’سبکدوش ہونے کا سوال ہی نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر پرویز مشرف نے کہا ہے کہ وہ پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے کے اپنے آئینی اختیارات کو استعمال نہیں کریں گے اور اس سلسلے میں میڈیا میں آنے والی خبریں درست نہیں ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ وہ اپنے عہدے سے سبکدوش ہو جائیں۔ امریکی اخبار ’واشنگٹن ٹائمز‘ کے ساتھ ایک انٹرویو میں صدر مشرف نے اس بات کی بھی تردید کی کہ وہ پارلیمنٹ کا اجلاس طلب نہ کر کے 18 فروری کے انتخابات کے نتائج کو مجروح کرنے کی کوشش کریں گے۔ پیر کو صدر پرویز مشرف نے اپنے قانونی معتعمدین کے ایک اہم اجلاس کی بھی صدارات کی جس میں ملک کی تازہ ترین سیاسی صورتِ حال اور بالخصوص اعلانِ مری پر غور ہوا۔ صدر کے حلقے یہ بات کہہ رہے ہیں کہ معزول ججز کو پارلیمینٹ کی محض ایک قرارداد سے بحال نہیں کیا جا سکتا جیسا کہ اعلامیۂ مری میں کہا گیا ہے۔
راولپنڈی میں دیئے گئے اس انٹرویو میں صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے کہا کہ ’مجھ پر کڑی سے کڑی تنقید کرنے والوں نے بھی اس امر سے اتفاق کیا ہے کہ حالیہ عام انتخابات آزادانہ اور منصفانہ منعقد ہوئے اور وہ اسی خیال کو تقویت دینا چاہتے ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ یہ سوچنا چاہئے کہ وہ شخص جس نے اپنی پوری جوانی پاکستان کا دفاع کرتے ہوئے اور گذشتہ آٹھ سال جمہوریت کو واپس پٹری پر ڈالنے کے لیے وقف کر دی، کیا وہ حکومت کو ناکام اور ملک کو سیاسی انارکی کی طرف واپس جاتا ہوا دیکھنا چاہے گا؟ ’نہیں ایسا نہیں ہو گا‘۔ صدر مشرف نے سیاسی استحکام، ملک کی اقتصادی ترقی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی کو اپنی تین اولین ترجیحات قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان میں سے سیاسی استحکام ’میری اولین ترجیح ہے کیونکہ اس کے بغیر دیگر دو اہداف حاصل نہیں کئے جا سکتے‘۔
منصبِ صدارات سے سبکدوش ہونے کے لیے دباؤکے بارے میں سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس کا ’سوال ہی پیدا نہیں ہوتا‘۔ اپنے آٹھ سالہ اقتدار کے بارے میں سوال پر صدر مشرف نے کہا کہ بلاشبہ اقتدار سنبھالنے کے بعد سے معاشی صورتحال کہیں بہتر ہے۔ ’یہ اتفاقیہ نہیں بلکہ میں نے بعض بہت باصلاحیت اور مؤثر افراد کو تعینات کیا اور ان افراد نے بہت اچھی کارکردگی دکھائی۔ مجھے سیاست میں خواتین کے کردار میں اضافہ کرنے پر بھی فخر ہے۔ اب قومی اسمبلی میں خواتین کی 60 مخصوص نشستیں ہیں۔ اس کے علاوہ خواتین پارٹی ٹکٹ پر بھی کامیاب ہوئی ہیں جس سے قانون سازی کے امور میں ان کا کردار بڑھا ہے‘۔ |
اسی بارے میں ’قرارداد سے ججز بحال نہیں ہوسکتے‘10 March, 2008 | پاکستان سیاسی مسائل، حل مفاہمت میں 10 March, 2008 | پاکستان عدلیہ کی بحالی پر اتفاق09 March, 2008 | پاکستان اصل چیف جسٹس افتخار چودھری ہیں: بےنظیر بھٹو10 November, 2007 | پاکستان مل کر حکومت بنائیں گے21 February, 2008 | پاکستان اعلانِ مری پر مِلا جلا رد عمل09 March, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||