کسی حد تک جا سکتے ہیں: شریف | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مخلوط حکومت میں شامل دو بڑی جماعتوں کے سربراہان یعنی پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور مسلم لیگ نون کے قائد میاں نوازشریف کے درمیان منگل کو اسلام آباد میں ایک اہم ملاقات ہو رہی ہے۔ مسلم لیگ کے قائد میاں نواز شریف کے حالیہ بیانوں کے تناظر میں اسے ایک اہم ملاقات قرار دیا جا رہے اور توقع ہے کہ اس ملاقات میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کے درمیان اتحاد کے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔ ملاقات سے ایک دن قبل بھی نواز شریف کا کہنا تھا کہ یہ ایک فیصلہ کن ملاقات ثابت ہوسکتی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی نے انہیں اختیار دے دیا ہے کہ وہ کسی بھی حد تک جاکر فیصلے کرسکتے ہیں۔ اس ملاقات کے حوالے سے پیر کو ماڈل ٹاؤن میں نواز شریف کی سربراہی میں مسلم لیگ نون کی مجلس عاملہ اور پارلیمانی پارٹی کا ایک مشاورتی اجلاس ہوا۔
اجلاس کے بعد میاں نواز شریف نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آصف زرداری نے انہیں دوپہر کے کھانے کی دعوت دی تھی جو انہوں نے قبول کرلی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ملاقات کا ایجنڈا ان کا خط ہوگا جو وہ سولہ جولائی کو پیپلز پارٹی کے شریک چئیر مین کو لکھ چکے ہیں اور انیس روز گزر جانے کے باوجود اس کا جواب نہیں آیا۔ نواز شریف نے کہا کہ اس خط میں انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر قومی اسمبلی کا اجلاس بلاکر ججوں کو بحال کیا جائے، صدر مشرف کا مواخذہ کیا جائے اور اتحادی پارٹیوں کی مشاورت سے نئے صدر کا نام طے کیا جائے۔ ملاقات کے ایجنڈے میں پیپلز پارٹی سے صدر مشرف کے خلاف غداری کے تحت محاسبہ کرنے کا مطالبہ بھی شامل ہے۔
نواز شریف نے اس ملاقات کو فیصلہ کن قرار دیا اور کہا کہ ان کی پارٹی نے انہیں آخری حد تک جانے کی مکمل اجازت دی ہے۔ صحافیوں کے بار بار کے سوالات کے باوجود انہوں نے اپنے مطالبات پورے نہ ہونے کی صورت میں کسی قسم کی ڈیڈ لائن دینے سے انکار کیا اور کہا کہ اس سے اتحاد کو خطرہ ہوگا اور وہ نہیں چاہتے کہ ڈکٹیٹر شپ کو کوئی موقع ملے۔ انہوں نے کہاکہ وہ چاہتے کہ مسلم لیگ نون اتحاد میں شامل رہے اور اس میں رہتے ہوئے عوام کے مسائل کرنے کی کوشش کرے۔ انہوں نے کہاکہ اگر اس کے باوجود بھی کوئی پیش رفت نہ ہوئی تو پھر یقیناً کوئی نہ کوئی فیصلہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے ججوں کی بحالی کے سلسلے میں پیپلز پارٹی کی مجوزہ قرارداد پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ حکمران اتحاد کی قومی اسمبلی میں تو دوتہائی اکثریت ہے لیکن سینٹ میں نہیں ہے اس لیے آئینی پیکج آہی نہیں سکتا۔ میاں نواز شریف نے کہا کہ وہ حکمران اتحادی جماعت پیپلز پارٹی کے ان فیصلوں کی ذمہ دار نہیں ہیں جن میں انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بجلی گیس اور پٹرول کی قیمیتیں بڑھانے سمیت کئی اہم معاملات پر مسلم لیگ نون سے مشاورت نہیں کی گئی۔ نواز شریف نے کہا صدر مشرف کو حکومت کی کارکردگی کا جائزہ لینے یا اس پر تبصرہ کرنے کا کوئی آئینی اور قانونی حق نہیں ہے۔ انہوں نے ملک کی اقتصادی صورتحال کےبارے میں صدر مشرف اور سابق وزیر اعظم شوکت عزیزکو مناظرے کا چیلنج کیا ہے اور کہا کہ وہ چاہتے کہ آمنے سامنے بیٹھ کر بات ہو کہ ملک کو کس نے نقصان اور کس نے فائدہ پہنچایا۔ |
اسی بارے میں چار اگست کومسلم لیگ کا اجلاس 03 August, 2008 | پاکستان دو ٹوک بات کا وقت آگیا: شریف29 July, 2008 | پاکستان نواز شریف ملک کے مقبول ترین لیڈر17 July, 2008 | پاکستان انتخابی اہلیت کیس کی سماعت ملتوی14 July, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||