ڈھاکہ سارک اجلاس کی تاریخ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیراعظم شوکت عزیز نے بتایا ہے کہ جنوبی ایشیا میں علاقائی تعاون کی تنظیم ’سارک، کے تیروھیں سربراہی اجلاس کی تاریخوں پر اتفاق ہوگیا ہے اور یہ سربراہ اجلاس بارہ سے تیرہ نومبر تک ڈھاکہ میں ہوگا۔ سارک کے چئرمین نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ یہ فورم علاقائی تعاون کے لیے ہے لیکن اس موقع پر دوطرفہ امور پر بھی بات چیت کرنے کا موقع ملتا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ سے ملاقات کے بارے میں تاحال کوئی تاریخ طے نہیں ہوئی۔ واضح رہے کہ تیروہواں سارک سربراہ اجلاس سونامی کی وجہ سے ملتوی کر دیا گیا تھا اور بعد میں جب فروری میں تاریخ طے ہوئی تو نیپال میں منتخب حکومت کے خاتمے اور بنگلہ دیش میں امن امان کی وجہ سے یہ کانفرنس نہیں ہوسکی۔ وزیراعظم نے کشمیری علیحدگی پسند رہنماؤں کے پاکستان کے دورے کو اعتماد کی بحالی کے اقدامات میں ایک اضافہ قرار دیا۔ بھارت کے حزب اختلاف کے رہنما ایل کے اڈوانی کے بارے میں سوال کے متعلق کہا کہ وہ ان کے معاملے میں کچھ کہنا نہیں چاہتے۔ البتہ وزیراعظم نے کہا کہ قائداعظم دنیا کے عظیم رہنما تھے اس میں کوئی شک نہیں۔ مرکز اور صوبوں کے درمیان مالی وسائل کے تقسیم کے فارمولے یعنی ’این ایف سی‘ کے متعلق وزیراعظم نے کہا کہ صوبوں نے صدر مملکت اور انہیں اختیار دیا ہے اور معاملہ جلد طے پاجائے گا۔ وفاقی حکومت اور صوبہ سرحد کی حکومت کے درمیان ’ہائیڈل بجلی‘ کے منافع کے تعین کے بارے میں سوال پر انہوں نے بتایا کہ اس ضمن میں سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس اجمل میاں کو ثالث مقرر کیا گیا ہے اور ان کی رپورٹ کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے گا۔ وزیراعظم شوکت عزیز نے بتایا کہ امریکی صدر بش نے انہیں دورے کی دعوت دی ہے اور جولائی کے آخر میں وہ امریکہ اور یورپ کے کچھ ممالک میں بھی جائیں گے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ترقی کے لیے توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے خاطر اقدامات کر رہے ہیں اور چار آپشنز زیر غور ہیں۔ ان کے مطابق ایران، قطر اور ترکمانستان سے گیس پائپ لائن بچھانے کے علاوہ ’ایل این جی‘ کا بھی آپشن موجود ہے۔ وزیراعظم کے مطابق پاکستان کا ایک وفد جلد ہی قطر جائے گا جبکہ چند ہفتوں میں ایران کے توانائی کے وزیر پاکستان کا دورہ کرنے والے ہیں۔ واضح رہے کہ پاکستان کے وزیراعظم شوکت عزیز عام طور پر اقتصادی معاملات پر زیادہ توجہ دیتے ہیں اور وزیراعظم ہونے کے باوجود سیاسی اور خارجی معاملات پر کم ہی بولتے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||