے والے قرضوں کی شرح میں دو فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

سروے کے مطابق بڑھتا تجارتی خسارہ ایک اور بڑے چیلنج کے طور پر سامنے آیا جو کہ سترہ ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے جبکہ اس کا ہدف گیارہ ارب ڈالر تک رکھا گیا تھا۔ اس مالی سال میں پاکستان کی برآمدات تیرہ سے بڑھ کر پندرہ ارب ڈالر اور درآمدات بتیس ارب ڈالر سے زائد رہیں۔

اس ایک برس میں بیرونی قرضوں کی مد میں بھی پانچ ارب ڈالر اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو بڑھ کر پینتالیس ارب ڈالر ہو گئے۔ اسی طرح غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں تین ارب سے زائد کی کمی ہوئی جو اپریل کے مہینے میں بارہ ارب ڈالر تک پہنچ گئے تھے۔

’مالیاتی خسارے کی بڑی وجہ تیل اور دیگر مدوں میں دی جانے والی سبسڈی ہے‘

وزیر خزانہ نے بتایا کہ خوراک کی بڑھتی قیمتوں کے باعث دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی غربت میں اضافہ ہوا ہے لیکن وہ اس بارے میں سابق حکومت کے جاری کردہ اعداد کو قابل بھروسہ نہیں سمجھتے۔ انہوں نے کہا کہ اسی بنیاد پر غربت کی حدود جاننے کے لیے حکومت ایک نیا سروے کروائی گی اور اسی بنیاد پر ہی غربت کے خاتمے کے لیے پالیسی ترتیب دی جائے گی۔

سروے کے مطابق سال دو ہزار چھ اور سات کے دوران روزگار کے سات لاکھ نئے مواقع پیدا ہوئے جو کہ پچھلے پانچ برسوں میں پیدا ہونے والی سوا کروڑ ملازمتوں کے مقابلے میں کم رہی۔ اس کے مقابلے میں بیرزوگار افراد کی تعداد اکتیس لاکھ سے کم ہو کر چھبیس لاکھ ہو گئی۔

اس دوران جن شعبوں میں کچھ بہتری کے آثار نظر آئے ان میں سروسز، تعمیراتی شعبے اور بیرون ملک سے ترسیلات زر کی شرح شامل ہیں۔ وفاقی وزیر نے یہ خوشخبری بھی سنائی کہ پاکستان میں فی کس آمدنی نو سو چھبیس ڈالر سے بڑھ کر ایک ہزار پچاسی ہو گئی ہے۔

عوام کیا چاہتے ہیں؟
بجٹ سے اسلام آباد کے شہریوں کی توقعات
اسی بارے میں
تیل کی قیمتوں میں اضافہ
01 March, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد