سارک اجلاس ایک بار پھر ملتوی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بنگلہ دیش میں چھ فروری کو ہونے والا سارک کا تیرہواں سربراہ اجلاس ایک بار پھر ملتوی کر دیا گیا ہے اور پاکستان نے اس التواء پر انتہائی مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ اس سے پہلے دلی سے بی بی سی اردو کے نامہ نگار شکیل اختر نے بتایا تھا کہ ہندوستان کے وزیر اعظم ڈھاکہ میں ہونے والے سارک سربراہی اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔ ہندوستان حکومت کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ نیپال میں موجودہ سیاسی بحران اور ڈھاکہ میں سلامتی کی بگڑتی ہوئی صورت حال کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ خارجہ سکریٹری شیام سرن نے اس سلسلے میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے بنگلادیش سے درخواست کی ہے کہ وہ مناسب موقعہ پر متفقہ طور پر بعد میں سارک کا سربراہ اجلاس منعقد کرے۔ حکومت ہند نے اپنے فیصلے سے سارک کے دیگر ملکوں کو بھی مطلع کر دیا ہے۔ سوالوں کا جواب دیتے ہوئے مسٹر سرن نے کہا کہ نیپال کی حکومت کا ہندوستان پر براہ راست اثر پڑتا ہے اور وہاں سے گزشتہ دونوں سے سارے رابطے منقطع ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ خود ڈھاکہ کی صورت حال اچھی نہیں ہے کل رات ہی شہر میں تین بم دھماکیں ہوئے ہیں ان حالات میں ہندوستانی رہنماوں کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ ہندوستان نے نیپال میں شاہ گیانیندر کے ذریعے شیر بہادر دیوبا کی حکومت کی برطرفی اور ایمرجنسی کے نفاذ پر سخت ردعمل ظاہر کیا تھا۔ نیپال میں سیاسی بحران پیدا ہونے کے ساتھ ہی سارک کے اجلاس پر شک کے بادل منڈلانے لگے تھے لیکن کل شام نیپال نے حکومت بنگلہ دیش کو مطلع کیا کہ خود شاہ گیانیندر اس اجلاس میں شرکت کریں گے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے ہندوستان یہ نہیں چاہتا کہ شاہ گیانیندر سارک جیسے بڑے سربراہی اجلاس میں شرکت کے ذریعے اپنے اقدامات کا جواز حاصل کریں اسی لیے اس نے اس میں شرکت نہ کر کے شاہ کو اس موقع سے ہی محروم کر دیا۔ لیکن نیپال کے بحران سے قبل ہی ہندوستان نے سلامتی کی صورت حال کا جائزہ لینے کے لئے ایک ٹیم ڈھاکہ بھیجی تھی اور جس سے اجلاس کے بارے میں بے یقینی کا ماحول پہلے ہی پیدا ہو چکا تھا۔ ہندوستان کے تازہ فیصلے سے ہند بنگلادیش تعلقات جو پہلے بھی بہت اچھے نہیں تھے مزید خراب ہونے کا امکان ہے۔ اس دوران پاکستانی دفترِ خارجہ کے ترجمان مسعود خان نے کہا ہے کہ اجلاس کو ملتوی کرنے کے دو اسباب بتائے گئے ہیں، ایک تو نیپال کی صورتِ حال اور دوسری بنگلہ دیش میں عدم تحفظ کے حالات جس سے بھارتی رہنماؤں کی سلامتی کے لیے خطرہ۔ ترجمان نے کہا کہ اس سلسلے میں جہاں تک سلامتی کا معاملہ ہے یہ بنگلہ دیش حکومت کی ذمہ داری ہے اور اس نے تمام مندوبین اور تمام ملکوں کو یقین دلایا ہے کہ سلامتی کے انتظامات ہر سقم سے پاک ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ تمام انتظامات کو آخری شکل بھی دی جا چکی تھی کہ ہندوستان نے اعلان کر دیا کہ بھارتی وزیراعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ شرکت نہیں کر سکیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||