BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 02 February, 2005, 18:38 GMT 23:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سارک اجلاس ایک بار پھر ملتوی

پاکستانی ترجمان
پاکستانی دفترِ خارجہ کے ترجمان مسعود خان نے سارک سربراہ اجلاس کے التوا پر انتہائی مایوسی کا اظہار کیا ہے
بنگلہ دیش میں چھ فروری کو ہونے والا سارک کا تیرہواں سربراہ اجلاس ایک بار پھر ملتوی کر دیا گیا ہے اور پاکستان نے اس التواء پر انتہائی مایوسی کا اظہار کیا ہے۔

اس سے پہلے دلی سے بی بی سی اردو کے نامہ نگار شکیل اختر نے بتایا تھا کہ ہندوستان کے وزیر اعظم ڈھاکہ میں ہونے والے سارک سربراہی اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔

ہندوستان حکومت کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ نیپال میں موجودہ سیاسی بحران اور ڈھاکہ میں سلامتی کی بگڑتی ہوئی صورت حال کے پیش نظر کیا گیا ہے۔

خارجہ سکریٹری شیام سرن نے اس سلسلے میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے بنگلادیش سے درخواست کی ہے کہ وہ مناسب موقعہ پر متفقہ طور پر بعد میں سارک کا سربراہ اجلاس منعقد کرے۔

حکومت ہند نے اپنے فیصلے سے سارک کے دیگر ملکوں کو بھی مطلع کر دیا ہے۔

سوالوں کا جواب دیتے ہوئے مسٹر سرن نے کہا کہ نیپال کی حکومت کا ہندوستان پر براہ راست اثر پڑتا ہے اور وہاں سے گزشتہ دونوں سے سارے رابطے منقطع ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ خود ڈھاکہ کی صورت حال اچھی نہیں ہے کل رات ہی شہر میں تین بم دھماکیں ہوئے ہیں ان حالات میں ہندوستانی رہنماوں کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

ہندوستان نے نیپال میں شاہ گیانیندر کے ذریعے شیر بہادر دیوبا کی حکومت کی برطرفی اور ایمرجنسی کے نفاذ پر سخت ردعمل ظاہر کیا تھا۔

نیپال میں سیاسی بحران پیدا ہونے کے ساتھ ہی سارک کے اجلاس پر شک کے بادل منڈلانے لگے تھے لیکن کل شام نیپال نے حکومت بنگلہ دیش کو مطلع کیا کہ خود شاہ گیانیندر اس اجلاس میں شرکت کریں گے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے ہندوستان یہ نہیں چاہتا کہ شاہ گیانیندر سارک جیسے بڑے سربراہی اجلاس میں شرکت کے ذریعے اپنے اقدامات کا جواز حاصل کریں اسی لیے اس نے اس میں شرکت نہ کر کے شاہ کو اس موقع سے ہی محروم کر دیا۔

لیکن نیپال کے بحران سے قبل ہی ہندوستان نے سلامتی کی صورت حال کا جائزہ لینے کے لئے ایک ٹیم ڈھاکہ بھیجی تھی اور جس سے اجلاس کے بارے میں بے یقینی کا ماحول پہلے ہی پیدا ہو چکا تھا۔

ہندوستان کے تازہ فیصلے سے ہند بنگلادیش تعلقات جو پہلے بھی بہت اچھے نہیں تھے مزید خراب ہونے کا امکان ہے۔

اس دوران پاکستانی دفترِ خارجہ کے ترجمان مسعود خان نے کہا ہے کہ اجلاس کو ملتوی کرنے کے دو اسباب بتائے گئے ہیں، ایک تو نیپال کی صورتِ حال اور دوسری بنگلہ دیش میں عدم تحفظ کے حالات جس سے بھارتی رہنماؤں کی سلامتی کے لیے خطرہ۔

ترجمان نے کہا کہ اس سلسلے میں جہاں تک سلامتی کا معاملہ ہے یہ بنگلہ دیش حکومت کی ذمہ داری ہے اور اس نے تمام مندوبین اور تمام ملکوں کو یقین دلایا ہے کہ سلامتی کے انتظامات ہر سقم سے پاک ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ تمام انتظامات کو آخری شکل بھی دی جا چکی تھی کہ ہندوستان نے اعلان کر دیا کہ بھارتی وزیراعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ شرکت نہیں کر سکیں گے۔

سارک ممالکسارک اور ادب آداب
سارک ممالک کے ادیبوں کا اجلاس لاہور میں شروع
دہشت گردیسارک: دہشت گردی
اضافی پروٹوکول کی خاص خاص باتیں
واچپئی جمالیاعلانِ اسلام آباد
مشترکہ اعلامیے کے اہم نکات
سارک کے پرواز پر صحافیوں کی باراتصحافیوں کی بارات
سارک کے پرواز پر صحافیوں کی بارات
عوامی سارک اجلاس
اسلام آْباد میں عوام اور صحافیوں کا الگ اجلاس
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد