’دہشتگردی سے مل کر نمٹنا ہوگا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کولمبو میں سارک سربراہی اجلاس میں جنوبی ایشیائی ممالک کے رہنماؤں نے دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششیں کرنے پر زور دیا ہے۔ دو روز تک جاری رہنے والے اجلاس میں پاکستان اور بھارت سمیت جنوبی ایشیا کے آٹھ ممالک کے سربراہان یا ان کے نمائندے شریک ہیں اور اجلاس میں جرائم، دہشتگردی، غربت اور اجناس کی کمی سے پیدا شدہ صورتحال پر قابو پانے میں تعاون کے طریقوں پر غور کیا جائے گا۔ اس اجلاس میں چار معاہدوں پر دستخط ہوں گے جن میں دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے قانونی تعاون کا معاہدہ بھی شامل ہے۔ اجلاس کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرنے والے تمام رہنماؤں نے اپنی تقاریر میں مل کر دہشتگردی کا مقابلہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے افغان صدر حامد کرزئی نے کہا کہ افغانستان بین الاقوامی دہشتگردی کا سب سے بڑا نشانہ رہا ہے۔ انہوں نے پاکستان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں دہشتگردی کی جڑیں مضبوط ہو رہی ہیں اور’پاکستان میں دہشتگرد نہ صرف پنپ رہے ہیں بلکہ انہیں امداد بھی مل رہی ہے‘۔ بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ نے اپنے خطاب میں کہا کہ کابل میں بھارتی سفارتخانے پر حملہ اور بھارتی شہروں میں حالیہ سلسلہ وار دھماکے اس بربریت کی یاد دلا رہے ہیں جو جنوبی ایشیا میں اب بھی موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ’ یہ ہماری سلامتی کو لاحق واحد سب سے بڑا خطرہ ہے‘۔ پاکستان کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ اگرچہ دہشتگردی سے جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک بھی متاثر ہو رہے ہیں لیکن پاکستان کو دہشتگردی سے سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے۔
یاد رہے کہ سارک کے اس پندرہویں سربراہ اجلاس کے دوران پاکستان کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور ان کے ہندوستانی ہم منصب منموہن سنگھ کے درمیان پہلی مرتبہ ملاقات بھی ہو رہی ہے۔ یہ ملاقات کابل میں ہندوستانی سفارت خانے پر حالیہ بم حملے اور کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر جھڑپوں کے بعد سے دونوں ملکوں کے درمیان جاری الزام تراشیوں کے سلسے کے پس منظر میں ہوگی۔ مبصرین کے مطابق اس ملاقات میں منموہن سنگھ تشدد کے حالیہ واقعات پر بھارتی حکومت کی تشویش سے وزیراعظم گیلانی کو آگاہ کریں گے جبکہ پاکستانی وزیر اعظم اس تاثر کو مسترد کریں گے ان حملوں میں آئی ایس آئی کا ہاتھ تھا۔ بہر حال، دونوں کی کوشش ہوگی کہ لائن آف کنٹرول پر پانچ سال سے جاری جنگ بندی کی دوبارہ خلاف ورزی نہ ہو تاکہ باہمی تعلقات میں حالیہ کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔ | اسی بارے میں کولمبو: گیلانی، منموہن ملاقات آج02 August, 2008 | آس پاس ’تخریب کاری میں انڈیا ملوث‘30 July, 2008 | پاکستان گیلانی سارک اجلاس کے لیے روانہ01 August, 2008 | پاکستان حملے میں آئی ایس آئی ملوث: رپورٹ01 August, 2008 | پاکستان آزاد تجارت: پاک ہند تنازعہ مؤخر02 August, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||