آزاد تجارت: پاک ہند تنازعہ مؤخر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی ایشیائی ممالک کے وزرائے خارجہ آزادانہ علاقائی تجارت سے متعلق معاہدے کو لاگو کرنےکے حوالے سے پاکستان اور ہندوستان کے تنازعہ پر بات چیت مؤخر کرنے پر متفق ہو گئے ہیں۔ بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں ہونے والا یہ اجلاس اس فیصلے کے ساتھ ختم ہوا کہ اس معاملے کو سارک ممالک کے وزرائے تجارت کے فورم کے حوالے کر دیا جا ئےگا۔ حالانکہ اس اجلاس کے دوران یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ ہونے والے اس اجلاس میں جنوبی کوریا، امریکہ اور یورپی یونین کو بطور مبصرشامل کیا جائےگا۔ انڈیا نے پاکستان پر الزام لگایا تھاکہ وہ آزاد تجارت سےمتعلق معاہدہ کو نقصان پہنچانا چاہ رہا ہے۔ دلی کا کہنا ہے کہ اسلام آباد معاہدے کے مطابق ہندوستان سے ہو نے والی درآمدات پر محصول کم کرنے میں نا کام رہا ہے۔ ہندوستان کے نائب وزیر خارجہ ای احمد نے کہا ’ جب آپ کسی معاہدہ پر راضی ہوتے ہیں تو ضروری ہے آپ معاہدے کی شرطیں پوری کریں۔‘ جنوب ایشیائی آزاد تجارت سے متعلق معاہدہ (سافٹا) اس سال کے شروع میں نافز عمل ہوا تھا۔ انہوں نے کہا ’ پاکستان کے ذریعہ جاری کی جانے والی نوٹس معاہدے کی تردید ہے‘۔ لیکن پاکستان کے وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے کہا ہے کہ ان کے پاس ہندوسستان سے اس معاملے پر الگ رویہ رکھنے کا مناسب جواز تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان سے درآمدات میں چار سو فیصد کا اضافہ ہوگیا جب کہ ہندوستانی بازار میں پاکستانی مصنوعات کی پیش قدمی نہیں ہو سکی۔ انہوں نے کہا ’ اس پہلو پر غور کرنے کی ضرورت ہے اور پاکستان کا اس معاہدہ پر شروع سے ہی کافی مثبت نظریہ رہا ہے۔‘ بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ مرشد خان نے کہا کہ اگلے سال دلی میں ہونے والی سارک ممالک کے اجلاس سے پہلے تمام وزرائے تجارت اس معاملے پر مفاہمت قائم کرنے کی کوشش کریں گے۔ | اسی بارے میں متنازعہ معاملات پر بھی بات ہونا چاہئیے15 December, 2004 | پاکستان ڈھاکہ سارک اجلاس کی تاریخ 11 June, 2005 | پاکستان ’بھارتی رویے سے مایوسی ہوئی‘16 September, 2003 | صفحۂ اول ’دو طرفہ مذاکرات نہیں ہونگے‘03 January, 2004 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||