حفصہ طالبات، مسلسل احتجاج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جامعہ حفصہ کی طالبات نے نئی حکومت پر دباؤ کی پالیسی جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان طالبات کے مظاہرے اُس وقت تک جاری رہیں گے جب تک جامعہ حفصہ کی تعمیر دوبارہ شروع نہیں کی جاتی۔ آبپارہ چوک پر نماز جمعہ کے بعد لال مسجد اور جامعہ حفصہ کی طلباء اور طالبات نے ایک احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے بینرز اور کتبے اُٹھا رکھے تھے جن پر صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف نعرے درج تھے۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ لال مسجد پر ہونے والی فوجی کارروائی ایک سوچی سمجھی سازش تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس آپریشن کے دوران غازی عبدالرشید سمیت دیگر افراد کی ہلاکت کے ذمہ دار صدر مشرف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لال مسجد اور جامعہ حفصہ پر ہونے والی بمباری کا حساب لیا جائے گا اور ذمہ دار افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ انہوں نے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کے اس اقدام کو سراہا جس کے تحت انہوں نے وزارت داخلہ کو حکم دیا تھا کہ لال مسجد آپریشن اور اس مسجد کے سابق خطیب مولانا عبدالعزیز کے خلاف درج مقدمات کے بارے میں ایک جامع رپورٹ مرتب کرکے وزیر اعظم سیکرٹریٹ کو بھجوائیں۔ جامعہ حفصہ کی ایک طالبہ عاصمہ مظہر جو جولائی سنہ دوہزار سات میں لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے خلاف ہونے والی فوجی کارروائی کے دروان جامعہ حفصہ میں موجود تھیں نے ان واقعات کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کی انتظامیہ اور فوجی اہلکاروں نے ان مدرسوں میں مقیم افراد کو آٹھ دن تک بھوکا رکھا اور ان افراد پر اندھا دھند فائرنگ کی جس سے سیکنٹروں مرد اور خواتین ہلاک ہوگئی تھیں اور اس وقت سیکنٹروں افراد کی لاشیں مدرسے میں پڑی تھیں اور ہر طرف خون اور انسانی اعضا بکھرے ہوئے تھے۔ مقررین نے موجودہ حکومت سے مطالبہ کیا کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کے یکم اکتوبر سنہ دوہزار سات کے اُس فیصلے پر عملدرآمد کروایا جائے جو انہوں نے لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے خلاف ہونے والے آپریشن کے بارے میں دیا تھا جس میں کہا گیا ہے کہ اس آپریشن میں ملوث افراد کے خلاف فوجداری مقدمات درج کرنے کے علاوہ جامعہ حفصہ کی دوبارہ تعمیر شروع کی جائے اور اس کی تعمیر ایک سال میں مکمل کی جائے۔ مقررین نے کہا کہ سپریم کورٹ کے احکامات کو دیکھتے ہوئے جامعہ حفصہ کی دوبارہ تعمیر کے سلسلے میں چھ ماہ سے بھی کم عرصہ رہ گیا ہے لیکن ابھی تک اس کی تعمیر شروع بھی نہیں ہو سکی۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ مولانا عبدالعزیز کے خلاف تمام مقدمات کو ختم کرکے انہیں رہا کیا جائے۔ آبپارہ چوک میں اہلحدیث یوتھ فورس نے ہالینڈ اور ڈنمارک کے اخبارات میں توہین آمیز خاکوں کے خلاف ایک احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات کو منقطع کرتے ہوئے ان ممالک کے سفیروں کو پاکستان سے نکال دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ان ممالک کے ساتھ تجارت کے تمام معاہدے ختم کرے۔ مظاہرین ان ملکوں کے سفارتخانوں تک جانا چاہتے تھے تاہم وہاں تعینات پولیس کی بھاری نفری نے انہیں سفارتخانوں تک جانے سے روک دیا۔ |
اسی بارے میں ’مدارس دہشت گردی کے مراکز نہیں‘ 02 August, 2007 | پاکستان مریم کی ڈائری: دو دن کی یادداشتیں19 July, 2007 | پاکستان جنرل مشرف کے لیے ایک نئی جنگ؟12 July, 2007 | پاکستان خواتین کے اغواء کے خلاف مظاہرہ 05 April, 2007 | پاکستان ماں، بہواور بیٹی تاحال یرغمال28 March, 2007 | پاکستان لال مسجد پر رپورٹ پیش کرنے کا حکم23 July, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||