BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 18 January, 2008, 17:10 GMT 22:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انشورنس پریمیم بڑھانے پر غور

کراچی میں ہنگامے(فائل فوٹو)
ہنگاموں کے دوران سب سے زیادہ نقصان صوبۂ سندھ میں ہوا
انشورنس کمپنیاں ستائیس دسمبر کو بینظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد پھوٹنے والے ہنگاموں میں نقصانات کا اندازہ لگارہی ہیں۔ یہ کمپنیاں مستقبل میں ہنگاموں کی نذر ہونے والی کاروں اور موٹرسائیکل مالکان سے زائد پریمیم وصول کرنے پر غور کررہی ہیں۔

انشورنس کمپنیوں کی نمائندہ تنظیم نے اپنے ممبران سے رائے مانگی ہے کہ کیا موجودہ پالیسی ہولڈروں سے ایک ہزار روپے زائد وصول کرنے سے نقصانات کے کلیم کی رقم دینے میں کمپنیوں کو مالی مشکلات پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے۔

انشورنس کمپنیوں نے اب تک کے تخمینے کے مطابق آٹھ سے دس ارب روپے نقصان کا اندازہ لگایا ہے جس کی ادائیگی متاثرہ پالیسی ہولڈروں کو کرنا پڑے گی۔

انشورنس ایسوسی ایشن آف پاکستان نے اپنی ممبر کمپنیوں کو تجویز دی ہے کہ موجودہ پالیسی ہولڈروں سے ایک ہزار روپے زیادہ رقم پریمیم کی مد میں وصول کرنے سے انشورنس کمپنیوں کو نقصانات کے کلیم کی رقم دینے میں اپنی مالی مشکلات پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے۔

انشورنس تجویز
 مستقبل میں جتنے بھی پالیسی خریدنے کے خواہشمند حضرات ہیں ان کو آفر دی جائے کہ اگر وہ دہشت گردی یا ہنگاموں میں اپنی گاڑی کے نقصان کی صورت میں کوریج چاہتے ہیں تو کار مالکان کو ایک ہزار روپے اور موٹرسائیکل مالکان کو دو سو روپےمزید ادا کرنے ہوں گے۔ یہ تجویز ابھی زیرِغور ہے اور اس کا اطلاق تاحال نہیں ہوا ہے۔
محمد غفار
تاہم انشورنس کے امور کے ایک ماہر محمد غفار نے بی بی سی سے باتیں کرتے ہوئے بتایا کہ جو پالیسی بن چکی ہوتی ہیں اس پر مزید پیسے نہیں لیے جاسکتے ہیں البتہ یہ ہوسکتا ہے کہ مستقبل میں جتنے بھی پالیسی خریدنے کے خواہشمند حضرات ہیں ان کو آفر دی جائے کہ اگر وہ دہشت گردی یا ہنگاموں میں اپنی گاڑی کے نقصان کی صورت میں کوریج چاہتے ہیں تو کار مالکان کو ایک ہزار روپے اور موٹرسائیکل مالکان کو دو سو روپےمزید ادا کرنے ہوں گے۔ یہ تجویز ابھی زیرِغور ہے اور اس کا اطلاق تاحال نہیں ہوا ہے۔

نقصانات کے تخمینے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اب تک تو انشورنس کمپنیاں نقصانات کے بارے میں معلومات جمع کر رہی ہیں کیوں کہ انشورنس کرانے والے پالیسی ہولڈروں کا نیٹ ورک بہت بڑا ہے اور اس میں ابھی وقت لگے گا۔

انہوں نے کہا کہ جیسے جیسے کلیم داخل کرائے جارہے ہیں اسی طرح اسے ترتیب میں بھی لایا جارہا ہے لیکن اس وقت کل نقصانات کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ انشورنس کمپنیوں کو خدشہ ہے کہ انشورنس والی املاک کے کلیم دس ارب روپے سے زیادہ ہوسکتے ہیں۔

ہنگاموں کے دوران سب سے زیادہ نقصان کراچی سمیت صوبہ سندھ میں ہوا ہے جہاں گاڑیوں کے علاوہ بینک برانچیں، کارخانے، پیٹرول پمپ، ریلوے کی املاک اور دیگر سرکاری عمارتوں کو نقصان پہنچایا گیا ہے یا جلایا گیا ہے۔ حکومت نےاب تک تین دن کے ہنگاموں کے دوران ہونے والے نقصانات کا تخمینہ اسّی ارب سے سو ارب روپے لگایا ہے جس میں سب سے زیادہ یعنی پچاس ارب روپے سے زیادہ کا نقصان صرف ریلوے کی تنصیبات کو پہنچایا گیا ہے جس کی انشورنس بھی نہیں تھی۔

اسی بارے میں
پرتشدد احتجاج میں کمی
30 December, 2007 | پاکستان
سندھ: ہنگامے، فوج الرٹ
28 December, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد