کراچی سٹاک مارکیٹ میں مندی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی اسٹاک ایکسچینج میں پیر کو شدید مندی کا رجحان رہا اور کے ایس ای ہنڈریڈ انڈیکس میں چارسو ترانوے پوائنٹ کی کمی واقع ہوئی ہے۔ دو روزہ ہفتہ وار تعطیل کے بعد پیر کوجب کاروبار شروع ہوا تو کاروبار قدرِ بہتر ہوا، لیکن پھر مارکیٹ چارسو پوائنٹ تک گر گئی اور جب مارکیٹ بند ہوئی تو اس وقت کے ایس ای ہنڈریڈ انڈیکس چارسوترانوے پوائنٹ کی کمی کے بعد گیارہ ہزار ایک سو باسٹھ کی سطح تک پہنچ گئی۔ کاروباری حلقے مندی کے اس رجحان کو اندرونی و بیرونی سرمایہ کاروں کی عدم دلچسپی قرار دے رہے ہیں۔ جبکہ دوسری جانب شیئر ہولڈرز گرتی ہوئی مارکیٹ کے باعث اپنے حصص فروخت کررہے ہیں جو مندی کے رجحان کی دوسری بڑی وجہ سمجھی جا رہی ہے۔ سٹاک مارکیٹ کے ایک تجزیہ کار ظفر موتی کا کہنا ہے کہ پیر کو وہ توقع کررہے تھے کہ مارکیٹ مثبت انداز میں آگے بڑھے گی۔ ان کے مطابق مارکیٹ کھلتے وقت تو مارکیٹ نے تھوڑی مثبت سمت پکڑی لیکن پھر بیرونِ ملک سرمایہ کار اداروں کی جانب سے حصص کی فروخت کا دباؤ آیا جس سے مارکیٹ منفی رجحان کی جانب چلی گئی۔ ظفر موتی کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتے بھی بیرونِ ملک سرمایہ کاروں نے بتیس ملین ڈالر کا سرمایہ مارکیٹ سے نکال لیا تھا۔ ان کے بقول اسٹاک مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ سے جو اشارے مل رہے ہیں وہ بتاتے ہیں کہ جو بیرون ملک سرمایہ کار سٹاک میں سرمایہ کاری کرتے ہیں وہ اب بہتر یہ سمجھ رہے ہیں کہ اپنا سرمایہ نکال کر باہر لے جائیں، اور یہ ہی وجہ ہے کہ سٹاک مارکیٹ مسلسل تنزلی کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ آنے سے قبل نئے ٹیکس لگانے کی جتنی افواہیں پھیلیں وہ سب دم توڑ چکی ہیں، لیکن نئی حکومت کی سیاسی مشکلات خاص طور پر عدلیہ کی بحالی اور دیگر سیاسی مسائل ایسے ہیں کہ وہاں سے افواہیں جنم لیتی ہیں اور مارکیٹ پر منفی اثرات مرتب کرتیں ہیں، جس سے کاروبار متاثر ہوتا ہے۔ ایک اور تجزیہ کار اظہر باٹلہ نے بی بی سی کو بتایا کہ مارکیٹ میں گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے منفی رجحان جاری ہے اور اس میں تیزی سٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود میں ڈیڑھ فیصد اضافے کے اعلان کے بعد آئی۔ انہوں نے کہا کہ امید کی جارہی تھی کہ بجٹ کے بعد منفی رجحان ختم ہوجائے گا، لیکن بدقسمتی سے تاحال ایسا نہیں ہوا۔ اظہر باٹلہ نے بتایا کہ کچھ عرصہ قبل تک مارکیٹ میں سیمنٹ اور اور بینکنگ کے شعبوں کے حصص میں شدید مندی کا رجحان دیکھا گیا تھا اور ان میں اب تک بہتری نہیں آئی ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ شیئر ہولڈرز نے جہاں ساٹھ فیصد تیل کے شعبے میں سرمایہ کاری کی تھی تو وہیں چالیس فیصد سیمنٹ اور بینکنگ کے شعبوں میں بھی پیسہ لگایا۔ ان کے بقول اب چونکہ سیمنٹ اور بینکنگ کے شئیرز تنزلی کا شکار ہیں تو وہ اپنا خسارہ پورا کرنے کے لئے تیل کے حصص فروخت کر رہے ہیں جس سے تیل کے حصص میں بھی مندی کا رجحان دیکھنے میں آرہا ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان میں تیزی سے بڑھتی ہوئی مہنگائی اور افراطِ زر پر قابو پانے کے لئے ملک کے مرکزی بینک نے بائیس مئی کو بنیادی شرح سود میں ایک اعشاریہ پانچ فیصد کا اضافہ کردیا تھا جس کے بعد اب شرح سود بارہ فیصد ہوگئی ہے۔ مرکزی بینک کے مطابق ان کے اس فیصلے سے نہ صرف افراط زر کو قابو کرنے میں مدد ملے گی بلکہ روپے کی گرتی ہوئی قدر کو بھی سہارا ملے گا۔ | اسی بارے میں سٹاک مارکیٹ کے بحران کی تحقیقات08 July, 2006 | پاکستان کراچی بازار حصص بلند ترین سطح09 July, 2007 | پاکستان ’ایمرجنسی، بازارِ حصص میں مندی‘09 August, 2007 | پاکستان مندی: سرمایہ کاروں کا ردِ عمل23 August, 2007 | پاکستان ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری متاثر30 October, 2007 | پاکستان کراچی بازارِ حصص میں ریکارڈ مندی05 November, 2007 | پاکستان حصص بازار: مندی کا رحجان جاری01 January, 2008 | پاکستان ’حصص بحران کا زیادہ اثر نہیں پڑا‘22 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||