BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 18 April, 2008, 14:55 GMT 19:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’صدر مشرف پر مقدمہ درج کریں‘

لال مسجد مظاہرہ(فائل فوٹو)
لال مسجد آپریشن میں سو سے زائد افراد مارے گئے تھے
لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے طلبہ اور طالبات کی جانب سے جامعہ حفصہ کو دوبارہ تعمیر نہ کرنے کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور ایک غیر سرکاری تنظیم کے رکن نے صدر مشرف سمیت لال مسجد آپریشن کے ذمہ دار افراد کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست دی ہے۔

جمعہ کو بھی مظاہرین نے جن میں طلباء و طالبات بھی شامل تھے، لال مسجد کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا اور ’مشرف کی بربادی تک جنگ رہے گی’ اور ’ظالمو جواب دو، خون کا حساب دو’ جیسے نعرے لگائے۔

مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور کتبے بھی اُٹھا رکھے تھے جن پر ’اے امت مسلمہ کے نوجوانوں حفصہ کی بیٹیوں کا لہو تمہیں پکار رہا ہے’ اور’ مولانہ عبدالعزیز کو رہا کرو’ جیسی عبارتیں درجت تھیں۔

بعد ازاں مظاہرین نے غیر سرکاری تنظیم ڈیفنس آف ہیومن رائٹس کے نمائندے خالد خواجہ کی قیادت میں تھانہ آبپارہ تک مارچ کیا اور صدر پرویز مشرف، چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی جنرل طارق مجید، سابق وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ کے علاوہ دیگر افراد کے خلاف لال مسجد آپریشن کروانے پر مقدمہ درج کرنے کی درخواست دی۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس جولائی میں لال مسجد اور جامعہ حفصہ پر فوجی کارروائی کے دوران ایک سو کے قریب مبینہ شدت پسند ہلاک ہوگئے تھے جن میں عورتیں بھی شامل تھیں۔

 ظلم کرنے والوں کے خلاف مقدمہ درج کر کے صرف کاغذی کاروائی نہ کی جائے بلکہ اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے۔
بریرہ احمد، طالبہ جماعہ حفصہ

اس موقع پر خالد خواجہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بے نظیر بھٹو کے قتل اور لال مسجد آپریشن میں غیر ملکی ہاتھ ملوث ہیں اور حکومت کو چاہیے کہ اقوام متحدہ سے بےنظیر کے قتل کی تحقیقات کروانے کے ساتھ ساتھ لال مسجد آپریشن کی بھی تحقیقات کروائی جائیں کیونکہ دونوں معاملات میں قدر مشترک یہ ہے کہ دونوں جگہوں سے موقع پر موجود شواہد کو مٹا دیا گیا تھا۔

اس موقع پر تھانہ آبپارہ میں موجود جامعہ حفصہ کی ایک طالبہ بُریرہ احمد نے کہا کہ اُن کی ساتھی طالبات کے ساتھ بہت ظلم ہوا ہے اور چاہتی ہیں کہ اس ظلم کرنے والوں کے خلاف مقدمہ درج کر کے صرف کاغذی کاروائی نہ کی جائے بلکہ اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے۔

پولیس افسر شبیر حسین نے درخواست وصول کرنے کی تصدیق کی اور قانونی کارروائی کرنے کا کہا تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا مقدمے میں صدر مشرف کا نام شامل ہوگا یا نہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد