صدر کا مواخذہ ہو گا: خواجہ آصف | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان مسلم لیگ نواز کے سینیئر رہنما خواجہ آصف نے کہا ہے کہہ مسلم لیگ اور اس کی اتحادی جماعتیں صدر پرویز مشرف کا جلد مواخذہ کرنے والی ہیں۔ کراچی سے اسلام آباد واپسی پر انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مواخذے کے لیے ہمیں اراکینِ پارلیمان کی ضرورت ہے اور اس کے لیے ہم اپنے اتحادیوں سے بات چیت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر مشرف کو قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں سے اعتماد کا ووٹ لینا پڑے گا اور اگر وہ اعتماد کا ووٹ نہیں لیں گے تو ہمیں انہیں گزشتہ ایک سال سے ملک اور عوام کے خلاف کیے گئے جرائم کی پاداش میں چارج شیٹ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں تینوں جماعتوں کا اتفاق ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر کے مواخذے اور ججوں کی بحالی جیسے معاملات پر اتحادی جماعتوں میں اتفاقِ رائے ہے۔ ’اب صرف مشترکہ اعلامیہ جاری ہو گا۔‘ اس سے قبل پاکستان کے چار جماعتی حکومتی اتحاد کی دو بڑی جماعتوں کے سربراہان آصف علی زرداری اور میاں نوازشریف کے درمیان اسلام آباد میں چھ گھنٹے کی ملاقات میں اختلافی امور طے نہیں پا سکے اور فریقین کے درمیان بدھ کو بھی بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق ہوا ہے۔ دونوں رہنماؤں کی مشترکہ بریفنگ کا اہتمام بھی کیا گیا لیکن عین وقت پر فیصلہ منسوخ کیا گیا اور زرداری ہاؤس میں چھ گھنٹے گزارنے کے بعد میاں نواز شریف اپنے ساتھیوں کے ساتھ میڈیا سے بات کیے بغیر روانہ ہوگئے۔ پیپلز پارٹی کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے زرداری ہاؤس کے باہر کئی گھنٹے تک بارش کے باوجود انتظار کرنے والے صحافیوں کو بتایا کہ فریقین میں بدھ کو دوبارہ میٹنگ ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کل کے مذاکرات میں حصہ لیں گے۔ وزیر اطلاعات شیری رحمان اور پنجاب کے وزیر اعلی شہباز شریف عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی کو بات چیت میں شرکت پر مائل کرنے یا پھر ان کا موقف معلوم کرنے کی غرض سے کراچی گئے ہیں۔ فرحت اللہ بابر نے بعد میں جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ دونوں رہنماؤں میں اہم معاملات پر وسیع تر اتفاق رائے ہوچکا ہے اور بات چیت کافی خوشگوار ماحول اور مثبت انداز میں ہوئی۔ منگل کو مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نواز شریف، میاں شہباز شریف، چودھری نثار علی خان، اسحاق ڈار اور خواجہ آصف کے ہمراہ زرداری ہاؤس پہنچے اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے ساتھ طویل بات چیت کی۔ ظہرانے پر ہونے والی اس ملاقات میں پیپلز پارٹی کے شریک چئرمین آصف علی زرداری کی معاونت سید خورشید شاہ، رضا ربانی، شیری رحمان، جہانگیر بدر اور قمر الزمان کائرہ نے کی جبکہ آخر میں وزیر قانون فاروق نائیک بھی زرداری ہاؤس پہنچے۔ اطلاعات کے مطابق وزیر قانون نے حکومت کے تیار کردہ آئینی پیکیج کے ابتدائی مسودے میں ردو بدل کے بارے میں بریفنگ دی۔ میاں نواز شریف کے زرداری ہاؤس میں موجودگی کے دوران چین کے سفیر آصف علی زرداری سے پہلے سے طے شدہ پروگرام کے تحت ملاقات کے لیے پہنچے۔ واضح رہے کہ اس ملاقات سے محض ایک روز قبل میاں نواز شریف نے لاہور میں جبکہ آضف علی زرداری نے اسلام آباد میں اپنی جماعت کے سرکردہ رہنماؤں سے مشاورت کی تھی۔ پیپلز پارٹی کے مشاورتی اجلاس کے بعد وزیر قانون فاروق ایچ نائیک سے منسوب ذرائع ابلاغ میں یہ خبر نشر ہوئی کہ ’حکومت تمام ججوں کو سینارٹی کے مطابق بحال کرنے کو تیار ہے اور معزول ججوں کو صدر پرویز مشرف کے ہاتھوں نیا حلف اٹھانا ہوگا‘۔ لیکن منگل کو فاروق نائیک نے اس کی تردید کی اور کہا کہ معزول چیف جسٹس کے علاوہ دیگر ججوں کو موجودہ چیف جسٹس سے حلف لینا ہوگا۔ پیر کو لاہور میں میاں نواز شریف نے اپنی جماعت کے اجلاس کے بعد کہا تھا کہ منگل کو آصف علی زرداری کے ساتھ ان کی ملاقات فیصلہ کن ثابت ہوسکتی ہے۔ ان کے بقول مسلم لیگ (ن) نے انہیں اختیار دے دیا ہے کہ وہ کسی بھی حد تک جا کر فیصلے کرسکتے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنماء نے یہ بھی کہا تھا کہ آصف علی زرداری کے ساتھ ان کی ملاقات کا ایجنڈا ان کا وہ خط ہوگا جو سولہ جولائی کو انہوں نے پیپلز پارٹی کے شریک چئیرمین کو بھیجا تھا۔ میاں نواز شریف سے جب پوچھا گیا تھا کہ منگل کی ملاقات میں اگر ان کے مطالبات تسلیم نہیں ہوتے تو کیا وہ کوئی نئی ڈیڈ لائن دیں گے تو انہوں نے کہا تھا کہ وہ کوئی ڈیڈ لائن نہیں دیں گے کیونکہ اس سے حکمران اتحاد کو خطرہ لاحق ہوگا اور وہ نہیں چاہتے کہ ڈکٹیٹرشپ کو کوئی موقع ملے۔ انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ مسلم لیگ نون اتحاد میں شامل رہے اور اس میں رہتے ہوئے عوام کے مسائل کرنے کی کوشش کرے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس کے باوجود بھی کوئی پیش رفت نہ ہوئی تو پھر یقیناً کوئی نہ کوئی فیصلہ کرنا ہوگا۔ پاکستان کا میڈیا میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری کے درمیاں ہونے والی ملاقات کو فیصلہ کن قرار دیتے ہوئے اس سے یہ نتیجہ اخذ کر رہا ہے کہ حکمران اتحاد کے ٹوٹنے یا برقرار رہنے کا فیصلہ ہوسکتا ہے۔ لیکن بعض تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ججوں کی بحالی سمیت مختلف معاملات پر دونوں بڑی اتحادی جماعتوں کے درمیاں واضح اختلاف رائے ہونے کے باوجود بھی مسلم لیگ (ن) حکمران اتحاد سے علیحدگی جیسا کوئی بڑا فیصلہ عجلت میں نہیں کرنا چاہے گی۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ مسلم لیگ (ن) کو پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال کا پورا ادراک ہے کہ اس طرح کے کسی بھی ان کے فیصلے سے صدر مشرف کی حامی مسلم لیگ (ق) کو پنجاب میں تقویت مل سکتی ہے جو کہ مسلم لیگ (ن) کے سیاسی وجود کے لیے ایک بڑا دھچکا ہوگا۔ | اسی بارے میں زرداری، نواز شریف ملاقات ختم05 August, 2008 | پاکستان کسی حد تک جا سکتے ہیں: شریف04 August, 2008 | پاکستان پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف04 August, 2008 | پاکستان بائیکاٹ، حکومتی پالیسی پر تنقید05 August, 2008 | پاکستان معاشی کارکردگی پر تحفظات ہیں:مشرف02 August, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||