BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 05 August, 2008, 17:43 GMT 22:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
خفیہ ادارے، کنٹرول وزیرِ اعظم کے پاس

یوسف رضا گیلانی
نوٹیفیکیشن رات گئے آصف زرداری اور یوسف رضا گیلانی کے درمیان ملاقات کے بعد جاری کیا گیا
پاکستانی انٹیلیجنس ایجنسی آئی ایس آئی اور آئی بی کو وزیر اعظم کے زیر کنٹرول کرنے کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔

اس سے قبل 26 جولائی کو دونوں ایجنسیوں کے بارے میں جو نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا تھا اس کو معطل کر دیا گیا ہے۔ اس نوٹیفیکیشن کے مطابق دونوں ایجنسیاں وزارتِ داخلہ کے ماتحت تھیں۔ لیکن اس کے فوراً بعد حکومت کی طرف سسے ایک وضاحتی بیان جاری ہوا جس میں کہا گیا کہ آئی ایس آئی بدستور وزیرِ اعظم کے ماتحت ہی کام کرے گی۔ تاہم اس حوالے سے کوئی نوٹیفیکیشن جاری نہیں ہوا تھا۔

حکومت کے اس فیصلے کو کافی تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا اور سیاسی جماعتوں نے کہا تھاکہ اس سے ملکی سلامتی کو خطرہ ہے۔ حالیہ فیصلہ سیاسی جماعتوں کے دباؤ کے بعد ہی کیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ رات گئے وزیرِ اعظم اور آصف علی زرداری کے درمیان ایک ملاقات کے بعد سامنے آیا ہے۔

اس سے قبل سینٹ میں حزب اختلاف نے منگل کے روز پاکستانی انٹیلیجنس ایجنسی آئی ایس آئی کو وزیر اعظم کے زیر کنٹرول کرنے کے بارے میں حکومت کی طرف سے نوٹیفکیشن جاری نہ کرنے کے خلاف اجلاس سے واک آؤٹ کیا۔

بعدازاں انہوں نے اپنا احتجاج ختم کردیا اور ایوان میں تقریروں کے دوران حزب اختلاف کے سینیٹروں نے آئی ایس آئی کو وزارت داخلہ کے کنٹرول میں دینے کے حکومت کے فیصلے اور حکومت کی خارجہ پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

پاکستان مسلم لیگ قاف کے سینیٹر وسیم سجاد نے کہا کہ آئی آیس آئی کو سول حکومت کے ماتحت ہونا چاہیے تاہم انہوں نے اس کو وزارت داخلہ کے کنٹرول میں دینے کی مخالفت کی۔

انہوں نے کہا کہ جس طرح دفاع کے بارے میں پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹی بنی ہوئی ہے اُسی طرح انٹیلجنس ایجنسیوں کے بارے میں بھی ایک کمیٹی بنائی جائے جو پارلیمنٹ کو اس کی کارکردگی کے بارے میں بتائے۔

قائمہ کمیٹی
 جس طرح دفاع کے بارے میں پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹی بنی ہوئی ہے اُسی طرح انٹیلجنس ایجنسیوں کے بارے میں بھی ایک کمیٹی بنائی جائے جو پارلیمنٹ کو اس کی کارکردگی کے بارے میں بتائے۔
وسیم سجاد

سینیٹر ایس ایم ظفر نے اپنی تقریر میں حکومت کی خارجہ پالیسی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کمزور خارجہ پالیسی کی وجہ سے ملک پر بیرونی دباؤ بڑھ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کے دورہ امریکہ سے ملکی وقار مجروح ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے دورہ امریکہ کے دوران اتحادی افواج نے پاکستان کے قبائلی علاقوں پر حملہ کیا جس کی وزیراعظم نے اپنے دورے کے دوران ایک مرتبہ بھی مذمت نہیں کی۔

ایس ایم ظفر نے کہا کہ وزیر اعظم کو امریکہ جانے سے پہلے پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا چاہیے تھا۔ انہوں نے سید یوسف رضا گیلانی کو مشورہ دیا کہ ایسے غیر ملکی دوروں میں خاندان کے افراد کو ساتھ لیکر نہیں جانا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت نے کئی محاذوں پر عوام کو مایوس کیا ہے۔

پاکستان مسلم لیگ قاف کی سینیٹر یاسمین شاہ نے کہا کہ آئی ایس آئی کو وزارت داخلہ کے ماتحت کرنے کا نوٹیفکیشن ایک سازش کے تحت کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اس سازش کے تین کردار ہیں جن میں امریکہ میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی، داخلہ امور کے بارے میں وزیر اعظم کے مشیر رحمان ملک اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری شامل ہیں۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ حسین حقانی تعیناتی سے پہلے امریکہ میں بھارتی سفارتخانے کے لیے کام کیا کرتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ آئی ایس آئی کو کمزور کرنا پاکستانی فوج کو کمزور کرنے کے مترادف ہے اور اُن کی جماعت ایسی کسی بھی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دے گی۔

عوامی نیشنل پارٹی کے سینیٹر حاجی عدیل نے کہا کہ آئی ایس آئی کو پارلیمنٹ کے سامنے جوابدہ ہونا چاہیے۔

جمیعت علمائے اسلام کے سینیٹر ڈاکٹر خالد محمود سومرو نے کہا کہ اس وقت ملک میں صدر پرویز مشرف کی خارجہ پالیسی ہی چل رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر مشرف نے پاکستان کو امریکہ کی کالونی میں تبدیل کردیا ہے اور پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات غلام اور آقا جیسے ہیں۔

 قبائلی علاقوں میں شروع کی گئی جنگ دہشت گردوں کے خلاف نہیں بلکہ مسلمانوں کی نسل کُشی کی جنگ ہے۔
ڈاکٹر خالد محمود سومرو

انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں جتنا قتل عام ہورہا ہے اُس کی ذمہ داری پرویز مشرف کے ساتھ ساتھ سابق حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ قاف پر بھی عائد ہوتی ہے۔ ’قبائلی علاقوں میں شروع کی گئی جنگ دہشت گردوں کے خلاف نہیں بلکہ مسلمانوں کی نسل کُشی کی جنگ ہے۔‘

فاٹا سے تعلق رکھنے والے سینیٹر صالح شاہ نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں طاقت کا استعمال نہیں ہونا چاہیے بلکہ مزاکرات کے ذریعے مسائل کا حل نکالنا چاہیے۔ ’اگر طاقت کا استعمال جاری رہا تو ملک کے دوسرے علاقے بھی جنگ کی لپیٹ میں آجائیں گے۔‘

سینیٹر سیلم سیف اللہ نے تجویز دی کہ ملک کو درپیش مسائل کے حل کے لیے آل پارٹیز کانفرنس بُلائی جائے اور کوئی بھی اقدام کرنے سے پہلے تمام جماعتوں کو اعتماد میں لیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ انہیں اس بات کا اب تک افسوس ہے کہ وہ اس کابینہ کا حصہ تھے جس نے این آر او کی منظوری دی تھی۔

سینٹ کا اجلاس بدھ کو دوبارہ ہوگا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد