BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 25 March, 2008, 13:41 GMT 18:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پبلک ٹرانسپورٹ، دو روزہ ہڑتال کا اعلان

فائل فوٹو
ٹرانسپورٹروں کا مطالبہ ہے کہ تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کو فوری طور پر واپس لیا جائے
کراچی میں پبلک ٹرانسپورٹروں نے حکومت کی جانب سے رواں ماہ کے دوران دو مرتبہ تیل کی قیمتون میں اضافہ کے خلاف دو روزہ ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ اس سے قبل اٹھارہ مارچ کو وہ ایک روزہ ہڑتال کر چکے ہیں۔

ٹرانسپورٹ تنظیموں نے ہڑتال کی یہ کال یکم اور دو اپریل کو دی ہے اور دعوٰی کیا ہے کہ شہر بھر میں بسیں، منی بسیں اور کوچیں دو دن تک نہیں چلیں گی جبکہ کراچی سے مال بردار گاڑیاں بھی دو دن تک اندرونِ ملک کے لیے نہیں جائیں گی۔

ٹرانسپورٹروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کو فوری طور پر واپس لیا جائے۔ کے ٹی آئی یعنی کراچی ٹرانسپورٹ اتحاد کے سربراہ ارشاد بخاری کا کہنا ہے کہ اگر نئی حکومت نے تیل کی قیمتوں میں اضافہ واپس نہ لیا تو وہ اس کا خیرمقدم بھی ہڑتال سے کریں گے۔

حکومت نے یکم مارچ کے بعد موجودہ اضافہ پندرہ مارچ کو کیا ہے، جس کے بعد پٹرول کی قیمت چار روپے گیارہ پیسے کے اضافے کے بعد باسٹھ روپے نواسی پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت دو روپے نواسی پیسے اضافے کے بعد چوالیس روپے بیس پیسے ہوگئی ہے۔

اس سے پہلے اس ماہ کی پہلی تاریخ کو صرف پیٹرول کی قیمت میں پانچ روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا تھا۔ اس طرح پچھلے دو ہفتوں میں پیٹرول کی قیمت نو روپے اور ڈیزل کی قیمت ساڑھے چھ روپے فی لیٹر تک بڑھادی گئی ہے۔

ارشاد بخاری نے منگل کو کے ٹی آئی اور اس کی ذیلی تنطیموں کے اجلاس کی صدارت کے بعد بی بی سی کو بتایا کہ ٹرانسپورٹروں نے اٹھارہ مارچ کو ہڑتال کر کے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا تھا اور حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ تیل کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ واپس لیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ’ہمارے پرامن اور بھرپور احتجاج کے باوجود نگراں حکومت کے کان پر جوں تک نہیں رینگی اور اب ہم نے آج کے اجلاس میں فیصلہ کیا ہے کہ ہم دو روزہ ہڑتال کریں گے۔‘

ان کے بقول حالیہ اضافہ نگراں حکومت کے وزیرِخزانہ نے آنے والی حکومت کو اعتماد میں لے کر کیا ہے جس سے اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ قیمتوں میں اضافہ نئی حکومت کی مرضی سے ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اضافے کے بعد پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے نہ ہی تیل کی قیمتوں میں اضافہ کی مذمت کی اور نہ ہی اس اضافہ کو واپس لینے کا عندیہ دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم پہلے بھی تیل کی قیمتوں میں اضافے پر احتجاج کرتے رہے ہیں، چاہے حکومت کوئی بھی ہو، کیونکہ یہ ہماری کوئی ذاتی لڑائی نہیں ہے اور اگر موجودہ اضافہ واپس نہ لیا گیا تو ہم آنے والی حکومت کا استقبال ہڑتال سے کریں گے۔‘

اقتصادی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ تو ناگزیر ہوگیا تھا لیکن حکومت کو چاہیے کہ وہ پیٹرولیم کی مصنوعات پر عائد ٹیکسوں پرنظرِ ثانی کرے اور جہاں تک ممکن ہوسکے ان میں کمی کی جائے جس سے تیل کی قیمت ملک میں کم ہو سکتی ہے اور عام آدمی کو قدرے فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

 پیٹرول پمپمہنگائی بڑھ جائیگی
تیل کی قیمتوں پر لوگ کیا کہتے ہیں
اسی بارے میں
سی این جی کے مالکان پریشان
17 January, 2008 | پاکستان
تیل کی قیمتوں میں اضافہ
01 March, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد