جامعہ حفصہ طالبات کی کارروائی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جامعہ حفصہ کی لٹھ بردار طالبات نے اسلام آباد کے علاقے سیکٹر آئی نائن میں واقع ایک دینی مدرسے فاطمۃ الزھرہ پر مبینہ طور پرقبضہ کر لیا ہے جبکہ اس مدرسے کےمہتمم قاری احسان اللہ پراسرار طور پر غائب ہوگئے ہیں۔ مقامی تھانے کی پولیس نے کہا ہے کہ یہ جائیداد کا مسئلہ ہے اور اس بارے میں فریقین مقدمات درج کروا چکے ہیں اور جب تک عدالت اس بارے میں فیصلہ نہیں کرتی اس وقت تک پولیس کوئی کارروائی نہیں کر سکتی۔ پولیس ذرائع کے مطابق آئی نائن میں واقع ایک کوٹھی کے مالک نے کچھ عرصہ قبل یہ کوٹھی لال مسجد کی انتظامیہ کو وقف کر دی تھی جہاں پر طالبات کےلیے مدرسہ قائم کردیا گیا تھا اور جب فوج نے لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے خلاف آپریشن شروع کیا تو لال مسجد اور جامعہ حفصہ کی انتظامیہ نے مدرسہ فاطمۃ الزھرہ کا کنٹرول قاری احسان اللہ کے حوالے کردیا تھا۔
انہوں نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ مذکورہ مدرسے کے انچارج نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا اور انہوں نے مدرسے کی رقم میں خوردبرد کی۔ ام حسان نے کہا کہ جامعہ حفصہ کی انتظامیہ نے قاری احسان کو فاطمۃ الزھرہ مدرسے کا انچارج مقرر کیا تھا اور متعلقہ حکام کی طرف سے مذکورہ شخص کو ان کے عہدے سے ہٹانے کے عمل کی وجہ سے یہ معاملہ شروع ہوا۔ ام حسان نے کہا کہ جب وہ پولیس کی تحویل میں تھیں تواس دوران قاری احسان اللہ نے کہا کہ اس نےاس مدرسے پر تین لاکھ روپے خرچ کیے ہیں جو انہیں ادا کر دیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ مدرسہ فاطمۃ الزھرہ لال مسجد کی انتظامیہ کی ملکیت ہے اور انہوں نے کہا کہ قاری احسان اللہ نے اس پر قبضہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ متعلقہ تھانے کی پولیس کے مطابق حالات کنٹرول میں ہیں اور انہوں نے فریقین سے کہا ہے کہ جب تک عدالت ان کی درخواستوں کے بارے میں فیصلہ نہیں کرتی اس وقت تک پولیس کچھ نہیں کرسکتی۔ مقامی تھانے کے ایس ایچ او منور مہر کا کہنا ہے کہ یہ مدرسہ لال مسجد کی انتظامیہ کے زیر کنٹرول ہے اور جب اس انتظامیہ نے لڑکیوں کے اس مدرسے کے انچارج کو تبدیل کرنے کی کوشش کی تو مولانا احسان اللہ کے انکار پر یہ معاملہ طول پکڑگیا۔ انہوں نے کہا کہ اس مدرسے کی ملکیت کے بارے میں فریقین نے عدالتوں میں دعوے دائر کر رکھے ہیں۔ اسلام آباد کی مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ انہوں نےاس مسئلے کے حل کے لیے علماء کی ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جو اس معاملے کو نمٹائے گی ۔ واضح رہے کہ گزشتہ برس جامعہ حفصہ کی طالبات ایف ایٹ مرکز میں ایک مساج سینٹر سے چینی خواتین کو اغوا کر کے لے گئی تھیں جنہیں بعد ازاں رہا کردیا گیا تھا جس پر چینی حکام نے اس واقعہ کا سخت نوٹس لیتے ہوئے پاکستانی حکومت سے یہ معاملہ اٹھایا تھا اور صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نےگزشتہ برس لال مسجد کے خلاف ہونے والی فوجی کارروائی کو جائز قرار دیتے ہوئے جن وجوہات کا ذکر کیا تھا اس میں ان چینی باشندوں کا اغواء بھی شامل تھا۔ اسلام آباد کی پولیس نے لال مسجد کے سابق خطیب مولانا عبدالعزیز ان کی اہلیہ ام حسان ،ان کی بیٹی اور جامعہ حفصہ کی طالبات کے خلاف ان چینی باشندوں کے اغوا کا مقدمہ درج کرلیا تھا جس میں ان افراد کی ضمانتیں ہوچکی ہیں۔ |
اسی بارے میں ’مدارس دہشت گردی کے مراکز نہیں‘ 02 August, 2007 | پاکستان مریم کی ڈائری: دو دن کی یادداشتیں19 July, 2007 | پاکستان جنرل مشرف کے لیے ایک نئی جنگ؟12 July, 2007 | پاکستان خواتین کے اغواء کے خلاف مظاہرہ 05 April, 2007 | پاکستان ماں، بہواور بیٹی تاحال یرغمال28 March, 2007 | پاکستان لال مسجد پر رپورٹ پیش کرنے کا حکم23 July, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||