BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 22 July, 2008, 12:46 GMT 17:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حکمران اتحاد اجلاس، فیصلے ممکن نہیں

نواز اور شہباز
نواز شریف کی جگہ اس اہم اجلاس میں شہباز شریف شرکت کریں گے
مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کی جانب سے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی درخواست پر بدھ کو طلب کیےگئے اتحادی جماعتوں کے سربراہی اجلاس میں شرکت نہ کرنے سے اس اجلاس میں کسی اہم فیصلے کی توقع نہیں کی جا رہی ہے۔

تاہم توقع ہے کہ اس دو روزہ اجلاس سے عوامی نیشنل پارٹی اور جعمیت علماء اسلام جیسی چھوٹی جماعتوں کو اپنی شکایات دور کرنے میں مدد ملے گی۔

ناراض اتحادی مسلم لیگ (ن) کے ترجمان صدیق الفاروق نے بی بی سی کو بتایا کہ نواز شریف کی جگہ اس اہم اجلاس میں جماعت کے صدر اور وزیر اعلٰی پنجاب شہباز شریف شرکت کریں گے۔

’نواز شریف صاحب کی خواہش تھی کہ وہ اجلاس میں شرکت کریں تاہم جیسا کہ سب کو معلوم ہے کہ ان کی اہلیہ کی ریڑھ کی ہڈی کا آپریشن ہوا ہے اور ان کے بیٹے حسن نواز کا بھی علاج ہو رہا ہے۔ امید ہے کہ وہ اسی یا آئندہ ہفتے پاکستان آ جائیں گے۔‘

وزیر اعظم ہاوس میں ہونے والا یہ اجلاس چاروں اتحادی جماعتوں کے درمیان حکومت سازی کے بعد پہلا اجلاس قرار دیا جا رہا ہے۔ کئی مبصرین کے مطابق اس تاخیر سے منعقد ہونے والے اجلاس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حکومت چار ماہ پیچھے چل رہی ہے۔

اس اجلاس کے طلب کیے جانے کا اعلان کرتے ہوئے وزیر اعظم نے اس کا بنیادی مقصد ملک میں امن و امان کی صورتحال پر تبادلہ خیال اور ایک مشترکہ پالیسی طے کرنا بتایا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پہلے دن کے اجلاس میں فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی اور خفیہ ایجنسیوں کے حکام سربراہان کو سکیورٹی کی صورتحال سے آگاہ کریں گے۔ یہ حکمراں اتحاد کو اس قسم کی دوسری بریفنگ ہوگی۔

چار ماہ پیچھے
 وزیر اعظم ہاوس میں ہونے والا یہ اجلاس چاروں اتحادی جماعتوں کے درمیان حکومت سازی کے بعد پہلا اجلاس قرار دیا جا رہا ہے۔ کئی مبصرین کے مطابق اس تاخیر سے منعقد ہونے والے اجلاس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حکومت چار ماہ پیچھے چل رہی ہے۔

اس اجلاس سے وزیر اعظم کے دورے امریکہ سے قبل حزب اختلاف کی تجویز پر پارلیمان کا مشترکہ اجلاس تو طلب نہیں کیا گیا تاہم دہشت گردی کے خلاف جنگ سے متعلق کم از کم اتحادیوں کی سطح پر قومی اتفاق رائے حاصل کرنے کی بھی کوشش کی جائے گی۔

تاہم توقع ہے کہ اجلاس کے اگلے دن یعنی جمعرات کو یہ چار اتحادی آپس میں بیٹھ کر سیاسی اختلافات کے خاتمے پر غور کریں گے۔ اس دوران معزول ججوں کی بحالی، صدر کے مواخذے اور اتحادیوں کی آپس کی شکایات جیسے متنازعہ معاملات پر بھی بات ہوگی۔

یہ ملاقات ایک ایسے وقت ہوگی جب بعض اطلاعات کے مطابق مسلم لیگ (ن) نے پیپلز پارٹی کو ججوں کا مسئلہ حل کرنے کے لیے چودہ اگست تک کی مہلت دے رکھی ہے۔

صدیق الفاروق کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت امید کر رہی ہے کہ اس معاملے پر اس اجلاس میں پیش رفت ضرور ہوگی۔ ’کوئی ایسا مسئلہ نہیں جو حکمرانوں یا سیاستدانوں کی نظروں سے اوجھل ہو۔ سب کو معلوم ہے کیا کرنا ہے۔‘

مسلم لیگ (ن) کا کہنا ہے کہ ججوں کی بحالی کے طریقہ کار پر اتفاق سے اس وقت حکومت کی کمزوری اور غیرمستحکم ہونے کا تاثر دور ہوسکے گا۔ دوسری جانب وزیر اعظم یہ مانتے ہوئے کہ ان کے مسلم لیگ کے ساتھ اختلافات موجود ہیں کہا ہے کہ انہیں امید ہے کہ وہ حکمران اتحاد کو خیرباد نہیں کہیں گے۔

لیکن ایک مسئلہ جو موجودہ اتحادی حکومت کی کارکردگی کو انتہائی بری طرح سے متاثر کر رہا ہے وہ ہے نامکمل وفاقی کابینہ کا۔ مسلم لیگ (ن) کے وزراء کے مستعفی ہونے کے بعد سے یہ وزارتیں خالی رکھی جا رہی ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ کابینہ میں توسیع سے متعلق بھی اتحادیوں کو اعتماد میں لیے جانے کی کوشش کی جائے۔

کابینہ
 ایک مسئلہ جو موجودہ اتحادی حکومت کی کارکردگی کو انتہائی بری طرح سے متاثر کر رہی ہے وہ ہے نامکمل وفاقی کابینہ کا۔ مسلم لیگ (ن) کے وزراء کے مستعفی ہونے کے بعد سے یہ وزارتیں خالی رکھی جا رہی ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ کابینہ میں توسیع سے متعلق بھی اتحادیوں کو اعتماد میں لیے جانے کی کوشش کی جائے۔

پیپلز پارٹی کے ذرائع کے مطابق توقع ہے کہ وفاقی کابینہ میں بیس نئے وزراء شامل کیے جائیں گے۔

دوسری جانب چھوٹی اتحادی جماعتیں امید کر رہی ہیں کہ اس اجلاس سے ان کی شکایات دور کرنے میں مدد ملے گی۔ خیال ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی ان کو دی جانے والی وزارتوں میں مداخلت کا معاملہ بھی اٹھائیں گے۔ اے این پی کو شکایت رہی ہے کہ بڑی اتحادی جماعتیں ان کو ملی وزارتوں میں بغیر مشاورت کے تقرریاں اور تبادلے کر رہی ہے۔

اے این پی کے ترجمان زاہد خان نے اس اجلاس کو معمول کا عمل قرار دیا۔ انہوں نے اس تاثر کی تاہم نفی کی کہ نواز شریف کی عدم شرکت سے اجلاس میں اہم فیصلہ نہیں ہو پائیں گے۔ ’ضروری نہیں کہ ہر اجلاس میں جماعتی سربراہ
شریک ہو۔ ان کا جو بھی آئے گا اختیار کے ساتھ آئے گا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ سربراہی اجلاس میں چھوٹے موٹے اختلافات پر شاید بات نہ ہوں لیکن قومی معملات پر زیادہ بات ہوگی۔

مولانا فضل الرحمان بھی لیبیا کے دورے سے واپس لوٹ چکے ہیں اور کل کے اجلاس میں شرکت کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ماضی میں وہ بھی قبائلی علاقوں اور صوبہ سرحد میں عسکری کارروائیوں پر عدم اطمینان کا اظہار کرچکے ہیں۔

ان کا کہنا رہا ہے کہ انہیں اس بابت اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ وطن واپسی پر مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ وہ حکومت میں رہتے ہوئے بھی وہی کہیں گے جو ان کا نظریہ ہے۔

چاروں اتحادیوں کے نظریات اور مفادات پر بات تو اس دو دن کے مذاکرات میں ہوگی لیکن نواز شریف کی عدم شرکت کی وجہ سے کسی بڑے فیصلے کی توقع کم ہی کی جا رہی ہے۔

نیا آئینی تصادم؟
ججز کی بحالی - ایک قدم آگے دو قدم پیچھے
جسٹس افتخار چودھریبحالی میں دیر کیوں؟
ججوں پر حکمران اتحاد میں اختلافات واضح
ججز کی بحالی کا کیا ہوگا؟ججز کی بحالی
حکم نامہ، قرارداد یا اسمبلی کی تحلیل؟
نواز شریف، زرداری’مقبول ترین رہنما‘
نواز شریف اور مسلم لیگ مقبول ترین
نواز شریفنواز شریف سے اپیل
لاپتہ افراد کے عزیزوں کی نواز شریف سے ملاقات
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد