شہزاد ملک بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد |  |
 | | | لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے خلاف ہونے والے فوجی آپریشن میں سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ایک سو سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ |
ڈیفینس آف ہومین رائٹس کے چیئرمین خالد خواجہ نے کہا ہے کہ لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے بارے میں پی سی او کے تحت معرض وجود میں آنے والی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے یکم اکتوبر سنہ دو ہزار سات میں جو احکامات جاری کیے تھے ان پر عملدرامد کیا جائے۔ جولائی سنہ دوہزار سات میں لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے خلاف ہونے والے فوجی آپریشن میں سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ایک سو سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ جمعرات کو اسلام آباد میں غازی عبدالرشید کی بیوہ اور ان کی ہمشیرہ کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے خالد خواجہ نے کہا کہ نئی حکومت ان تمام ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی کرے جو لال مسجد آپریشن میں ملوث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ان افراد کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے اپنے وکلاء سے صلاح مشورے کر رہے ہیں۔ مرحوم غازی عبدالرشید کی بہن نے کہا کہ انہوں نے اس واقعہ میں ملوث افراد کے خلاف مقدمہ درج کروانے کے لیے جب آئی جی اسلام اباد سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ انہیں سپریم کورٹ کی طرف سے ایسی کوئی ہدایات نہیں ملی۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس واقعہ کے ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کریں گی۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے یکم اکتوبر سنہ دو ہزار سات کو لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے واقعہ کی سماعت کے دوران یہ حکم دیا تھا کہ اس واقعہ میں ملوث افراد کے خلاف فوجداری مقدمات درج کیے جائیں اور فوجی کارروائی کے بعد گرائے جانے والے خواتین کے مدرسے جامعہ حفصہ کی تعمیر ایک سال میں مکمل کی جائے۔ ڈیفینس آف ہومین رائٹس کے چیئرمین نے کہا کہ لال مسجد کے سابق خطیب مولانا عبدالعزیز کو خلاف جھوٹے مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان مقدمات کو فوری طور پر ختم کرکے لال مسجد کے سابق خطیب کو رہا کیا جائے۔ وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے خلاف ہونے والی کارروائی اور مولانا عبدالعزیز کے خلاف درج مقدمات کے بارے میں وزارت داخلہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ ان واقعات کی ایک مفصل رپورٹ تیار کرکے وزیر اعظم سیکرٹریٹ کو بھجوائیں۔ خالد خواجہ نے کہا کہ ابھی تک پانچ سو چالیس افراد لاپتہ ہیں انہوں نے الزام عائد کیا کہ ابھی تک انٹیلیجنس ایجنسیوں کی طرف سے مختلف افراد کو اُٹھا کر لے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔ خالد خواجہ نے کہا کہ ان کے خلاف جن افراد نے جھوٹے مقدمات درج کروائے تھے وہ ان کے خلاف قانونی کارروائی کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ سابق حکمرانوں نے نئی حکومت کے وزیر اعظم سمیت کابینہ کے متعدد ارکان کے خلاف جھوٹے مقدمات درج کروائے تھے لہذا اس حکومت میں شامل افراد کو ان حکمرانوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنی چاہیے جو ان کے خلاف مقدمات درج کروانے کے ذمہ دار ہیں۔ جامعہ حفصہ کی طالبات جمعے کے روز اسلام آباد میں ایک احتجاجی مظاہرہ بھی کررہی ہیں جس میں حکومت سے جامعہ حفصہ کی تعمیر کا مطالبہ کیا جائےگا۔ |