BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 02 August, 2008, 11:20 GMT 16:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’دہشتگردی سے مل کر نمٹنا ہوگا‘
یوسف رضا گیلانی اور منموہن سنگھ سنیچر کو ملاقات بھی کریں گے
کولمبو میں سارک سربراہی اجلاس میں جنوبی ایشیائی ممالک کے رہنماؤں نے دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششیں کرنے پر زور دیا ہے۔

دو روز تک جاری رہنے والے اجلاس میں پاکستان اور بھارت سمیت جنوبی ایشیا کے آٹھ ممالک کے سربراہان یا ان کے نمائندے شریک ہیں اور اجلاس میں جرائم، دہشتگردی، غربت اور اجناس کی کمی سے پیدا شدہ صورتحال پر قابو پانے میں تعاون کے طریقوں پر غور کیا جائے گا۔

اس اجلاس میں چار معاہدوں پر دستخط ہوں گے جن میں دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے قانونی تعاون کا معاہدہ بھی شامل ہے۔

اجلاس کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرنے والے تمام رہنماؤں نے اپنی تقاریر میں مل کر دہشتگردی کا مقابلہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے افغان صدر حامد کرزئی نے کہا کہ افغانستان بین الاقوامی دہشتگردی کا سب سے بڑا نشانہ رہا ہے۔ انہوں نے پاکستان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں دہشتگردی کی جڑیں مضبوط ہو رہی ہیں اور’پاکستان میں دہشتگرد نہ صرف پنپ رہے ہیں بلکہ انہیں امداد بھی مل رہی ہے‘۔

بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ نے اپنے خطاب میں کہا کہ کابل میں بھارتی سفارتخانے پر حملہ اور بھارتی شہروں میں حالیہ سلسلہ وار دھماکے اس بربریت کی یاد دلا رہے ہیں جو جنوبی ایشیا میں اب بھی موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ’ یہ ہماری سلامتی کو لاحق واحد سب سے بڑا خطرہ ہے‘۔

پاکستان کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ اگرچہ دہشتگردی سے جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک بھی متاثر ہو رہے ہیں لیکن پاکستان کو دہشتگردی سے سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے۔

News image
 پاکستان میں دہشتگرد نہ صرف پنپ رہے ہیں بلکہ انہیں امداد بھی مل رہی ہے
حامد کرزئی

یاد رہے کہ سارک کے اس پندرہویں سربراہ اجلاس کے دوران پاکستان کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور ان کے ہندوستانی ہم منصب منموہن سنگھ کے درمیان پہلی مرتبہ ملاقات بھی ہو رہی ہے۔ یہ ملاقات کابل میں ہندوستانی سفارت خانے پر حالیہ بم حملے اور کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر جھڑپوں کے بعد سے دونوں ملکوں کے درمیان جاری الزام تراشیوں کے سلسے کے پس منظر میں ہوگی۔

مبصرین کے مطابق اس ملاقات میں منموہن سنگھ تشدد کے حالیہ واقعات پر بھارتی حکومت کی تشویش سے وزیراعظم گیلانی کو آگاہ کریں گے جبکہ پاکستانی وزیر اعظم اس تاثر کو مسترد کریں گے ان حملوں میں آئی ایس آئی کا ہاتھ تھا۔ بہر حال، دونوں کی کوشش ہوگی کہ لائن آف کنٹرول پر پانچ سال سے جاری جنگ بندی کی دوبارہ خلاف ورزی نہ ہو تاکہ باہمی تعلقات میں حالیہ کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد