’وزیراعظم کا دورہ نقصان دہ رہا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قومی اسمبلی میں قائد حزب مخالف چودھری پرویز الہیْ نے کہا ہے کہ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے دورہ امریکہ سے پاکستان کو فائدہ نہیں بلکہ نقصان ہوا ہے۔ اتوار کو اپنی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے امریکہ کے دورے سے قوم کی سبکی ہوئی ہے اور وزیراعظم کو چاہئے کہ وہ اس بات کی چھان بین کریں کہ ان کو امریکہ جانے کے لیے کس نے دھکا دیا تھا۔ان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم یہ کھوج لگائیں کہ ان کے خلاف کیا سازش ہوئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آئی ایس آئی ملک کی سالمیت اور دفاع کا ایک بہترین ادارہ ہے لیکن وفاقی وزیر دفاع احمد افتخار دفاع کرنے کے بجائے اس کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ انہوں نے وفاقی وزیر دفاع کے بیان پر تنقید کی اور کہا کہ بیرون ملک جاکر اداروں کا دفاع کیا جاتا ہے لیکن قومی ادارے کے بارے میں ایسے پہلو نکالے گئے ہیں جس سے ادارے کی تضحیک ہو۔ ان کے بقول وفاقی وزراء کا یہ اقدام ملک دشمنی ہے۔ انہوں نے وزیراعظم کی جانب سے کابل میں بھارتی سفارتخانے کے باہر دھماکے کی تحقیقات کی پیشکش کرنے پر تنقید کی اور کہا کہ پاکستان کے سفارتخانے پر بھی حملہ ہوا ہے لیکن اس کے بارے میں بات کیوں نہیں کی گئی۔ پرویز الٰہی نے کہا کہ ان کی جماعت مسلم لیگ قاف وزیر اعلٰی پنجاب شہباز شریف کے خلاف نااہلی کا ریفرنس دائر کرنے پر غور کررہی ہے۔ان کے بقول یہ ریفرنس پنجاب اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں دائر کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کی بیورو کریسی وزیراعلیْ پنجاب کی بات نہیں سنتی کیونکہ ان کے بقول بیورو کریسی کو معلوم ہے کہ وزیراعلٰی کی اہلیت کا معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے اور وہ عدالتی تاریخوں کے سہارے چل رہے ہیں۔ ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ عو ام نے حکمران اتحاد کو مسائل کے حل کے لیے ووٹ دیئے تھے نورا کشتی کے لیے نہیں ۔ان کے بقول شہباز شریف اقتدار میں رہنا چاہتے ہیں اس لیے وہ اتحاد کو ٹوٹنے نہیں دیں گے اور اسی تنخواہ پر کام کریں گے۔ پرویز الہیْ نے آئی ایس آئی کے حوالے سے اس ادارے کو وزارت داخلہ کے ماتحت کرنے کی تحقیقات کرانے کے سوال کا کوئی واضح جواب نہیں دیا۔ ڈاکٹر قدیر کے بارےمیں سوال پر ان کاکہنا ہے کہ عدالتی فیصلے کے بعد اب اس معاملہ پر بات چیت نہیں کرنی چاہئے۔ | اسی بارے میں وزیر اعظم کا دورہ اور امریکی میڈیا29 July, 2008 | آس پاس ’آئی ایس آئی کے طالبان سے روابط‘ 30 July, 2008 | آس پاس تحقیقات کی پاکستانی پیشکش 02 August, 2008 | پاکستان ’پاکستان اب بھی مضبوط اتحادی ہے‘28 July, 2008 | پاکستان آئی ایس آئی کا کنٹرول ’واپس‘ 27 July, 2008 | پاکستان آئی ایس آئی اور گیلانی حکومت کی مشکل02 August, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||