’ عدم استحکام کے لیے مشرف ذمہ دار‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سینٹ میں قائد ایوان رضا ربانی نےجنرل (ر) مشرف کو پاکستان کے سیاسی نظام کے عدم استحکام کی سب سے بڑی وجہ قرار دیا ہے اور کہا کہ پارلیمان میں اراکین کی مطلوبہ تعداد پوری ہوتے ہی مخلوط حکومت اس مسئلے کا آئینی سدباب کرے گی۔ یہ بات انہوں نے لاہورمیں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ سینٹ میں قائد ایوان رضا ربانی نے کہا کہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت یہ کہا جارہا ہے کہ حکومت آج کل کی مہمان ہے اور یہ پراپیگنڈہ کرنے والے ان کے بقول وہ لوگ ہیں جنہوں نے سات برس آمریت کے تحت گزارے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت صدر مشرف سے خیرات میں نہیں ملی بلکہ اٹھارہ فروری کے عوامی مینڈیٹ کے نتیجے میں وجود میں آئی ہے۔اسے سولہ کروڑ عوام اور چاروں صوبائی حکومتوں کی حمایت حاصل ہے۔انہوں نے کہا کہ کسی میں یہ ہمت نہیں کہ وہ اسے برطرف کرنے کا آئینی اختیار اٹھا ون ٹو بی استعمال کرے یا ایسا سوچ بھی سکے۔ پیپلز پارٹی کے رہنما نے کہا کہ پاکستان کی پارلیمان ان دنوں اتنی طاقتور ہے جتنی اس سے پہلے کبھی نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایس آئی کو وزارت داخلہ کے ماتحت کرنے کا فیصلہ پارلیمان نے نہیں کیا تھا اور مشیر داخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ وہ پاکستان پہنچ کر اس بارے میں تفصیل سے آگاہ کریں گے۔ سنیٹر رضا ربانی نے کہا کہ حکمران پارٹیوں کا اتحاد قائم ہے اور پیپلز پارٹی اس جماعت سے اتحاد کا سوچ بھی نہیں سکتی جسے وہ قاتل لیگ قرار دیتی رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اعلان بھور بن کے تحت ججوں کی بحالی کے وعدے پر قائم ہے اور جلد کسی فارمولے کے بغیر ججوں کو دونومبر دوہزار سات والی پوزیشن پر بحال کردیا جائے گا۔ سینٹر رضا ربانی نے صوبوں کے درمیان مالیاتی تقسیم کے موجودہ نیشنل فنانس کمشن ایوارڈ کو غیرآئینی قرار دیا اور کہا کہ یہ ایوارڈ پرویز مشرف نے غیر قانونی طریقے سے جاری کیا تھا اور وہ صوبوں کی مشاورت سے چند ہفتوں کے اندر نیا مالیاتی فارمولا لائیں گے۔انہوں نے کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس بھی بلایا جارہا ہے اور اگر اس میں معاملات حل نہ ہوسکے تو پھر انہیں پارلیمان میں زیر بحث لایا جائے گا۔ سینٹر رضا ربانی نے لاہور میں سپیکر پنجاب اسمبلی اور وزیر اعلی پنجاب سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ انہو ں نے کہا کہ وہ چاروں صوبوں کا دورہ کررہے ہیں اور لاہور کی ملاقاتیں اسی کا حصہ ہیں۔اس سے پہلے وہ صوبہ سرحد کا دورہ کرچکے ہیں۔ | اسی بارے میں مشرف کی ایوان صدر میں منتقلی 23 May, 2008 | پاکستان صدر کے غیر ملکی دوروں کے اخراجات24 April, 2008 | پاکستان ’دو تین ٹِکا دیں تو اچھا ہے‘26 January, 2008 | پاکستان صدر مشرف کا مشکل ترین سال26 December, 2007 | پاکستان فہمیدہ مرزا سپیکر کے لیے نامزد18 March, 2008 | پاکستان ’مشرف سے رابطے، مخدوم پر شک‘10 March, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||