سندھ ہائی کورٹ کی بینکوں کو ہدایت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ ہائی کورٹ نے پاکستان کے بینکوں کو ہدایت کی ہے کہ قرضے کی وصولی کے لیے اسٹیٹ بینک کی معاونت سے ایسی پالسیی تشکیل دی جائے جو قانون کے دائرہ میں ہو۔ سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس محمود عالم رضوی اور جسٹس مسز قیصر اقبال پر مشتمل بینچ نے عرضی گزار انور محمود کی درخواست کی سماعت ہوئی ۔ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ انہوں نے مختلف بینکوں سے ذاتی قرضہ لیا تھا۔ 27 دسمبر کو ان کا کاروبار تباہ ہوگیا اور وہ بینکوں کو پیسہ واپس نہ کرسکے اور بینکوں کی پرائیوٹ فورس گھر اور دفاتر آکر اور ٹیلیفون پر دھمکیاں دیتی رہیں، اس قدر کہ وہ خودکشی پر مجبور ہوگئے ۔ سماعت کے موقع پر بینکوں کے نمائندے بھی موجود تھے ۔ عدالت نے پولیس سےبھی پوچھا کہ بینکوں کی پرائیوٹ فورس کے خلاف کیا کارروائی کی گئی ہے اور کیوں ان کے خلاف مقدمہ دائر نہیں کیا گیا ہے ۔ عدالت نے ہدایت کی کہ سندھ بھر میں واقع بینکوں کے پرائیوٹ فورس کی طرف سے بینک دہندگان کی شکایت پر کارروائی کی جائے۔ ہائی کورٹ نے بینکوں کو ہدایت ہے کہ پچاس لاکھ سے زیادہ مالیت کے قرض معاف کرنے والے افراد کی فہرست پیش کی جائے اور ایسی پالیسی بنائی جائے جو قانون کے دائرہ میں ہو اور نادہندگان کے گھروں، دفاتر اور ٹیلیفون پر دھمکیاں نہ دی جائیں کیونکہ اب ریکارڈ ملنا ناممکن نہیں رہا ہے۔ مقدمے کی سماعت 30 مئی تک ملتوی کردی گئی ہے۔ واضح رہے کہ کراچی میں پچھلے دنوں ایک شخص طفیل شاہ نے خودکشی کرلی تھی، جس کے لواحقین کا کہنا تھا کہ انہوں نے بینک کی جانب سے قرضے کے تقاضے اور ہتک آمیز روئے کی وجہ سے خودکشی کی ہے یہ معاملا ایوان بالا سینٹ تک جاپہنچا تھا۔ | اسی بارے میں ’خودکشی بینک کے رویے کے باعث‘29 April, 2008 | پاکستان اینٹی منی لانڈرنگ آرڈیننس کا اجراء09 September, 2007 | پاکستان زلزلے کے بعد نئے اکاؤنٹ مشکل25 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||