بینظیر قتل: سوگ و احتجاج جاری رہا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں بینظیر بھٹو کے قتل کے تیسرے روز بھی سوگ کی کیفیت رہی، ملک کے مختلف حصوں میں انکی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی اور پیپلز پارٹی کے کارکنوں کا احتجاج اور توڑ پھوڑ جاری رہا۔ پورے ملک میں سنیچر کو بھی ہڑتال رہی اور کاروبار زندگی بند ہونے کی وجہ سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا رہا۔ سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کی ہلاکت کے باعث لاہور کے شہری ابھی تک سوگ میں ہیں۔ سنیچر کے روز داتا دربار کے مقام پر پیپلز پارٹی کے ہزاروں کارکنوں نے بینظیر بھٹو کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی۔ اسکے بعد کارکنوں نے ایک جلوس کی شکل اختیار کر لی اور نعرے لگاتے ہوئے مال کی طرف گئے ان مظاہرین نے توڑ پھوڑ کی کوشش کی لیکن پولیس نے انکی یہ کوشش ناکام بنا دی۔ لاہور پریس کلب میں بھی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی جس میں صحافیوں کے علاوہ وکلاء اور سول سوسائٹی کے ارکان نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر حکومت مخالف نعرے بازی کی گئی۔ لاہور میں پبلک ٹرانپسورٹ، دوکانیں اور پیٹرول پمپ بند رہے جس کی وجہ سے عام شہریوں کو دشواری پیش آتی رہی۔ اسلام آباد سے ہمارے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق راولپنڈی میں پولیس اور پیپلز پارٹی کے کارکنوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ لیاقت باغ میں بینظیر بھٹو کی غائبانہ نماز جنازہ کے بعد مظاہریں نے شیخ رشید احمد کی لال حویلی جانے کی کوشش کی۔ پولیس کے روکنے پر مظاہرین نے ان پر پتھراو کیا، اس پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس استعمال کی۔ پولیس نے چالیس کے قریب مظاہرین کو گرفتار بھی کیا ہے۔
پنجاب کے دیگر شہروں ملتان، گوجرانوالہ، سرگودہا اور فیصل آباد میں بھی بینظیر بھٹو کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی۔ سرگودہا میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان ہلکی پھلکی جھڑپیں ہوئیں۔ گوجرانوالہ میں پولیس نے پیپلزپارٹی کے ستائس سو کارکنوں پر دہشتگردی کے مقدمات درج کیے ہیں اور ایک سو چوراسی کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ان شہروں میں بھی ہڑتال کی وجہ سے لوگوں کو اشیائے خوردونوش کے حصول میں دشواری پیش آتی رہی۔ پشاور سے ہمارے نامہ نگار انتخاب امیر کے مطابق پیپلز پارٹی اور جمعیت علماء اسلام (فضل الرحمن) کے کارکنوں نے بینظیر بھٹو کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی۔ پشاورمیں صورتحال مجموعی طور پر پر امن رہی لیکن یہاں بھی کاروبار زندگی مکمل طور پر بند رہا۔ کوئٹہ سے نامہ نگار عزیز الا خان نے بتایا کہ کوئٹہ میں بھی ہڑتال جاری رہی اور وکلا نے احتجاجی جلوس نکال کر حکومت مخالف نعرہ بازی کی۔ صحبت پور میں مظاہرین نے ایک بنک کے شیشے توڑے اور ڈیرہ اللہ یار میں حالات کشیدہ ہونے کی وجہ سے ایف سی کے اہلکار تعینات کر دیےگئے ہیں۔ بلوچستان میں بھی مکمل ہڑتال رہی اور شہری اشیائے زندگی کے لئے شہر کے چکر لگاتے رہے تاہم بلوچستان مجموعی طور پر پُر امن رہا۔ مظفر آباد سے نامہ نگار ذوالفقار علی پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں بھی لوگوں نے سوگ منایا۔ کشمیر کے آٹھ اضلاع میں بھی بینظیر بھٹو کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی۔ اس موقع پر دوکانیں اور کاروباری مراکز بند رہے اور احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ تاہم کسی ناخوشگوار واقعہ کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ |
اسی بارے میں احتجاج اور ہنگاموں کا سلسلہ جاری29 December, 2007 | پاکستان بینظیر قتل: حِصص بازار میں مندی 28 December, 2007 | پاکستان سندھ میں سات اسٹیشن نذرآتش28 December, 2007 | پاکستان کراچی: فائرنگ، چھ افراد ہلاک28 December, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||