BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 01 August, 2008, 07:50 GMT 12:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حملے میں آئی ایس آئی ملوث: رپورٹ

اخبار نے سی آئی اے کے عملداروں سے بات کرکے رپورٹ مرتب کی ہے
امریکی حکام نے کہا ہے کہ امریکی انٹیلیجنس ایجینسوں کو ثبوت ملے ہیں کہ کابل میں بھارتی سفارتخانے پر بموں سے حملے کی منصوبہ بندی پاکستانی طاقتور جاسوسی ایجنسی انٹرسروسز انٹیلیجنس یا آئی ایس آئی کی مدد سے کئي گئي تھی-

یہ بات امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنے صفحۂ اول پر اپنی چوٹی کی اسٹوری میں کہی ہے- آئی ایس آئی کے بارے میں اسی طرح کی ایک خبر واشنگٹن پوسٹ میں بھی شائع ہوئی ہے۔

جمعہ کی اشاعت میں نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ امریکی جاسوسی عملداروں نے انٹر سروسز انٹیلیجنس کے عملداروں اور ان عسکریت پسندوں کے درمیاں ہونے والی بات چیت یا رابطوں کا سراغ لگا لیا ہے جو عسکریت پسند کابل میں بھارتی سفارتخانے پر بم دھماکوں میں ملوث ہیں-

امریکی اخبار کے دعوے کے مطابق آئی ایس آئی کے عملداروں اور عسکریت پسندوں کے درمیاں ایسے رابطوں یا مواصلات کا پکڑا جانا پختہ شواہد ہیں کہ پاکستانی انٹیلیجنس عملدار امریکہ کی طرف سے علاقے میں شدت پسندی ختم کرنے کی کوششوں کو ناکام کرنے مصروف کار ہیں-

نیویارک ٹائمز نے امریکی حکام کے حوالے سے یہ بھی کہا ہے کہ ان کے پاس ایسی واضح ثبوتوں کے ساتھ نئی اطلاعات ہیں جو بتاتی ہیں کہ پاکستانی انٹیلیجنس حکام مسلسل عسکریت پسندوں سے رابطے میں رہ کر انہیں ان کے خلاف امریکی کارروائیوں کے بارے میں پیشگی بتاتے ہیں اور انہیں قبائیلی علاقوں میں امریکی حملوں سے بچنے کے موا‍قع بھی فراہم کرتے ہیں-

امریکی اور پاکستانی میڈیا اور سیاسی حلقوں میں آئي ایس آئی کے مبینہ طور عسکریت پسندوں سے رابطوں کے بارے میں اٹھ کھڑے ہونے والے تنازعے کے دوران گزشتہ ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں بااثر امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی آئي ایس آئی کے پاکستان کے قبائیلی علاقوں یا سرحد پار عسکریت پسندوں سے رابطے کے بارے میں یہ دوسری جامع رپورٹ ہے-

آئی ایس آئی امریکی کارروائیوں کے بارے میں طالبان کو باخبر رکھتی ہے: امریکی اہلکار
اپنی اس تازہ رپورٹ میں نیویارک ٹائمز نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ پاکستانی آئی ایس آئی اور عسکریت پسندوں کے درمیاں ایسے رابطے یا مواصلات سات جولائي کو کابل میں بھارتی سفاتخانے پر بم دھماکوں سے قبل پکڑی گئي تھیں اور امریکی جاسوسی ایجنسی سی آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر اسٹیفن آر کئپس کو کابل میں بھارتی سفارتخانے پر حملوں سے پہلے ہی اسلام آباد بھیجا گیا تھا، البتہ پکڑی ہوئی گفتگو یا مواصلات تفصیل سے کسی خاص حملوں سے متنبہ نہیں کرتے تھے-

اخبار نے افغان معاملات پر ایک باخبر امریکی عملدار سے بات چیت کا حوالہ دیا ہے جس نے آئی ایس آئی اور عسکریت پسندوں کے درمیاں ہونے والی پکڑی جانیوالی مواصلات یا رابطوں کے بارے میں کہا: ’ایسی بات چیت بہرحال ان شکوک و شبہات کی تصدیق کرتی ہے جو یہاں (امریکہ میں) کئي لوگوں میں پاۓ جاتے ہیں-‘

اخبار نے کئي امریکی جاسوسی عملداروں سے اپنے انٹرویوز کے حوالے سے بتایا ہے کہ ان عملداروں نے اپنے جاسوسی کے کام اور سراغ لگائي جانیوالی اطلاعات کی بنیاد پر پاکستانی انٹیلجنس کے عملداروں اور عسکریت پسندوں کے درمیاں ایسی مواصلات کو کابل میں بھارتی سفارتخانے پر بموں کے حملوں سے جوڑا ہے-

اخبار کے مطابق کچھ امریکی عملداروں نے غصے کا اظہار کیا ہے کہ پاکستانی حکام افغانستان میں ہونیوالے تشدد کی مدد کر رہے ہیں جس میں امریکی افواج پر حملے بھی شامل ہیں-

نیویارک ٹائمز نے کہا ہے کہ امریکی حکام نے اس کی تصدیق کی ہے کہ کابل میں بھارتی سفارتخانے پر حملہ جلال الدین حق‍انی کے گروپ نے کیا تھا جسکے تعلقات القاعدہ سے ہیں اور جو خود کو پاکستان کے قبائلی علاقوں میں پھر سے منظم کر رہے ہیں۔

نیویارک ٹائمز نے یہ بھی کہا ہے کہ صدر بش نے پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی سے اپنی حالیہ ملاقات کے دوران برہمی سے پوچھا تھا کہ آخر آئی ایس آئي پر کس کا کنٹرول ہے۔

اخبار نے لکھا ہے کہ پاکستان کی نئی حکومت انہی مسائل کو ختم کرنےکے لیے آزمائش کر رہی ہے لیکن امریکی حکام کو شک ہے کہ یہ نئي حکومت آئي ایس آئی اور عسکریت پسندوں کے درمیاں دیرینہ تعلقات ختم کر بھی سکے گي-

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد