پیپلز پارٹی کو سخت چیلنجز کا سامنا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پیپلز پارٹی کو بطور سیاسی جماعت جہاں سخت چیلنجز کا سامنا ہے وہاں ان کی حکومت کی مشکلات میں بھی آئے روز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ایک طرف بڑھتی ہوئی مہنگائی حکومت کے مبینہ غیرمقبول ہونے کا سبب بن رہی ہے تو دوسری طرف اتحادی جماعتوں کی ناراضگی اور اختلافات ان کے مستحکم اور مضبوط ہونے میں آڑے آرہی ہیں۔ ججوں کی بحالی کے سوال پر مسلم لیگ (ن) کے وزراء کی جانب سے کابینہ سے علیحدگی کے بعد وہ وزارتیں تاحال خالی ہیں اور ان کا اضافی چارج دیگر وزراء کے پاس ہوتے ہوئے بھی معاملات ٹھیک سے چلتے نظر نہیں آتے۔ پیپلز پارٹی کو حکومت میں ایک سو روز سے زیادہ ہو چکے ہیں لیکن اب بھی بعض مبصرین کے خیال میں حکومت پر ان کی مکمل گرفت دکھائی نہیں دیتی۔ قومی احتساب بیورو سمیت متعدد اداروں میں اب تک وہی ریٹائرڈ یا حاضر سروس افسر تعینات ہیں جو صدر پرویز مشرف کے منظور نظر رہے ہیں۔ گزشتہ دنوں گیس کے نرخوں میں ایک دم سے تیس فیصد اضافے کا اعلان کیا گیا جو کہ کبھی غیرسیاسی دور میں بھی اتنی بڑی شرح میں ایک دم سے اضافہ نہیں کیا گیا۔ بجلی پر پندرہ فیصد جنرل سیلز ٹیکس کی جو چھوٹ مشرف دور میں دی گئی وہ موجود ہ حکومت نے واپس لے لی ہے۔ جب تیل کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافے کی وجہ سے لوگ پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہوں وہاں گیس اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ غریب اور متوسط طبقات کے لیے یقینا کسی خود کش حملے سے کم نہیں ہے۔ ایک طرف خود پیپلز پارٹی کو مخدوم امین فہیم جیسے سینئر رہنماؤں کی تنقید کا سامنا ہے تو دوسری طرف غنویٰ بھٹو، ممتاز بھٹو اور غلام مصطفیٰ کھر پیپلز پارٹی کی سیاسی وراثت کا سوال اٹھاتے ہوئے مبینہ طور پر پس پردہ قوتوں کے تعاون سے سرگرمِ عمل ہیں۔ پیپلز پارٹی کے ایک سینئر رہنما سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے بھی اپنی جماعت کی بقا اور حکومت کے لیے بھرپور خطرات کے خدشات کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق آئندہ چھ سے آٹھ ہفتوں میں اگر صدر پرویز مشرف کو نہیں ہٹایا گیا تو وہ اس حکومت کو چند ماہ میں چلتا کردیں گے۔ پیپلز پارٹی کے ہی ایک رکن قومی اسمبلی جو کابینہ میں آئندہ توسیع کے وقت وزیر بننے کے لیے بھی پرامید ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیبلشمینٹ نے کبھی پیپلزپارٹی کو برداشت نہیں کیا۔ انہوں نے ایک نئے خدشے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’پہلی بار پیپلز پارٹی کو چاروں صوبوں میں بھرپور نمائندگی ملی ہے اور مارچ دو ہزار نو میں جب ایوان بالا سینیٹ کے نصف اراکین کا انتخاب ہوگا تو سینیٹ میں پیپلز پارٹی سب سے بڑی جماعت کے طور پر سامنے آئے گی جوکہ اسٹیبلشمینٹ کبھی نہیں چاہے گی۔‘ ان کے مطابق ’یہی وجہ ہے کہ حکومت کو تیزی سے غیرمقبول کرنے کا کام شروع ہوگیا تاکہ سینیٹ کے الیکشن سے قبل ہی کام تمام ہوجائے۔‘ ان کے بقول حکومت کو فوری طور پر مہنگائی کم کرنے، پارٹی کے ناراض ساتھیوں کو یکجا کرنے، صدر پرویز مشرف کو ہٹانے اور متحدہ قومی موومنٹ سے تعلقات پر نظر ثانی کرنی ہوگی۔ بعض مبصرین کہتے ہیں کہ رواں سال نومبر میں امریکی انتخابات سے پہلے صدر پرویز مشرف کو ہٹانا پیپلز پارٹی اور ان کی اتحادی جماعتوں کے لیے بڑا مشکل کام ہے کیونکہ بش انتظامیہ کی مداخلت کا خدشہ ہے۔ نتائج کچھ بھی نکلیں وقت پیپلز پارٹی کے ہاتھ سے تیزی کے ساتھ نکل رہا ہے اور ہر روز حکومت کمزور اور صدر پرویز مشرف مضبوط ہوتے جا رہے ہیں اور پیپلز پارٹی کو اب ’کرو یا مرو‘ کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں بچا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||