BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 23 May, 2008, 14:18 GMT 19:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مشرف کی ایوان صدر میں منتقلی

فائل فوٹو
صدر مشرف آئندہ دو ماہ میں آرمی ہاؤس سے ایوان صدر منتقل ہو جائیں گے
صدر جنرل(ر) پرویز مشرف کے آرمی ہاؤس سے ایوان صدر منتقل ہونے سے پہلے ایوان صدر کے آس پاس کے رہائشی لوگوں کو دوسری جگہوں پر منتقل کرنے کے احکامات جاری کیےگئے ہیں۔

امکان ہے کہ صدر مشرف آئندہ دو ماہ میں راولپنڈی میں واقع آرمی ہاؤس کو خالی کر کے اسلام آباد میں واقع ایوان صدر منتقل ہو جائیں گے۔

واضح رہے کہ پاکستانی انٹیلیجنس ایجسیوں نےایوان صدر کے قریبی علاقوں میں واقع ان بستیوں کو خطرناک قرار دیا ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ کوئی بھی شدت پسند ان بستیوں سے ایوان صدر اور اس سے ملحقہ دیگر اہم سرکاری عمارتوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

سی ڈی اے کے ڈائریکٹر اربن پلانگ سرور سندھو کا کہنا ہے کہ علی پور فراش میں چار ہزار رہائشی پلاٹ ہیں جن میں سے بری امام کے قریبی علاقوں میں واقع بستیوں میں رہائش پذیر ڈیڑھ ہزار خاندانوں میں سے چھ سو خاندانوں کو علی پور فراش میں پلاٹ الاٹ کرد یے گئے ہیں۔

بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان ڈیڑھ ہزار خاندانوں میں سے ڈھائی سو سے زائد خاندان غیر قانونی طور پر رہ رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سی ڈی اے نے یہ واضح پالیسی بنائی ہے کہ ان بستیوں میں رہنے والے جو افراد اپنے مکانات کو گرائیں گے انہیں علی پور فراش میں پلاٹ آلاٹ کیے جائیں گے۔

سرور سندھو کا کہنا تھا کہ ان بستیوں کو منہدم کر کے اس علاقے کو گرین آیریا قرار دیا جائےگا اور وہاں ایک پارک بنایا جائےگا۔

فوجی وردی اتارنے کے بعد بھی مشرف آرمی ہاؤس میں رہتے ہیں

ادھر ایوان صدر میں سیکیورٹی کے جدید آلات لگانے کے لیے سیکیورٹی امور کے بارے میں ایک بین الاقوامی سیکیورٹی ایجنسی کی خدمات حاصل کی گئیں ہیں۔ اس کی سفارشات کی روشنی میں سیکیورٹی کے آلات جرمنی اور دیگر ملکوں سے درآمد کیے جا رہی ہیں اور سیکیورٹی کے ان آلات کی تنصیب کا کام ایوان صدر میں جاری ہے۔

معلوم ہوا ہے کہ ان آلات کی تنصیب کا کام اسلام آباد کے ترقیاتی ادارے سی ڈی اے کو دیا گیا ہے جو کہ ایوان صدر میں ان آلات کی تنصیب کے علاوہ تزئین و آرائش کا کام بھی کر رہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق ایوان صدر میں صدارتی بیڈ روم بھی تبدیل کیا جا رہا ہے۔ موجودہ بیڈ روم دامن کوہ کی پہاڑیوں سے صاف دکھائی دیتا ہے۔

صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف انیس سو اٹھانوے سے اُس وقت سے راولپنڈی میں واقع آرمی ہاؤس میں رہ رہ رہے ہیں جب انہیں آرمی چیف بنایا گیا تھا۔ اس کے بعد چھ اکتوبر سنہ دوہزار سات میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے بعد دوبارہ صدر منتخب ہونے اور آرمی چیف کا عہدہ چھوڑنے کے بعد آرمی ہاؤس کو صدارتی کیمپ کا درجہ دیا گیا۔

سیاسی جماعتوں اور سابقہ فوجی افسران نے آرمی ہاؤس کو صدارتی کیمپ قرار دینے کے فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور کہا تھا کہ آرمی ہاؤس کو سیاسی سرگرمیوں کا مرکز نہیں بنانا چاہیے۔

واضح رہے کہ صدر پرویز مشرف آرمی ہاؤس میں سیاسی جماعتوں کے قائدین بالخصوص سابق حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ قاف کے قائدین اور ارکان پارلیمنٹ سے ملاقات کرتے رہتے ہیں۔

ادھر ریٹائرڈ فوجی افسران سنیچر کو ایک مظاہرہ کر رہے ہیں جس میں صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف سے آرمی ہاؤس خالی کرنے کا مطالبہ کیا جائےگا۔

سیکیورٹی کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے آئندہ دو ماہ میں ایوان صدر منتقلی کے سلسلے میں اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کردی گئی ہیں کہ وہ ایوان صدر کے قریبی علاقوں میں سرچ آپریشن کریں اور ایسے سماج دشمن عناصر کو گرفتار کریں جنہوں نے ان بستیوں میں اپنی آماجگاہیں بنا رکھی ہیں۔

ذرائع کے مطابق اس وقت ایوان صدر میں چارسو سے زائد سیکیورٹی اہلکار تعینات ہیں جن میں سے دو سو کا تعلق اسلام آباد پولیس سے ہے۔ ایوان صدر کے سیکیورٹی انچارج ایس ایس پی ڈاکٹر نعیم سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ صدر کی سیکیورٹی ایک خفیہ معاملہ ہوتا ہے اور وہ اس کے بارے میں کچھ نہیں بتا سکتے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد