BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 09 September, 2007, 07:01 GMT 12:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اینٹی منی لانڈرنگ آرڈیننس کا اجراء

فائل فوٹو
 اینٹی منی لانڈرنگ آرڈیننس کا مقصد ہنڈی کے کاروبار اور رقوم کی غیرقانونی نقل و حرکت کی حوصلہ شکنی کرنا ہے
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے اینٹی منی لانڈرنگ آرڈیننس دو ہزار سات جاری کیا ہے جو فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔

اس قانون کی خلاف ورزی پر کم سے کم ایک سال اور زیادہ سے زیادہ 10 سال قید، ایک لاکھ سے 10 لاکھ روپے جرمانہ اور منی لانڈرنگ میں ملوث شخص کی پراپرٹی ضبط کرنے کی سزا دی جا سکے گی۔

حکام کے مطابق اس قانون کی خلاف ورزی کے مقدمات کی سماعت کا اختیار سیشن عدالتوں کو حاصل ہو گا۔ آرڈیننس کے تحت منی لانڈرنگ کا جرم ناقابل ضمانت ہو گا۔ منی لانڈرنگ میں ایسی کمپنیاں اور افراد جو کسی جرم کے لیے پراپرٹی، رقم یا کوئی دوسری مادی چیز حاصل، منتقل یا تبدیل کریں گی، وہ اس جرم کی مرتکب ہوں گے۔

اس آرڈیننس کے جاری ہونے کے تیس دن کے اندر منی لانڈرنگ کے خاتمے کے لیے ایک قومی انتظامی کمیٹی تشکیل دی جائے گی جس کے چیئرمین وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ ہوں گے جبکہ اس کمیٹی کے سات دیگر ممبران جن میں وزیراعظم کے مشیر برائے امور خارجہ، قانون وانصاف، وفاقی وزیر قانون و انصاف، وزیر داخلہ، گورنر سٹیٹ بینک، چیئرمین ایس ای سی پی اور ڈائریکٹر جنرل جو کمیٹی کے سیکریٹری بھی ہوں گے، شامل ہیں۔

فائل فوٹو
 سٹیٹ بینک میں ایک فنانشنل مانیٹرنگ یونٹ قائم کیا جائے گا۔ یہ ایک خود مختار اتھارٹی ہو گی جو ہر قسم کی مشکوک ٹرانزیکشن کا جائزہ لے گی اور اس کے مشکوک ثابت ہونے پر اسے تحقیقاتی اداروں کو مزید کارروائی کے لیے بھیجا جا سکے گا

یہ کمیٹی منی لانڈرنگ کے خاتمے اور کنٹرول کے لیے سالانہ قومی حکمت عملی تشکیل دے گی جس میں پاکستان میں ہونے والے جرم کی نشاندہی، رولز ریگولیشن کے لیے رہنمائی اور اس آرڈیننس پر عمل درآمد کے لیے مختلف اداروں کو احکامات دے گی۔ اس کے ساتھ ایک جنرل کمیٹی تشکیل دی جائے گی جس کے چیئرمین سیکریٹری خزانہ ہوں گے جبکہ داخلہ، خارجہ امور، قانون و انصاف کے سیکریٹریز، گورنر سٹیٹ بینک، چیئرمین ایس سی سی پی اور ڈائریکٹر جنرل اس کے ممبر ہوں گے۔ یہ کمیٹی تحقیقاتی اداروں، فنانشل مانیٹرنگ یونٹ اور مالیاتی اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لے گی۔

اس آرڈیننس کے تحت سٹیٹ بینک میں ایک فنانشنل مانیٹرنگ یونٹ قائم کیا جائے گا۔ یہ ایک خود مختار اتھارٹی ہو گی جو ہر قسم کی مشکوک ٹرانزیکشن کا جائزہ لے گی اور اس کے مشکوک ثابت ہونے پر اسے تحقیقاتی اداروں کو مزید کارروائی کے لیے بھیجا جا سکے گا۔

اس آرڈیننس پر عمل درآمد کے لیے وفاقی حکومت کسی بھی ملک کے ساتھ دوطرفہ بنیادوں پر معاہدہ کر سکے گی جس میں اس جرم کے حوالے سے معلومات کے تبادلہ، مجرم کے خلاف کارروائی کے لیے تعاون اور ثبوت کے حصول اور مجرم کی پراپرٹی کو ضبط کرنے کے لیے دوطرفہ تعاون شامل ہوگا۔

اس قانون کا مقصد ہنڈی کے کاروبار اور رقوم کی غیرقانونی نقل و حرکت کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔ اس قانون کی تیاری کا کام امریکہ میں گیارہ ستمبر کے واقعات کے بعد شروع ہوا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد