BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 21 July, 2004, 23:06 GMT 04:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سارک بہتر تعلقات کا ذریعہ: قصوری

خورشید قصوری نٹور سنگھ کے ساتھ دارالحکومت اسلام آباد میں
خورشید قصوری نٹور سنگھ کے ساتھ دارالحکومت اسلام آباد میں
پاکستان کے وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری کا کہنا ہے کہ جنوبی ایشیا کی علاقائی تعاون کی تنظیم سارک نے پاکستان اور بھارت کو تمام تنازعات پر مذاکرات کا ایک فورم مہیا کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کالم نگاروں اور تنقید کاروں نے کافی لکھا اور کہا ہے کہ یہ تنظیم پاکستان اور بھارت کے درمیاں تناؤ کی وجہ سے یرغمال بنی رہی، لیکن اس حقیقت کو نہیں بھولنا چاہیے کہ دونوں ممالک میں مذاکرات سارک اجلاسوں کے مواقع پر ہونے والی ملاقاتوں کی وجہ سے ہو رہے ہیں۔

سارک کے وزرائے خارجہ کا دو روزہ اجلاس ختم ہونے پر بدھ کی شام سارک کے سکریٹری جنرل کے ہمراہ اخباری کانفرنس میں خورشید محمود قصوری نے کہا کہ اجلاس اس عزم سے اختتام پذیر ہوا ہے کہ رکن ممالک خطے سے غربت اور ناخواندگی کے خاتمے کے لیے تعاون بڑھائیں گے۔

پاکستان اور بھارت کے دوطرفہ مذاکرات کے متعلق بیشتر سوالات کے جواب میں وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ان کے ہونٹوں پر مہر لگی ہوئی ہے۔ تاہم انہوں نے دو بار کہا کہ بھارت کے وزیر خارجہ سے تقریباً دو گھنٹوں کی ملاقات میں انہوں نے داستان امیر حمزہ نہیں سنائی بلکہ تمام معاملات پر کھل کر بحث کی ہے۔

خورشید قصوری نے کہا کہ جب مستقل رابطے ہوتے ہیں اس سے ماحول میں تبدیلی آتی ہے اور ان کے بقول سارک پاک۔بھارت رابطوں میں خاصی مدد گار ثابت ہوئی ہے۔

پاکستان کے وزیر خارجہ نے جو کہ سارک وزراء کونسل کے چیئرمین بھی ہیں، صحافیوں کو بتایا کہ سارک کا آئندہ سربراہی اجلاس نو سے گیارہ جنوری سن دو ہزار پانچ میں بنگلہ دیش میں منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سارک کے موجودہ سیکریٹری جنرل کیو اے ایم اے رحیم کی مدت ملازمت آئندہ سال جنوری میں مکمل ہوگی اور ان کی جگہ بھوٹان کے لین پورڈونجی کو مقرر کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ’سارک ایوارڈ دو ہزار چار‘ بنگلہ دیش کے سابق صدر ضیاء الرحمٰن کو دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں وزیر خارجہ نے کہا کہ غربت کے خاتمے کے لیے رقم کا کوئی مسئلہ نہیں، اصل میں ادراک، حکمت عملی اور سمت کا تعین کرنا تھا جو ان کے بقول انہوں نے کر لیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سارک کے حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ جنوبی ایشیا کے ممالک کی غربت کا ’پروفائل‘ جلد تیار کریں۔

وزیر خارجہ کے بقول سارک کا دیگر علاقائی تنظیموں اور اقوام متحدہ کے مختلف اداروں سے قریبی تعلق پیدا کرنے کی کوشش کی جائے گی اور اقوام متحدہ میں سارک کے بطور آبزرور نمائندگی کے حصول کی کوششیں بھی تیز کردی گئی ہیں۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ دو روزہ اجلاس میں طے کیا گیا کہ رکن ممالک میں آزادانہ تجارت مقررہ مدت یعنی جنوری سن دو ہزار چھ سے شروع کی جائے گی اور اس ضمن میں ان کے بقول تمام وزرائے خارجہ نے جرات کا مظاہرہ کیا ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اجلاس میں آزادانہ تجارت کے تناظر میں حساس اشیاء کی فہرستوں پر نظر ثانی، کم ترقی یافتہ رکن ممالک کو تکنیکی مدد فراہم کرنے اور ان کی آمدن میں متوقع کمی پوری کرنے کے لیے معاوضہ دینے کے نکات پر تفصیلی غور کیا گیا۔

سارک کے سیکریٹری جنرل کیو اے ایم اے رحیم نے صحافیوں کو بتایا کہ آزادانہ تجارت کے بارے میں اٹھائے گئے نکات ’ایکسپورٹ کمیٹی‘ کو بھیجنے کی سفارش کی گئی ہے اور امید ہے کہ ان کا قابل قبول حل نکالا جائے گا۔

وزیر خارجہ سے جب پوچھا گیا کہ کیا سارک کے اب تک فعال نہ ہونے کی وجہ دیگر ممالک کی نسبت بھارت کا بھاری ہونا تو نہیں ہے تو انہوں نے کہا کہ نہیں سارک کے فعال بننے میں بھارت رکاوٹ نہیں ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد