نئی دہلی میں ملاقات پر اتفاق | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری جامع مذاکرات کے سلسلے میں دونوں ملکوں کے وزراء خارجہ نے پانچ اور چھ ستمبر کو نئی دلی میں بات چیت کا ایک اور دور کرنے پر اتفاق کرلیا ہے۔ یہ اتفاق بدھ کی صبح ایک مقامی ہوٹل میں دونوں وزراء خارجہ کے درمیان ہونے والی سوا گھنٹے طویل ملاقات میں غیر رسمی بات چیت کے دوران کیا گیا۔ ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے وفود بھی وزراء کی معاونت کے لیے موجود تھے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی اور پاکستان نے امید ظاہر کی کہ مذاکرات آگے بڑہیں گے۔ ملاقات کے بعد پاکستان کے وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے صحافیوں کو بتایا کہ تمام متعلقہ امور پر تفصیلی بات چیت ہوئی ہے۔ بھارتی وزیر خارجہ نٹور سنگھ کا کہنا تھا کہ کافی معاملات پر پیش رفت ہوئی ہے۔ جب ان سے کشمیر کے معاملے پر پیش رفت کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے کہا’ آپ کو خبر چاہیے اور ہم مسئلے کا حل چاہتے ہیں۔‘ بھارتی وزیر کا کہنا تھا کہ ملاقات میں دونوں ممالک نے سفارتی مشن بڑھانے، کراچی اور بمبئی میں قونصل خانے جلد کھولنے اور دہشت گردی کے معاملات پر بات چیت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’سرحد پار دہشت گردی کے متعلق بھی بات ہوئی ہے اور وہ پرامید ہیں کہ ستمبر میں مجوزہ ملاقات میں بڑی پیش رفت ہوگی۔‘ جب پاکستانی وزیر خارجہ سے کنٹرول لائن پر بھارت کی جانب سے باڑ کی تعمیر پر بات چیت کے متعلق پوچھا گیا توانہوں نے کہا کہ اس بارے میں بات چیت ہو رہی ہے۔ سرینگر مظفر آباد بس سروس کے متعلق سوال پر بھارتی وزیر نے بتایا کہ اس موضوع پر ملاقات میں بات ہوئی اور انہوں نے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہلی میں ہونے والے مذاکرات میں وہ چند نئی تجاویز پیش کریں گے، جس کی تفصیلات انہوں نے نہیں بتائیں۔ یاد رہے کہ بھارتی وزیر خارجہ سارک وزراء خارجہ کی کونسل کے اجلاس میں شرکت کے لیے اسلام آباد آئے ہیں۔ یہ دوروزہ اجلاس بدھ کو اختتام پذیر ہو رہا ہے۔ بھارت کے وزیر خارجہ نٹور سنگھ نے بدھ کو پاکستان کے وزیراعظم چودھری شجاعت حسین سے بھی ملاقات کی ہے جبکہ وہ صدر جنرل پرویز مشرف سے بھی ملیں گے۔ واضح رہے کہ بھارت میں کانگریس پارٹی کی حکومت قائم ہونے کے بعد دونوں ممالک کے وزراء خارجہ میں تقریبا ایک ماہ کے عرصہ میں یہ تیسری ملاقات تھی، اس سے قبل وہ چین اور انڈونیشیا میں بھی ملاقات کر چکے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||