آئی ایس آئی اور گیلانی حکومت کی مشکل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چار ماہ سے برسراقتدار پاکستان کی نئی سویلین حکومت یہ تاثر دینے کی کوشش کرتی رہی ہے کہ اس نے ایک منہ زور گھوڑے کو لگام ڈال دی ہے۔ تاہم حالیہ چند ہفتوں کے دوران اسے کئی مواقع پر اس لیے شرمندگی اٹھانی پڑی ہے کہ اس نے کئی اہم احکامات جاری کیے جنہیں اسے فوری طور پر واپس لینا پڑا۔ اور ناقدین کی نظر میں حکومت نے قدرتی گیس یا غذائی اشیاء کی قیمتیں، یا بجلی کی کمی جیسے عوامی مسائل سے نمٹنے میں کسی اہلیت کا ثبوت نہیں دیا ہے۔ دریں اثناء ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے فروری انتخابات کے بعد بننے والا برسراقتدار حکمراں اتحاد غیرفطری جماعتوں کا مجموعہ سا بن گیا ہو۔ لیکن بعض ایسے شعبے جن پر فوج کا روایتی کنٹرول رہا ہے ان میں زندگی حسب معمول رواں دواں ہے۔ امریکی محمکۂ دفاع پینٹاگون نے گزشتہ ماہ جو اعداد و شمار جاری کیے ہیں ان کے مطابق مشرقی افغانستان میں طالبان جنگجوؤں کے حملوں میں چالیس فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔افغانستان میں تعینات نیٹو افواج کو یقین ہے کہ یہ اضافہ پاکستان کے قبائلی علاقوں سے آنے والے طالبان جنگجوؤں کی وجہ سے ہوا ہے۔ جبکہ مشرقی سرحد پر، ہندوستان کے ساتھ امن عمل کی بھی حالت کچھ ٹھیک نہیں ہے جو کہ لائن آف کنٹرول پر دونوں افواج کی فائرنگ سے واضح ہے۔ پاکستانی اسٹیبلِشمنٹ کے حامی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ شدت پسند پاکستانی کنٹرول میں نہیں ہیں۔ اور ہندوستان افغانستان میں قائم اپنے خفیہ اداروں کے ذریعے اور کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے ذریعے پاکستان کے گرد گھیرا تنگ کر رہا ہے۔ لیکن ہندوستان اور افغانستان کے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ایک طرف جہاں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کی جد و جہد کر رہی ہے، وہیں پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی ’بھارتی خطرے‘ کے نعرے کو پھر سے زندگی بخش رہی ہے تاکہ وہ دنیا کی توجہ اپنے ’عسکری اثاثوں‘ یعنی شدت پسندوں سے ہٹاسکے۔ پاکستان کی حکومت جو کہ اسٹیبلِشمنٹ مخالف پیپلز پارٹی پر مبنی ہے، اس معاملے پر تذبذب کا شکار ہے۔ طالبان کو آئی ایس آئی کی حمایت کے الزام پر امریکی دورے کے دوران وزیر اعظم یوسف گیلانی نے اپنی پریشانی کو چھپانے کی پوری کوششیں کی۔ سی بی ایس ٹیلی ویژن کو انٹرویو میں انہوں نے کہا: ’در حقیقت آئی ایس آئی ایک عظیم ادارہ ہے۔۔۔ جہاں تک ان الزامات کا تعلق ہے کہ اس کے کچھ عناصر شدت پسندوں سے ہمدردی رکھتے ہیں، قابل یقین بات نہیں ہے۔‘ لیکن ان کے اس بیان کے چند دن پہلے ہی وزیراعظم نے خود ہی ایک ایسا حکم نامہ جاری کیا تھا جس کے تحت آئی ایس آئی کا کنٹرول وزارت داخلہ کو دیدی گئی تھی، جس کا مقصد آئی ایس آئی کا کنٹرول سویلین اداروں کے سپرد کرنا تھا۔ بظاہر پاکستان پیپلز پارٹی کو ایک ایسے موقف سے جسے اس نے لندن کے سات جولائی کے حملوں اور کابل میں ہندوستانی سفارتخانے پر حملے کے بعد صحیح سمجھا تھا، ہٹنا پڑا۔ افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے ہندوستانی سفارتخانے پر حملے کے لیے آئی ایس آئی کو براہ راست ذمہ دار ٹھہرایا۔ پھر ہندوستان کے قومی سلامتی کے مشیر ام کے نارائنن نے کہا کہ ان کے پاس ایسی انٹیلیجنس دستیاب ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس حملے میں آئی ایس آئی ملوث ہے۔ بدھ کے روز پاکستان کے وزیر دفاع چودھری احمد مختار نے کھلے عام اس بات کا اعتراف کیا کہ امریکی صدر جارج بش نے وزیراعظم گیلانی سے پوچھا تھا کہ آئی ایس آئی کے کون عناصر طالبان کو ایسی معلومات پہنچا رہے ہیں جو امریکہ نے پاکستان کو فراہم کی۔ پھر اخبار نیو یارک ٹائمز نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا کہ انہوں نے ایسی بات چیت کے ثبوت جمع کیے ہیں جو آئی ایس آئی کے اہلکاروں اور کابل میں بھارتی سفارتخانے پر حملے کی منصوبہ بندی کرنے والے شدت پسندوں کے درمیان ہوئی ہے۔ دریں اثناء ہندوستان نے پاکستان پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ لائن آف کنٹرول کے ذریعے ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں شدت پسندوں کی دراندازی کرا رہا ہے۔ پاکستان نے ان تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ لیکن اس بات کی قابل اعتماد رپورٹیں ہیں کہ یوسف رضا گیلانی کے وزارت عظمیٰ سنبھالنے کے بعد گزشتہ اپریل سے لائن آف کنٹرول کے قریب پاکستان کے زیرانتظام کشمیری علاقوں میں شدت پسند پھر سے اکٹھے ہورہے ہیں۔ گزشتہ ماہ نیلم ویلی میں اٹھ مقام شہر کی درجنوں خواتین نے ایک فوجی چوکی تک مارچ کیا اور فوجی افسروں سے شکایت کی کہ اس علاقے میں شدت پسندوں نے اپنی سرگرمیاں شروع کردی ہیں۔ مقامی پولیس کو بھی خدشہ تھا کہ نومبر 2003 سے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جو فائربندی تھی کبھی بھی ختم ہوسکتی ہے۔ اٹھ مقام سے مارچ کرنے والوں میں سرور جان بھی شریک تھیں جنہوں نے بی بی سی اردو سروِس کو بتایا: ’ہم صرف امن چاہتے ہیں، ہم اپنی باقی زندگی بنکروں میں نہیں رہنا چاہتے جیسا کہ ہم فائربندی سے قبل کر رہے تھے۔‘ کشمیر اور شمال مشرقی پاکستان میں بہت لوگوں کا خیال ہے کہ یہ ایک خطرناک کھیل ہے جس سے پیپلز پارٹی جیسی مقبول جماعت کو نہیں ہونے دینا چاہیے۔ پیپلز پارٹی کے سامنے راستے واضح ہیں۔ یا تو یہ ’بھارتی خطرے‘ کی فوج کی روایتی موقف کی حمایت کرسکتی ہے یا ملک کی حکمرانی میں ایک ثانوی کردار ادا کرسکتی ہے۔ یا پھر پیپلز پارٹی اس نظریے پر ازسر نو نظرثانی کرسکتی ہے کہ کیا ہندوستان پاکستان کے لیے فوجی سطح پر فوری اور حقیقی ایک خطرہ ہے۔ اگر پیپلز پارٹی پہلا راستہ چنتی ہے تو اس کی حکومت کے لیے زندگی آسان لیکن بےوقار ہوگی اور اگر وہ دوسرا راستہ اختیار کرتی ہے تو اسے پہلے اس گھوڑے کو زیر کرنا سیکھنا ہوگا جس کی وہ سواری کر رہی ہے۔ |
اسی بارے میں بھارتی سفارتخانے پر حملہ، 40 ہلاک07 July, 2008 | آس پاس سفارتخانے پر حملہ بزدلانہ: انڈیا07 July, 2008 | انڈیا کابل: بھارتی خارجہ سیکریٹری کا دورہ13 July, 2008 | انڈیا ’امن کا عمل دباؤ کا شکار‘ 21 July, 2008 | انڈیا جھڑپوں کی تحقیقات کی تجویز29 July, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||