تحقیقات کی پاکستانی پیشکش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی سیکرٹری خارجہ شیو شنکر مینن کا کہنا ہے کہ پاکستان نے وعدہ کیا ہے کہ وہ کابل میں بھارتی سفارتخانے پر ہونے والے اس خودکش حملے کی تحقیقات کروائے گا۔ اس حملے میں پچاس سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے اور بھارتی و افغان حکام نے الزام لگایا تھا کہ اس واقعے میں پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی ملوث ہے۔ کولمبو میں جاری سارک سربراہ کانفرنس کے دوران پاکستانی اور بھارتی وزرائےاعظم کی ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے شیو شنکر مینن کا کہنا تھا کہ پاکستانی وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے اپنے بھارتی ہم منصب سے ملاقات کے دوران یہ یقین دلایا کہ وہ اس واقعے کی آزادانہ تحقیقات کروائیں گے۔ یہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور ان کے ہندوستانی ہم منصب منموہن سنگھ کی پہلی ملاقات تھی جو کابل میں ہندوستانی سفارت خانے پر حالیہ بم حملے اور کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر جھڑپوں کے بعد سے دونوں ملکوں کے درمیان جاری الزام تراشیوں کے سلسلے کے پس منظر میں ہوئی۔ شیو شنکر مینن کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستانی وزیراعظم نے ملاقات کے دوران منموہن سنگھ سے کہا کہ بھارت کے پاس اس دھماکے کے حوالے سے جو بھی معلومات ہیں وہ پاکستان کو مہیا کرے اور وہ’اس معاملے کا جائزہ لے کر اس کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کریں گے‘۔ بھارتی سیکرٹری خارجہ نے بتایا کہ ’دونوں وزرائے اعظم نے پاک بھارت تعلقات کو بہتر بنانے کے تناظر میں گزشتہ چند ماہ میں پیش آنے والے واقعات کا جائزہ لیا اور بھارتی وزیراعظم نے دوستانہ ماحول میں اپنے حالیہ واقعات کے حوالے سے اپنے خدشات ظاہر کیے اور بتایا کہ یہ واقعات دو طرفہ مذاکرات اور تعلقات پر کس طرح اثر انداز ہو سکتے ہیں‘۔
اس سے قبل سارک اجلاس کے افتتاحی دن جنوبی ایشیائی ممالک کے رہنماؤں نے دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششیں کرنے پر زور دیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے افغان صدر حامد کرزئی نے کہا کہ افغانستان بین الاقوامی دہشتگردی کا سب سے بڑا نشانہ رہا ہے۔ انہوں نے پاکستان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں دہشتگردی کی جڑیں مضبوط ہو رہی ہیں اور’پاکستان میں دہشتگرد نہ صرف پنپ رہے ہیں بلکہ انہیں امداد بھی مل رہی ہے‘۔ بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ نے اپنے خطاب میں کہا کہ کابل میں بھارتی سفارتخانے پر حملہ اور بھارتی شہروں میں حالیہ سلسلہ وار دھماکے اس بربریت کی یاد دلا رہے ہیں جو جنوبی ایشیا میں اب بھی موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ’ یہ ہماری سلامتی کو لاحق واحد سب سے بڑا خطرہ ہے‘۔ پاکستان کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ اگرچہ دہشتگردی سے جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک بھی متاثر ہو رہے ہیں لیکن پاکستان کو دہشتگردی سے سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے۔ | اسی بارے میں ’دہشتگردی سے مل کر نمٹنا ہوگا‘02 August, 2008 | آس پاس کولمبو: گیلانی، منموہن ملاقات آج02 August, 2008 | آس پاس ’تخریب کاری میں انڈیا ملوث‘30 July, 2008 | پاکستان گیلانی سارک اجلاس کے لیے روانہ01 August, 2008 | پاکستان حملے میں آئی ایس آئی ملوث: رپورٹ01 August, 2008 | پاکستان آزاد تجارت: پاک ہند تنازعہ مؤخر02 August, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||