صدر کے غیر ملکی دوروں کے اخراجات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قومی اسمبلی کو بتایا گیا ہے کہ صدر پرویز مشرف نے سمتبر دو ہزار چھ میں اب تک کا سب سے مہنگا دورہ کیا تھا جس پر قومی خزانے سے بائیس کروڑ روپے خرچ ہوئے تھے۔ مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی راجہ محمد اسد خان کے ایک سوال کے جواب میں کہ جنوری دو ہزار تین سے فروری دو ہزار آٹھ تک کے پانچ برسوں میں صدر نے کتنے غیرملکی دورے کیے اور ان پر کتنا پیسہ خرچ ہوا ایوان کو بتایا گیا کہ اس دوران صدر نے مجموعی طور پر سینتیس دورے کیے۔ تاہم ایوان کے سامنے رکھی گئی تفصیل کے مطابق صدر کا مہنگا ترین دورہ ستمبر دو ہزار چھ میں کیا گیا تھا جو سولہ روز طویل تھا۔ صدر اس دورے میں اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے امریکہ، یورپی یونین سے مذاکرات کے لیے بیلجیم، غیروابستہ ممالک کی تحریک کے اجلاس میں شرکت کے لیے کیوبا اور پھر برطانیہ گئے تھے۔ صدر کے ساتھ اس دورے میں باون افراد پر مشتمل ایک بڑا وفد بھی شامل تھا۔ تاہم صدر اس سے بھی بڑے وفود کے ساتھ بھی دورے کر چکے ہیں۔ ترپن اراکین کے ایک وفد کے ساتھ صدر نے مراکش، برازیل، ارجینٹینا، میکسیکو، فرانس اور امریکہ کا نومبر دو ہزار چار میں پندرہ روز دورہ کیا تھا جس پر نو کروڑ روپے سے زائد کا خرچہ آیا تھا۔
سب سے چھوٹے وفد کے ساتھ انہوں نے متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا جس میں صرف اٹھارہ اراکین شامل تھے جو انہوں نے اپریل دو ہزار چھ میں کیا۔ ان کا سب سے کم خرچ دورہ تاہم نومبر دو ہزار چار میں تیس رکنی وفد کے ساتھ افغانستان کا ثابت ہوا ہے جس پر صرف پیتیس ہزار روپے خرچہ آیا۔ مبصرین کا خیال میں یہ اعدادشمار واضع نہیں کیونکہ تیس اراکین کے سفر کا خرچ اس رقم سے کئی گنا زیادہ ہوگا۔ اس دورے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری لانا تھا۔ ان پانچ برسوں میں جس ملک کا صدر نے سب سے زیادہ رخ کیا وہ سعودی عرب ہے جہاں وہ آٹھ مرتبہ گئے۔ ان میں چار دورے تو انہوں نے گزشتہ برس کیے جن میں سے بعض کا مقصد سعودی حکمرانوں کے ساتھ سابق وزیر اعظم نواز شریف کی واپسی پر بات کرنا بھی تھا۔ سعودی عرب کے بعد دوسرے نمبر پر امریکہ ہے جہاں کے انہوں نے چھ دورے کیے۔ اگرچہ گزشتہ برس یعنی دو ہزار سات پاکستان اور صدر دونوں کے لیے سب سے زیادہ بحران بھرا سال تھا تاہم اس برس صدر نے کسی بھی سال میں سب سے زیادہ یعنی آٹھ غیرملکی دورے کیے۔ صدر کے دورے پر آنے والے اخراجات کو اگر جمع کیا جائے تو وہ تقریباً ایک ارب روپے کے قریب بنتے ہیں۔ | اسی بارے میں صدر کو مانتا ہوں نہ گورنر کو: کھوسہ22 April, 2008 | پاکستان ’صدر مشرف پر مقدمہ درج کریں‘18 April, 2008 | پاکستان ’امریکہ مشرف کی حمایت نہ کرے‘16 April, 2008 | پاکستان ’تشدد کے پیچھے صدر اور اتحادی‘09 April, 2008 | پاکستان صدر کے لیے معافی کی پیشکش28 February, 2008 | پاکستان ’مشرف کا کردار، فیصلہ عوام کا‘27 February, 2008 | پاکستان جمہوریت اور مشرف میں پھنسا امریکہ25 February, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||