تیل پر بات ہڑتال تک پہنچ گئی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں رواں ماہ کے دوران دوسری مرتبہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ پر اتوار کوعام لوگوں نے اپنے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے جبکہ پبلک ٹرانسپورٹروں کی تنظیم نے تیل کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف منگل کو ہڑتال کرنے کا اعلان کیا ہے۔ دوسری جانب اقتصادی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ تو ناگزیر ہوگیا تھا لیکن حکومت کو چاہیے کہ وہ پیٹرولیم کی مصنوعات پر عائد ٹیکسوں پرنظرِ ثانی کرے اور جہاں تک ممکن ہوسکے ان میں کمی کی جائے جس سے تیل کی قیمت ملک میں کم ہوسکتی ہے اور عام آدمی کو قدرے فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ حکومت نے یکم مارچ کے بعد موجودہ اضافہ پندرہ مارچ کو کیا ہے جس کے بعد پٹرول کی قیمت چار روپے گیارہ پیسے کےاضافے کے بعد باسٹھ روپے نواسی پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت دو روپے نواسی پیسے اضافے کے بعد چوالیس روپے بیس پیسے ہوگئی ہے۔ اس سے پہلے اس ماہ کی پہلی تاریخ کو صرف پیٹرول کی قیمت میں پانچ روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا تھا۔ اس طرح پچھلے دو ہفتوں میں پیٹرول کی قیمت نو روپے فی لیٹر تک بڑھادی گئی ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد ٹرانسپورٹروں کی تنظیم کراچی ٹرانسپورٹرز اتحاد کے سربراہ ارشاد بخاری نے بی بی سی کو بتایا کہ یکم مارچ کے اضافے کے بعد ان کی تنظیم کا ایک اجلاس ہوا تھا جس میں ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد اٹھارہ مارچ کو ہڑتال کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اب مزید اضافے کے بعد انہوں نے اپنی تنظیم کے ارکان کا اجلاس پیر کو دوبارہ طلب کیا ہے جس میں مزید اضافے پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا اور ممکن ہے کہ وہ اٹھارہ مارچ یعنی منگل کو دی گئی ایک روزہ ہڑتال کی کال کو دو روزہ ہڑتال میں تبدیل کردیں گے۔ ارشاد بخاری نے کہا کہ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے نہ صرف کرائے بڑھ جائیں گے بلکہ تمام اشیاء پر اس کا اثر پڑے گا کیونکہ سامان، سبزیوں، پھلوں اور دیگر اشیاء کی ترسیل زیادہ تر ٹرکوں کے ذریعے ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب کرائے بڑھانے سے ٹرانسپورٹروں کا مسئلہ حل نہیں ہوگا کیونکہ اب گاڑیوں کی مرمتی لاگت میں بھی بے پناہ اضافہ ہوگا جس سے ٹرانسپورٹ کے کاروبار پر منفی اثرات مرتب ہونگے اور کئی ٹرانسپورٹرز اپنی گاڑیاں کھڑی کرنے پر مجبور ہوجائیں گے۔ حکومت کی جانب سے بجٹ خسارے میں اضافے پر قابو پانے اور بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کو جواز بناکر قیمتیں بڑھانے کے فیصلے پر عام لوگوں نے اپنے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومتی پالیسیوں کے نتیجے میں امیر آدمی امیر تر اور غریب، غریب تر ہوتا جا رہا ہے۔ ایک رکشہ ڈرائیور محمد خان نے جو اپنے رکشہ میں پٹرول پمپ پر پٹرول ڈلوا رہے تھے طنزیہ کہا کہ پٹرول، ڈیزل اور دیگر اشیاء کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہونا چاہیے کیونکہ پاکستان ایک امیر ملک ہے اور اس مہنگائی سے صرف یہ ہی فرق پڑے گا کہ غریب آدمی بھیک مانگے گا اور مزدور چوری کرے گا یا ڈاکے ڈالے گا۔ ایک اور شہری نے کہا کہ پٹرولیم کی قیمتوں میں اضافے سے ہر چیز مہنگی ہوجائے گی اور قیمتیں آسمان سے باتیں کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ غریب آدمی کا کچھ خیال کرے جو دو وقت کی روٹی کے لیے سارا دن محنت کرتا ہے اور اگر اس کو اس کے باوجود بھی روٹی نصیب نہ ہو تو ایسی حکومت کا کیا فائدہ۔ ادھر اقتصادی تجزیہ نگار قیصر بنگالی نے بی بی سی کو بتایا کہ گذشتہ تیرہ ماہ سے حکومت نے پٹرولیم کی قیمتوں کو برقرار رکھا تھا جبکہ کہ عالمی منڈیوں میں اس کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہورہا تھا جس کا اثر بجٹ کے مالی خسارے کی صورت میں ظاہر ہورہا تھا جس کے باعث افراطِ زر میں اضافہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات خاص طور پر ڈیزل میں اضافہ عام زندگی پر زیادہ اثر انداز ہوگا جس سے روزمرہ کی اشیاء کی قیمتیں بڑھ جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد مصنوعات کی مجموعی لاگت میں اضافہ ہوگا اور بین الاقوامی منڈی میں مقابلے کے باعث برآمدی مصنوعات پر منفی اثر پڑے گا۔ | اسی بارے میں چاول اور خوردنی تیل بھی مہنگے22 January, 2008 | پاکستان پٹرول باون روپے اکسٹھ پیسے ہوگیا 31 August, 2005 | پاکستان پیٹرول کی قیمت میں ریکارڈ اضافہ 30 September, 2005 | پاکستان ایک روزہ علامتی ہڑتال کی دھمکی 02 October, 2005 | پاکستان مہنگائی کی نئی لہر02 July, 2005 | پاکستان تیل کی قیمتوں میں اضافہ01 March, 2008 | پاکستان پندرہ فیصد مہنگائی کے، گیارہ فیصد دفاع کے05 June, 2006 | پاکستان تیل کی تلاش کیلیے کنسورشیم کا قیام23 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||