BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 10 March, 2008, 21:04 GMT 02:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’سبکدوش ہونے کا سوال ہی نہیں‘

صدر مشرف (فائل فوٹو)
ریاستی اداروں کے درمیان محاذ آرائی قومی مفاد میں نہیں ہو گی: مشرف
صدر پرویز مشرف نے کہا ہے کہ وہ پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے کے اپنے آئینی اختیارات کو استعمال نہیں کریں گے اور اس سلسلے میں میڈیا میں آنے والی خبریں درست نہیں ہیں۔

تاہم انہوں نے واضح کیا کہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ وہ اپنے عہدے سے سبکدوش ہو جائیں۔

امریکی اخبار ’واشنگٹن ٹائمز‘ کے ساتھ ایک انٹرویو میں صدر مشرف نے اس بات کی بھی تردید کی کہ وہ پارلیمنٹ کا اجلاس طلب نہ کر کے 18 فروری کے انتخابات کے نتائج کو مجروح کرنے کی کوشش کریں گے۔

پیر کو صدر پرویز مشرف نے اپنے قانونی معتعمدین کے ایک اہم اجلاس کی بھی صدارات کی جس میں ملک کی تازہ ترین سیاسی صورتِ حال اور بالخصوص اعلانِ مری پر غور ہوا۔ صدر کے حلقے یہ بات کہہ رہے ہیں کہ معزول ججز کو پارلیمینٹ کی محض ایک قرارداد سے بحال نہیں کیا جا سکتا جیسا کہ اعلامیۂ مری میں کہا گیا ہے۔

نہیں ایسا نہیں ہوگا
 یہ سوچنا چاہئے کہ وہ شخص جس نے اپنی پوری جوانی پاکستان کا دفاع کرتے ہوئے اور گذشتہ آٹھ سال جمہوریت کو واپس پٹری پر ڈالنے کے لیے وقف کر دی، کیا وہ حکومت کو ناکام اور ملک کو سیاسی انارکی کی طرف واپس جاتا ہوا دیکھنا چاہے گا؟ نہیں ایسا نہیں ہو گا
صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف

راولپنڈی میں دیئے گئے اس انٹرویو میں صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے کہا کہ ’مجھ پر کڑی سے کڑی تنقید کرنے والوں نے بھی اس امر سے اتفاق کیا ہے کہ حالیہ عام انتخابات آزادانہ اور منصفانہ منعقد ہوئے اور وہ اسی خیال کو تقویت دینا چاہتے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ یہ سوچنا چاہئے کہ وہ شخص جس نے اپنی پوری جوانی پاکستان کا دفاع کرتے ہوئے اور گذشتہ آٹھ سال جمہوریت کو واپس پٹری پر ڈالنے کے لیے وقف کر دی، کیا وہ حکومت کو ناکام اور ملک کو سیاسی انارکی کی طرف واپس جاتا ہوا دیکھنا چاہے گا؟ ’نہیں ایسا نہیں ہو گا‘۔

صدر مشرف نے سیاسی استحکام، ملک کی اقتصادی ترقی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی کو اپنی تین اولین ترجیحات قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان میں سے سیاسی استحکام ’میری اولین ترجیح ہے کیونکہ اس کے بغیر دیگر دو اہداف حاصل نہیں کئے جا سکتے‘۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ریاستی اداروں کے درمیان محاذ آرائی قومی مفاد میں نہیں ہو گی۔ ’اگر انتخابات کے بعد سب سے پہلی چیز ایوان صدر اور حکومت کے درمیان محاذ آرائی کی صورت میں نظر آتی ہے تو کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اتحادی ممالک اور ملکی و غیر ملکی کاروباری برادری پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں؟ اس کے گمبھیر اثرات مرتب ہوں گے‘۔

منصبِ صدارات سے سبکدوش ہونے کے لیے دباؤکے بارے میں سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس کا ’سوال ہی پیدا نہیں ہوتا‘۔

اپنے آٹھ سالہ اقتدار کے بارے میں سوال پر صدر مشرف نے کہا کہ بلاشبہ اقتدار سنبھالنے کے بعد سے معاشی صورتحال کہیں بہتر ہے۔ ’یہ اتفاقیہ نہیں بلکہ میں نے بعض بہت باصلاحیت اور مؤثر افراد کو تعینات کیا اور ان افراد نے بہت اچھی کارکردگی دکھائی۔ مجھے سیاست میں خواتین کے کردار میں اضافہ کرنے پر بھی فخر ہے۔ اب قومی اسمبلی میں خواتین کی 60 مخصوص نشستیں ہیں۔ اس کے علاوہ خواتین پارٹی ٹکٹ پر بھی کامیاب ہوئی ہیں جس سے قانون سازی کے امور میں ان کا کردار بڑھا ہے‘۔

جنرل بمقابلہ جج
’نتائج حیران کن بھی ہوسکتے ہیں‘
سیاستدان سامنے آئیں
عدلیہ بحالی صرف وکلاء کا کام نہیں: معزول جج
نواز اور آصفحکومت سازی
پی پی پی اور مسلم لیگ نواز کی مشکلات
اسی بارے میں
عدلیہ کی بحالی پر اتفاق
09 March, 2008 | پاکستان
مل کر حکومت بنائیں گے
21 February, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد